سینئر سیاستدان معراج محمد خان کی رحلت
معراج محمد خان سیاست میں اصولوں کی پاسداری اور اخلاقی اقدار کے حامی تھے
ہماری دلی دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ انھیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے (آمین)۔ فوٹو : فائل
سینئر سیاست دان معراج محمد خان طویل علالت کے بعد جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کراچی میں انتقال کر گئے۔ مرحوم کی عمر 78سال تھی۔ معراج محمد خان بلند پایہ شخصیت، نفیس طبیعت اور وضعدار انسان تھے جنھوں نے سیاست کے میدان میں اقدار و روایات کی پاسداری کرتے ہوئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ وہ 20 اکتوبر 1938ء کو بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر فرخ آباد میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ زمانہ طالب علمی میں وہ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) کے صدر رہے۔ معراج محمد خان نے جنرل ایوب کے 1962ء کے مارشل لاء کے خلاف تحریک شروع کی جس کے نتیجے میں 12طالب علم رہنماؤں کے ساتھ انھیں شہر بدر کیا گیا۔
مرحوم کا شمار ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا، وہ 1971ء سے 1973ء کے درمیان وفاقی وزیر رہے، 30 نومبر 1967ء سے 22 اکتوبر 1974ء تک وہ پیپلز پارٹی کے نائب صدر بھی رہے۔ بعد ازاں سیاسی اختلافات کے باعث وہ پیپلز پارٹی سے کنارہ کش ہو گئے۔ واضح رہے کہ اختلافات پیدا ہونے سے پہلے تک بھٹو نے انھیں اپنا جانشین نامزد کیا تھا۔ انھوں نے قومی محاذ آزادی کے نام سے سیاسی جماعت بھی بنائی۔ مرحوم اپنے بائیں بازو کے نظریات کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ یہ المیہ ہے کہ نظریاتی اور عوام سے کمیٹڈ سیاسی رہنما آہستہ آہستہ ہمارے درمیان سے اٹھتے جا رہے ہیں ۔ معراج محمد خان نے ہمیشہ غریب اور کچلے ہوئے انسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔
بائیں بازو کے حلقوں میں انھیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ معراج محمد خان سیاست میں اصولوں کی پاسداری اور اخلاقی اقدار کے حامی تھے یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا پہلا سیکریٹری جنرل ہونے کے باوجود انھوں نے عمران خان سے تنظیمی امور پر اختلافات کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ معراج صحافیوں کے ہر دلعزیز رہنما منہاج برنا مرحوم اور معروف شاعر دُکھی پریم نگری (وہاج محمد خان) کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کے انتقال پر نہ صرف سیاسی دنیا بلکہ صحافت سے وابستہ افراد بھی رنج و غم میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ہماری دلی دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ انھیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے (آمین)۔
مرحوم کا شمار ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا، وہ 1971ء سے 1973ء کے درمیان وفاقی وزیر رہے، 30 نومبر 1967ء سے 22 اکتوبر 1974ء تک وہ پیپلز پارٹی کے نائب صدر بھی رہے۔ بعد ازاں سیاسی اختلافات کے باعث وہ پیپلز پارٹی سے کنارہ کش ہو گئے۔ واضح رہے کہ اختلافات پیدا ہونے سے پہلے تک بھٹو نے انھیں اپنا جانشین نامزد کیا تھا۔ انھوں نے قومی محاذ آزادی کے نام سے سیاسی جماعت بھی بنائی۔ مرحوم اپنے بائیں بازو کے نظریات کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ یہ المیہ ہے کہ نظریاتی اور عوام سے کمیٹڈ سیاسی رہنما آہستہ آہستہ ہمارے درمیان سے اٹھتے جا رہے ہیں ۔ معراج محمد خان نے ہمیشہ غریب اور کچلے ہوئے انسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔
بائیں بازو کے حلقوں میں انھیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ معراج محمد خان سیاست میں اصولوں کی پاسداری اور اخلاقی اقدار کے حامی تھے یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا پہلا سیکریٹری جنرل ہونے کے باوجود انھوں نے عمران خان سے تنظیمی امور پر اختلافات کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ معراج صحافیوں کے ہر دلعزیز رہنما منہاج برنا مرحوم اور معروف شاعر دُکھی پریم نگری (وہاج محمد خان) کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کے انتقال پر نہ صرف سیاسی دنیا بلکہ صحافت سے وابستہ افراد بھی رنج و غم میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ہماری دلی دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ انھیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے (آمین)۔