کلوزکیچزکا پست معیار چیپل نے کوچنگ اسٹرکچر کووجہ قرار دے دیا
سلپ کے فیلڈرز کی تکنیکی خامیوں کو دور نہیں کیا جارہا ، سابق آسٹریلوی کپتان
سلپ کے فیلڈرز کی تکنیکی خامیوں کو دور نہیں کیا جارہا ، سابق آسٹریلوی کپتان۔ فوٹو: فائل
لیپ ٹاپ کوچنگ سے کرکٹ کی اہم چیزیں نظر انداز ہونے لگیں، آسٹریلیا کے سابق کپتان ای ین چیپل نے کلوز کیچنگ کے معیار پست ہونے کی وجہ کوچنگ اسٹرکچرکوقراردے دیا، وہ کہتے ہیں کہ سلپ میں موجود فیلڈرز کی تکنیکی خامیوں کو دور نہیں کیا جارہا، کم عمری میں ہی کھلاڑیوں کی تیکنیک بہتر بنانے پر توجہ دینا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان لارڈز ٹیسٹ میں اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملی مگر اس میں وکٹوں کے عقب میں ڈراپ ہونے والے کیچز نے کھیل کے حوالے سے تشویش کو بڑھادیا ہے، ای ین چیپل ایک ویب سائٹ کے لیے اپنے کالم میں کہتے ہیں کہ اس میچ میں جہاں ہمیں کوالٹی بولنگ دیکھنے کو ملی اور فیلڈ میں اچھے کیچز بھی دکھائی دیے مگر کلوزکیچنگ تکنیکی طور پر مایوس کن رہی، یہ صرف انگلینڈ اورپاکستان کی ہی خامی نہیں بلکہ عالمی طور پر کلوز کیچنگ کا معیار پست ہوتا جارہا ہے، وکٹ کے عقب میںزیادہ تر ڈراپ ہونے والے کیچزکا باعث ایک معمولی ٹیکنیکل خامی ہے، جب گیند آرہی ہوتی ہے تو اس کی سمت پہلے ایک پائوں نکالنا اور پھر جسم کو دوسری حرکت دینا چاہیے۔
زیادہ تر ہم نے ڈراپ کیچز میں دیکھا کہ فیلڈرز یا تو کسی ڈائنامائٹ لگی بلڈنگ کی طرح ایک سمت دھڑام سے گر جاتے یا پیچھے کو الٹ پڑتے ہیں، ہمارے سامنے ویرات کوہلی کی مثال ہے جن کا بیٹنگ کے دوران ہاتھ اور آنکھ کا بے مثال کمبی نیشن ہے، یہی چیزقدرتی طور پر کیچنگ پوزیشن میں ان کے کام آنا چاہیے مگر وہ بھی اسی تکنیکی خامی کی وجہ سے سلپ کورڈن میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔ چیپل کہتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت کوچز صرف بیٹنگ اور بولنگ پر توجہ دیتے ہیں۔
فیلڈنگ ان کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہے اور ویسے بھی کھلاڑیوں کی تکنیک 8 سے 19 برس کی عمر میں بہتربنائی جاسکتی ہے، ٹاپ لیول پر ان چیزوں پر کم ہی توجہ جاتی ہے، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ کوچنگ اسٹرکچر کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے، گراس روٹ لیول پر ایسے کوچزہونا چاہئیںجوکہ کھیل کے تکنیکی پہلوئوں کا اچھی طرح ادراک رکھتے ہوں۔ چیپل نے مزید کہا کہ ویسٹ انڈیز کے معروف کرکٹر گیری سوبرز اپنی کوچنگ کتاب میں لکھتے ہیں کہ کرکٹ کوچنگ کی بڑی بدقسمتی ایک یہ بھی ہے کہ ہم اس کھیل سے وابستہ بہترین کھلاڑیوں کا احترام تو کرتے ہیں مگر ان کی تقلید نہیں کرتے۔
تفصیلات کے مطابق انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان لارڈز ٹیسٹ میں اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملی مگر اس میں وکٹوں کے عقب میں ڈراپ ہونے والے کیچز نے کھیل کے حوالے سے تشویش کو بڑھادیا ہے، ای ین چیپل ایک ویب سائٹ کے لیے اپنے کالم میں کہتے ہیں کہ اس میچ میں جہاں ہمیں کوالٹی بولنگ دیکھنے کو ملی اور فیلڈ میں اچھے کیچز بھی دکھائی دیے مگر کلوزکیچنگ تکنیکی طور پر مایوس کن رہی، یہ صرف انگلینڈ اورپاکستان کی ہی خامی نہیں بلکہ عالمی طور پر کلوز کیچنگ کا معیار پست ہوتا جارہا ہے، وکٹ کے عقب میںزیادہ تر ڈراپ ہونے والے کیچزکا باعث ایک معمولی ٹیکنیکل خامی ہے، جب گیند آرہی ہوتی ہے تو اس کی سمت پہلے ایک پائوں نکالنا اور پھر جسم کو دوسری حرکت دینا چاہیے۔
زیادہ تر ہم نے ڈراپ کیچز میں دیکھا کہ فیلڈرز یا تو کسی ڈائنامائٹ لگی بلڈنگ کی طرح ایک سمت دھڑام سے گر جاتے یا پیچھے کو الٹ پڑتے ہیں، ہمارے سامنے ویرات کوہلی کی مثال ہے جن کا بیٹنگ کے دوران ہاتھ اور آنکھ کا بے مثال کمبی نیشن ہے، یہی چیزقدرتی طور پر کیچنگ پوزیشن میں ان کے کام آنا چاہیے مگر وہ بھی اسی تکنیکی خامی کی وجہ سے سلپ کورڈن میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔ چیپل کہتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت کوچز صرف بیٹنگ اور بولنگ پر توجہ دیتے ہیں۔
فیلڈنگ ان کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہے اور ویسے بھی کھلاڑیوں کی تکنیک 8 سے 19 برس کی عمر میں بہتربنائی جاسکتی ہے، ٹاپ لیول پر ان چیزوں پر کم ہی توجہ جاتی ہے، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ کوچنگ اسٹرکچر کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے، گراس روٹ لیول پر ایسے کوچزہونا چاہئیںجوکہ کھیل کے تکنیکی پہلوئوں کا اچھی طرح ادراک رکھتے ہوں۔ چیپل نے مزید کہا کہ ویسٹ انڈیز کے معروف کرکٹر گیری سوبرز اپنی کوچنگ کتاب میں لکھتے ہیں کہ کرکٹ کوچنگ کی بڑی بدقسمتی ایک یہ بھی ہے کہ ہم اس کھیل سے وابستہ بہترین کھلاڑیوں کا احترام تو کرتے ہیں مگر ان کی تقلید نہیں کرتے۔