بھارت کا وہی پرانا راگ

جس ایجنڈے کے تحت بھارت کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے وہ کشمیریوں کو قابل قبول نہیں ہے

حقیقت یہ ہے کہ جب تک کشمیر کے تنازعہ کو حقیقی معنوں میں حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی اس خطے میں حالات نارمل نہیں ہو سکتے۔ فوٹو: فائل

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے گزشتہ روز نئی دہلی ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا ہے، انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ گڑ بڑ کو بھی پاکستان کے کھاتے میں ڈالا اور فرمایاکہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے کشمیر میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے، جس سے خطے میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے، انھوں نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ مظفر آباد کے موقع پر کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان نے کشمیر کو کبھی فائدہ نہیں پہنچایا۔ صرف دہشت گرد دیے ہیں۔

ادھر بھارت کے وزیر مملکت جتندر سنگھ نے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی سپانسرڈ دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑا جائے۔ بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ گزشتہ روز دو روزہ دورے پر سری نگر پہنچے تو کشمیریوں نے ان کے خلاف بھی مظاہرے کیے جب کہ مقامی تجارتی اور سماجی تنظیموں نے ان کے ساتھ ملاقات سے انکار کیا ہے، راج ناتھ سنگھ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ علیحدگی پسند راہنماؤں کو مذاکرات کی دعوت دیں گے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وادی میں مکمل ہڑتال، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس مسلسل نویں روز بھی بند رہی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کی معطلی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔


سشما سوراج اور جتندر سنگھ کے بیانات بھارت کی روایتی سوچ کے عکاس ہیں۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور کشمیریوں کی جائز اور قانونی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا روپ دے کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا دورہ سری نگر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ بھارتی پالیسی سازوں کو اچھی طرح پتہ ہے کہ جس ایجنڈے کے تحت بھارت کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے، وہ کشمیریوں کو قابل قبول نہیں ہے۔

کشمیری بھارت کے ساتھ مذاکرات سے پہلے بھی انکار کر چکے ہیں اور اب بھی انکار کریں گے۔بھارت جب دیکھتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی تیز ہوئی ہے تو وہ اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے کبھی کشمیریوں کے لیے مراعاتی پیکیج کا اعلان کرتا ہے اور کبھی کشمیری رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کا چکر چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اب بھی وہ ایسا ہی کر رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کشمیر کے تنازعہ کو حقیقی معنوں میں حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی اس خطے میں حالات نارمل نہیں ہو سکتے۔ بھارت جتنا جلد زمینی حقائق کو تسلیم کر لے ،اس کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔
Load Next Story