کوہلی نے ٹیم کی ساری پریشانیاں اپنے کندھے پر اٹھالیں
5 بولرز کے ساتھ میدان میں اترنے کی حکمت عملی جاری رکھوں گا، بھارتی ٹیسٹ کپتان
5 بولرز کے ساتھ میدان میں اترنے کی حکمت عملی جاری رکھوں گا، بھارتی ٹیسٹ کپتان۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
بھارتی ٹیسٹ کپتان ویرات کوہلی نے ٹیم کی ساری پریشانیاں اپنے کندھے پر اٹھالیں، وہ کہتے ہیں کہ میں دوسرے کھلاڑیوں سے اس چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتا جوکہ میں خود نہ کرسکتا ہوں، 5 بولرز کے ساتھ میدان میں اترنے کی حکمت عملی جاری رکھوں گا، تھوڑا دباؤ ہوتو بیٹسمین زیادہ ذمہ داری سے کھیلتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ویرات کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی ابتدائی اننگز میں 200 رنز بناکر ٹیم کا ٹوٹل 8 وکٹ پر 566 تک پہنچانے میں اہم کردارا ادا کیا، اسی اسکور پر بھارت نے پہلی اننگز ڈیکلیئرڈ کی۔ جب سے کوہلی نے ٹیسٹ ٹیم کی باگ ڈور سنبھالی ہے وہ پانچ بولرز کے ساتھ ہی میدان میں اترتے ہیں۔
اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ہمارے پاس پانچ اسپیشلسٹ بیٹسمین باقی بچتے ہیں، اس طرح ان پر تھوڑا دباؤ پڑتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر اس چیلنج کو قبول کریں، بطور کپتان میں پلیئرز سے کچھ ایسا کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا جوکہ میں خود نہ کرسکتا ہوں،میں خود مثبت رہنے اور تیزی سے کھیلنے کوی کوشش کرتا ہوں، میں خود میدان میں اترنے سے قبل خود کو یہ یاددلاتا ہوں کہ مجھے مثبت رہنا اورصرف کھیل پر توجہ مرکوز رکھنی ہے۔
کوہلی کا کہنا تھا کہ جب میں ڈریسنگ روم میں ہوتا تو مجھے اپنے اردگرد موجود سب لوگوں کی فکر ہوتی ہے لیکن جب میں کریز پر پہنچتا تو میری ساری سوچ اپنے کھیل اور دوسرے اینڈ پر موجود بیٹنگ پارٹنر تک سمٹ جاتی ہے۔ کوہلی نہ صرف رواں ٹیسٹ بلکہ سیریز میں کامیابی کیلیے بھی پراعتماد ہیں۔
بھارتی ٹیسٹ کپتان ویرات کوہلی نے ٹیم کی ساری پریشانیاں اپنے کندھے پر اٹھالیں، وہ کہتے ہیں کہ میں دوسرے کھلاڑیوں سے اس چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتا جوکہ میں خود نہ کرسکتا ہوں، 5 بولرز کے ساتھ میدان میں اترنے کی حکمت عملی جاری رکھوں گا، تھوڑا دباؤ ہوتو بیٹسمین زیادہ ذمہ داری سے کھیلتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ویرات کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی ابتدائی اننگز میں 200 رنز بناکر ٹیم کا ٹوٹل 8 وکٹ پر 566 تک پہنچانے میں اہم کردارا ادا کیا، اسی اسکور پر بھارت نے پہلی اننگز ڈیکلیئرڈ کی۔ جب سے کوہلی نے ٹیسٹ ٹیم کی باگ ڈور سنبھالی ہے وہ پانچ بولرز کے ساتھ ہی میدان میں اترتے ہیں۔
اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ہمارے پاس پانچ اسپیشلسٹ بیٹسمین باقی بچتے ہیں، اس طرح ان پر تھوڑا دباؤ پڑتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر اس چیلنج کو قبول کریں، بطور کپتان میں پلیئرز سے کچھ ایسا کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا جوکہ میں خود نہ کرسکتا ہوں،میں خود مثبت رہنے اور تیزی سے کھیلنے کوی کوشش کرتا ہوں، میں خود میدان میں اترنے سے قبل خود کو یہ یاددلاتا ہوں کہ مجھے مثبت رہنا اورصرف کھیل پر توجہ مرکوز رکھنی ہے۔
کوہلی کا کہنا تھا کہ جب میں ڈریسنگ روم میں ہوتا تو مجھے اپنے اردگرد موجود سب لوگوں کی فکر ہوتی ہے لیکن جب میں کریز پر پہنچتا تو میری ساری سوچ اپنے کھیل اور دوسرے اینڈ پر موجود بیٹنگ پارٹنر تک سمٹ جاتی ہے۔ کوہلی نہ صرف رواں ٹیسٹ بلکہ سیریز میں کامیابی کیلیے بھی پراعتماد ہیں۔