کابل میں خود کش دھماکے اور داعش
داعش کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ عالمی سطح پر ایک طاقتور دہشت گرد تنظیم بن چکی
اگر دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے تو تمام ممالک کو متحد ہو کر خلوص نیت سے اس کے خلاف میدان عمل میں اترنا ہو گا۔ فوٹو : اے ایف پی
ATTOCK:
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہزارہ برادری کے مظاہرے کے دوران خودکش دھماکوں میں 91 افراد جاں بحق اور 236 زخمی ہوگئے، داعش نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی جب کہ طالبان نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی کابل دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں یہ ہمارے مشترکہ دشمن ہیں ان کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور ٹھوس کوششیں کرنا ہوں گی۔ امریکا اور عالمی برادری نے بھی خود کش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے افغانستان سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔
افغانستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے بجلی کے اہم منصوبے پرکام ہو رہا ہے اس میں ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس منصوبے کا ابتدائی روٹ بامیان صوبے سے ہو کر گزر رہا تھا جہاں ہزارہ برادری کی اکثریت ہے تاہم 2013ء میں اس وقت کی حکومت نے اس کا راستہ تبدیل کر دیا تھا جس پر ہزارہ برادری نے روٹ کی تبدیلی کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف مظاہرہکیا، بجلی کے مذکورہ منصوبے کے روٹ کی تبدیلی کے خلاف ہزارہ برادری کا یہ دوسرا احتجاج تھا جس میں پہلے ہی سے پرتشدد واقعات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ افغان ٹی وی کے مطابق مظاہرین کے درمیان تین خود کش حملہ آور موجود تھے جن میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دوسرے کی خود کش جیکٹ نہ پھٹ سکی جب کہ تیسرے حملہ آور کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا۔
افغانستان کے حالات گزشتہ کئی عشروں سے خراب چلے آ رہے ہیں، موجودہ حکومت نے ان بگڑتے ہوئے حالات کو درست کرنے کا کئی بار عندیہ دیا مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس حوالے سے کافی زیادہ پیچیدگیاں اور الجھاؤ پیدا ہو چکے ہیں جس کے باعث معاملات حکومت کے قابو میں نہیں آ رہے اور اس کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ امریکی اور نیٹو افواج افغان حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں مگر اس کے باوجود دہشت گردی کا عفریت کم ہونے کے بجائے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ نیٹو کے خلاف برسرپیکار جنگجوؤں کی کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اب بھی اپنی گوریلا کارروائیوں کے ذریعے حکومت اور مخالفین کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تجزیہ نگار ایک عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں داعش کا بڑی تیزی سے پھیلتا ہوا وجود پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
جس پر قابو پانے کے لیے ابھی سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہزارہ برادری کے خلاف خود کش دھماکے سے طالبان کی لاتعلقی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہاں پر جنگجوؤں کے بہت سے دیگر گروہ بھی وجود میں آ چکے ہیں جن میں سے ایک داعش بھی ہے جس کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ روز بروز داعش کی قوت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ داعش کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ عالمی سطح پر ایک طاقتور دہشت گرد تنظیم بن چکی جو عراق، شام، سعودی عرب، یمن، افغانستان اور دیگر بہت سے ممالک میں کام کر رہی ہے۔
داعش کا قیام کیسے ہوا اور کون سی قوتیں اس کی مدد کر رہی ہیں یہ ایک طویل بحث ہے لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ داعش کو قوت فراہم کرنے میں امریکا اور یورپی ممالک کا بڑا ہاتھ ہے ایسی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ بھارتی حکومت بڑے پیمانے پر جدید ترین اسلحہ داعش کو فراہم کر رہی ہے۔ شام میں بھی داعش کو امریکی اور یورپی قوتوں نے سپورٹ کیا، بشار الاسد حکومت کے خلاف برسرپیکار اس تنظیم پر روس نے فضائی حملے بھی کیے۔
پاکستان میں بھی داعش کے وجود کی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے، حیران کن امر ہے کہ طاقتور ممالک دہشت گردی کے خاتمے کا اظہار تو کرتے ہیں مگر اندرون خانہ بہت سی دہشت گرد قوتوں کو وہ بھرپور مدد بھی فراہم کرتے رہتے ہیں ان کی اس دوغلی پالیسی کے نتیجے میں دہشت گردی کا وجود کم ہونے کے بجائے روز بروز پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے۔ داعش کوئی اتنی بڑی اور جدید ترین ہتھیار سے لیس خوفناک قوت بھی نہیں جسے ختم نہ کیا جا سکے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے تو تمام ممالک کو متحد ہو کر خلوص نیت سے اس کے خلاف میدان عمل میں اترنا ہو گا۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہزارہ برادری کے مظاہرے کے دوران خودکش دھماکوں میں 91 افراد جاں بحق اور 236 زخمی ہوگئے، داعش نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی جب کہ طالبان نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی کابل دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں یہ ہمارے مشترکہ دشمن ہیں ان کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور ٹھوس کوششیں کرنا ہوں گی۔ امریکا اور عالمی برادری نے بھی خود کش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے افغانستان سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔
افغانستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے بجلی کے اہم منصوبے پرکام ہو رہا ہے اس میں ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس منصوبے کا ابتدائی روٹ بامیان صوبے سے ہو کر گزر رہا تھا جہاں ہزارہ برادری کی اکثریت ہے تاہم 2013ء میں اس وقت کی حکومت نے اس کا راستہ تبدیل کر دیا تھا جس پر ہزارہ برادری نے روٹ کی تبدیلی کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف مظاہرہکیا، بجلی کے مذکورہ منصوبے کے روٹ کی تبدیلی کے خلاف ہزارہ برادری کا یہ دوسرا احتجاج تھا جس میں پہلے ہی سے پرتشدد واقعات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ افغان ٹی وی کے مطابق مظاہرین کے درمیان تین خود کش حملہ آور موجود تھے جن میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دوسرے کی خود کش جیکٹ نہ پھٹ سکی جب کہ تیسرے حملہ آور کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا۔
افغانستان کے حالات گزشتہ کئی عشروں سے خراب چلے آ رہے ہیں، موجودہ حکومت نے ان بگڑتے ہوئے حالات کو درست کرنے کا کئی بار عندیہ دیا مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس حوالے سے کافی زیادہ پیچیدگیاں اور الجھاؤ پیدا ہو چکے ہیں جس کے باعث معاملات حکومت کے قابو میں نہیں آ رہے اور اس کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ امریکی اور نیٹو افواج افغان حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں مگر اس کے باوجود دہشت گردی کا عفریت کم ہونے کے بجائے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ نیٹو کے خلاف برسرپیکار جنگجوؤں کی کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اب بھی اپنی گوریلا کارروائیوں کے ذریعے حکومت اور مخالفین کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تجزیہ نگار ایک عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں داعش کا بڑی تیزی سے پھیلتا ہوا وجود پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
جس پر قابو پانے کے لیے ابھی سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہزارہ برادری کے خلاف خود کش دھماکے سے طالبان کی لاتعلقی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہاں پر جنگجوؤں کے بہت سے دیگر گروہ بھی وجود میں آ چکے ہیں جن میں سے ایک داعش بھی ہے جس کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ روز بروز داعش کی قوت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ داعش کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ عالمی سطح پر ایک طاقتور دہشت گرد تنظیم بن چکی جو عراق، شام، سعودی عرب، یمن، افغانستان اور دیگر بہت سے ممالک میں کام کر رہی ہے۔
داعش کا قیام کیسے ہوا اور کون سی قوتیں اس کی مدد کر رہی ہیں یہ ایک طویل بحث ہے لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ داعش کو قوت فراہم کرنے میں امریکا اور یورپی ممالک کا بڑا ہاتھ ہے ایسی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ بھارتی حکومت بڑے پیمانے پر جدید ترین اسلحہ داعش کو فراہم کر رہی ہے۔ شام میں بھی داعش کو امریکی اور یورپی قوتوں نے سپورٹ کیا، بشار الاسد حکومت کے خلاف برسرپیکار اس تنظیم پر روس نے فضائی حملے بھی کیے۔
پاکستان میں بھی داعش کے وجود کی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے، حیران کن امر ہے کہ طاقتور ممالک دہشت گردی کے خاتمے کا اظہار تو کرتے ہیں مگر اندرون خانہ بہت سی دہشت گرد قوتوں کو وہ بھرپور مدد بھی فراہم کرتے رہتے ہیں ان کی اس دوغلی پالیسی کے نتیجے میں دہشت گردی کا وجود کم ہونے کے بجائے روز بروز پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے۔ داعش کوئی اتنی بڑی اور جدید ترین ہتھیار سے لیس خوفناک قوت بھی نہیں جسے ختم نہ کیا جا سکے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے تو تمام ممالک کو متحد ہو کر خلوص نیت سے اس کے خلاف میدان عمل میں اترنا ہو گا۔