ترکی کی ناکام بغاوت سے خوش اشرافیہ

ہماری اشرافیہ جو جمہوریت کا نقاب اوڑھ کر عوام کی کھربوں کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ترکی کی فوجی بغاوت نے دنیا میں ہلچل مچا دی ہے،اس ناکام بغاوت کے حوالے سے عموماً کہا جارہا ہے کہ عوام نے اس فوجی بغاوت کو ناکام بناکرجمہوریت کو سربلندکردیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی وی چینلوں پرعوام کو مسلح افواج کی مزاحمت کرتے دیکھا گیا ہے۔

عوام ٹینکوں پرکھڑے بھی نظر آتے ہیں اور ٹینکوں کی پیش قدمی کو روکتے بھی نظرآتے ہیں لیکن عوام کے جو ہجوم چینلوں پر دیکھے گئے ہیں ان کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے۔کیا کروڑوں کی آبادی والے اس ملک میں 30-20 ہزار لوگوں کے سڑکوں پر آجانے کو عوام کا سڑکوں پر آجانا کہا جاسکتا ہے؟ موجودہ حکومت کی پہچان نظریاتی ہے یہ حکومت ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کی دعویدار ہے اپنے طویل دور حکومت میں پچیس پچاس ہزار نظریاتی کارکن پیدا کرنا کسی نظریاتی حکومت کے لیے ناممکن نہیں ہے کیا فوج سے مزاحمت کرنے والے حکومت کے نظریاتی کارکن نہیں ہوسکتے؟

فوجی بغاوت کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ جن فوجیوں نے بغاوت کی رہنمائی کی وہ نہ منظم دکھائی دیتے تھے نہ ان کے پاس کوئی ایسی منصوبہ بندی نظر آتی تھی جو کسی بغاوت کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ سو اس قسم کی غیر منظم غیر منصوبہ بند بغاوت کا جو انجام ہونا تھا وہ ہوا، اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض قلمی بقراط اس بغاوت کو ترکی کی اسلامی حکومت کے خلاف لبرل اور سیکولر حلقوں کی بغاوت کہہ کر بغلیں بجا رہے ہیں کہ عوام نے سیکولر طاقتوں کو شکست فاش دے کر ترکی کی اسلامی حکومت کا بول بالا کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عشروں پر مبنی اس اسلامی حکومت نے اس طویل عرصے میں اسلامی نظام کے حوالے سے کیا اقدامات کیے ہیں اور کتنی پیش قدمی کی ہے۔

پاکستان میں ضیا الحق ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے داعی تھے لیکن اپنے گیارہ سالہ طویل دور حکومت میں مرحوم نے صرف زکوٰۃ کے ایک نظام کو روشناس کرنے کی کوشش کی جو فقہی تقسیم کی وجہ سے ناکام ہوکر رہ گئی۔ ہمارے ملک کی مذہبی جماعتیں بڑی نیک نیتی سے ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کی دعویدار ہیں لیکن اسے ہم ان طاقتوں کی بدقسمتی کہیں یا جدید دور کے تقاضوں سے ناواقفیت کہ وہ ان مشکلات کو سمجھنے سے قاصر ہیں جو عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی حفاظت کے لیے پیدا کر رکھی ہیں۔ ہم غالباً اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ آئی ٹی کے انقلاب نے دنیا بھر کے عوام کو ایک نئے رشتے رشتۂ انسانیت میں پرو دیا ہے اور وہ اس عالمی رشتے کے حوالے سے مذہبی انتہا پسندی، رنگ و نسل، ذات پات اور زبان کے حصار سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


عوام کے اس عالمی اتحاد کی پیش رفت سے سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست سخت پریشان ہیں کہ اگر عوام کی محرومیاں اور غربت انھیں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت پر آمادہ کردیں تو پھر سرمایہ دارانہ نظام کی بقا کو حقیقی خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ اس خطرے سے نجات حاصل کرنے کے لیے یا اس کا سدباب کرنے کے لیے وہ مختلف حربے استعمال کرتے رہتے ہیں۔آج دنیا بھر میں دہشت گردی کی جو خوفناک لہر آئی ہوئی ہے۔ کیا اس کی وجہ سے سرمایہ دارانہ استحصال کا حقیقی مسئلہ پس منظر میں نہیں چلاگیا؟ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں اسلامی نظام لانے کی دعویدار طاقتیں سب سے زیادہ خون مسلمانوں ہی کا بہا رہی ہیں۔

پاکستان میں 50 ہزار سے زیادہ مسلمانوں کے قتل عام عراق شام اور افریقی ممالک میں ہر روز ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کے قتل کو کیا ہم دنیا بھر میں اسلامی نظام کے نفاذ کی کوششوں کا حصہ سمجھیں یا سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں کی سازش؟ کیا ترکی کے ناکام انقلاب کی وجوہات کو اس پس منظر میں تلاش کیا جانا چاہیے؟ہمارے بعض بقراط قسم کے اہل قلم جو سیکولرازم کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے وہ موقع بے موقع سیکولر ازم کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ترکی میں مصطفیٰ کمال پاشا نے سیکولرازم کے نظریے کو اپنایا۔ مصطفیٰ کمال کو عوام ایک طرف ترکی کا نجات دہندہ مانتے ہیں تو دوسری طرف مٹھی بھر افراد مصطفیٰ کمال کے نظریے کو کفر والحاد سے تعبیر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ترکی کے فوجی انقلاب کی ناکامی کو ایک گروہ جمہوریت کی فتح قرار دے رہا ہے تو کچھ مہاشے اسے سیکولرازم کی ناکامی سے تعبیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نہ یہ ناکام انقلاب جمہوریت کی فتح ہے نہ سیکولرازم کی ناکامی؟

پاکستان میں 69 سالوں سے جمہوریت کی آڑ میں اشرافیہ نے لوٹ مار کا جو بازار گرم کیا ہوا ہے اس سے نہ صرف عوام بیزار ہیں بلکہ بعض مقتدر حلقے بھی نالاں ہیں اربوں کھربوں کی مسلمہ کرپشن کے مرتکبین کو احتسابی عدالتوں سے بے گناہ قرار دیے جانے کے بعد عوام میں اس احتسابی نظام کے خلاف اشتعال بڑھ رہا ہے۔

ہماری اشرافیہ جو جمہوریت کا نقاب اوڑھ کر عوام کی کھربوں کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے وہ گلٹی کے کینسر کا شکار ہوکر نامعلوم قوتوں سے سخت خوفزدہ ہے اور وہ محسوس کر رہی ہے کہ شاید اب اس کے لیے جمہوریت کی آڑ میں لوٹ مار مشکل ہوجائے گا۔ ترکی کے انقلاب کی ناکامی کو ہماری اشرافیہ جمہوریت کی فتح کا نام دے کر اس شدت سے پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ عوام اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوسکتے ہیں لیکن ہماری اشرافیہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس ملک کے 20 کروڑ ستائے ہوئے عوام اب صبر کی حدوں سے گزر رہے ہیں وہ اگر یہ ورکرکر جائیں تو اس سے جمہوریت کو نقصان نہیں ہوگا بلکہ عوامی جمہوریت کا سورج طلوع ہوگا۔
Load Next Story