کابل میں میونخ میں دہشت گردی
پاکستان میں سرگرم عمل دہشت گردوں کے گروہوں کے بھی داعش کے ساتھ روابط کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا
اب داعش جنوبی ایشیا میں بھی اپنی موجودگی کو ظاہر کر رہی ہے۔ فوٹو؛ اے ایف پی
جرمنی کے شہر میونخ کے ایک شاپنگ سینٹر میں فائرنگ کے واقعے میں8افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ متعدد زخمی بھی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ میونح پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل کر دی گئی اور شہر کا مرکزی ریلوے اسٹیشن خالی کرا لیا گیا ہے۔
بعض حلقے دعویٰ کررہے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد پندرہ تک ہو سکتی ہے۔ان سطور کے لکھے جانے تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس دہشت گردی میں کون سی تنظیم یا گروہ ملوث ہے۔ ادھر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہفتے کے روز ایک مظاہرے میں دھماکے کے نتیجے میں 60 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس حملے کے بارے میں کہا جاتا ہے، داعش نے اس کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر چل رہی ہے۔ یورپ میں بڑے تواتر سے دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔ان دہشت گردانہ حملوں میں داعش ملوث ہوتی ہے اور اب داعش جنوبی ایشیا میں بھی اپنی موجودگی کو ظاہر کر رہی ہے۔
گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ میں دہشت گردی کی واردات میں بھی داعش ملوث تھی ۔ڈھاکہ کے بعد اب کابل میں بھی داعش کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان کو اس حوالے سے اپنی پالیسی کو ازسرنو مرتب کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان میں سرگرم عمل دہشت گردوں کے گروہوں کے بھی داعش کے ساتھ روابط کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابی کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے، دہشت گردوں پر اس دباؤ کو مسلسل برقرار رکھا جانا چاہیے۔
بعض حلقے دعویٰ کررہے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد پندرہ تک ہو سکتی ہے۔ان سطور کے لکھے جانے تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس دہشت گردی میں کون سی تنظیم یا گروہ ملوث ہے۔ ادھر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہفتے کے روز ایک مظاہرے میں دھماکے کے نتیجے میں 60 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس حملے کے بارے میں کہا جاتا ہے، داعش نے اس کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر چل رہی ہے۔ یورپ میں بڑے تواتر سے دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔ان دہشت گردانہ حملوں میں داعش ملوث ہوتی ہے اور اب داعش جنوبی ایشیا میں بھی اپنی موجودگی کو ظاہر کر رہی ہے۔
گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ میں دہشت گردی کی واردات میں بھی داعش ملوث تھی ۔ڈھاکہ کے بعد اب کابل میں بھی داعش کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان کو اس حوالے سے اپنی پالیسی کو ازسرنو مرتب کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان میں سرگرم عمل دہشت گردوں کے گروہوں کے بھی داعش کے ساتھ روابط کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابی کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے، دہشت گردوں پر اس دباؤ کو مسلسل برقرار رکھا جانا چاہیے۔