ٹیکس چوری ایف بی آر کو وزارت قانون سے رجوع کی درخواست

بڑی کاسمیٹکس کمپنی نے کارروائی پرڈیڑھ کروڑادا،10.5کروڑکے چیک دیے،دستاویز

بڑی کاسمیٹکس کمپنی نے کارروائی پرڈیڑھ کروڑادا،10.5کروڑکے چیک دیے،دستاویز۔ فوٹو: فائل

ایف بی آر نے کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری کے کیس میں ایپلٹ ٹربیونل لاہور کی جانب سے حقائق کے منافی فیصلہ دینے سے متعلق وزارت قانون سے رجوع کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایف بی آر اس کیس میں وزارت قانون کے ذریعے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو لاہور کے فیصلے کے بارے میں وضاحت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ تاریخی اقدام ہوگا۔ ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویزکے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے ٹیکس چوری میں ملوث بڑی کاسمیٹکس کمپنی کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے 5 سی پی یوز اور 3 لیپ ٹاپ سمیت دیگر ریکارڈ قبضے میں لیا تھا ۔


جس کی بنیاد پر تحقیقات کے دوران مذکورہ کمپنی کے کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شواہدملے اور ان شواہد کی بنیاد پر کارروائی شروع کی گئی،تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ کمپنی نے یکم جنوری 2013 سے 31 دسمبر2014 تک 1 ارب61کروڑ29 لاکھ 80 ہزار 548 روپے کے معروف برانڈ کی کاسمیٹکس کے 3لاکھ 34 ہزار 341 کارٹن سپلائی کیے اور اس عرصے میں 14 لاکھ 35 ہزار 271 روپے کی سیل ظاہر کی جس پر صرف 2 لاکھ20 ہزار 357 روپے سیلز ٹیکس دیا گیا جبکہ مذکورہ کاسمیٹکس کمپنی کی جانب سے 1ارب 61کروڑ15 لاکھ 45ہزار277روپے مالیت کی سپلائی کردہ پروڈکشن کو ظاہر کیا گیا ہے جس کے باعث 26کروڑ87 لاکھ 50 ہزار83 روپے کا سیلز ٹیکس بچایا گیا۔

دستاویز کے مطابق کیس کی تحقیقات کے دوران کمپنی کے حکام کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنساینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کے حکام کو بتایا گیا کہ مذکورہ کاسمیٹکس کمپنی نے رضاکارانہ طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع کرادیے ہیں جبکہ چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو زون تھری آر ٹی او لاہور کے نام کے ساڑھے 10کروڑ روپے کے پوسٹ ڈیٹڈ چیک جمع کرادیے ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو لاہور نے مذکورہ کمپنی کے بارے میں ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں مگر ایپلٹ ٹربیول ان لینڈ ریونیو لاہور نے ریکارڈ پر موجود تمام حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ دیا۔

دستاویز میں فراہم کیے جانے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی جانب سے ایف بی آر سے درخواست کی گئی ہے کہ اس معاملے میں وزارت قانون سے رجوع کیا جائے اور وزارت قانون کے سامنے اس کیس کے تمام شواہد پیش کیے جائیں اور وزارت قانون کے ذریعے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو کے مذکورہ کیس میں فیصلہ دینے والے بنچ سے اس حقائق کو نظر انداز کرکے فیصلے کی وضاحت طلب کی جائے۔
Load Next Story