ڈرامہ نوجوان نسل کو خراب کررہا ہےحسینہ معین

غلط اردو بولنے والے فنکاروں کا کوئی حساب نہیں،معروف ڈرامہ نویسں

غلط اردو بولنے والے فنکاروں کا کوئی حساب نہیں،معروف ڈرامہ نویسں ، فوٹو : فائل

معروف ڈرامہ نویسں حسینہ معین کا کہنا ہے کے ہم اپنے ڈراموں کے ذریعے اپنے بچوں کا مستقبل خراب کر رہے ہیں۔

گھریلو خواتین اور نوجوان اپنے فنکاروں کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں ۔ڈامہ مں جو جملہ بازیہوتی ہے اس کے اثرات لوگوں پر ضرور پڑتے ہیں ،آج ہمارے ڈراموں میں گالم گلوچ عام ہوگئی ہے جتنی غلط اردو بولنے والے فنکار ٹی وی ڈراموں میں کام کر رہے ہیں اس کا کوئی حساب نہیں۔




ایک زمانے سے ہم یہ بول بول کے تھک گئے ہیں کہ فلم اور ٹی وی کے فنکاروں کی تر بیت کے لیے کوئی اکیڈمی قائم کی جائے اس پر توجہ نہیں دی گئی اس کا نتیجہ ہے کے آج یہ نوبت آگئی ہے کے ہم اپنے بچوں کو اپنے ڈرامے نہیں دکھا سکتے ۔ ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب اگر فنکاروں کی تربیت کے لیے کوئی ادارہ قائم کیا جائے تو پہلے اس میں ڈرامہ ڈائریکٹر کی تربیت کی جائے ،اس افراتفری کی فضا کو ختم ہونا چاہیے ۔

پاکستان ٹیلی ویژن کا یہ اصول تھا کے جو فنکار ایک ڈرامے میں کام کرتا تھا اسے دوسرے ڈرامے میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی مگر آج ایک فنکار بیک وقت دس ڈراموں میں کام کررہا ہے یہ غلط ہے ۔ ہمیں اپنی خامیوں کو دور کرنا ہوگا انھوں نے بتایا کے میں ایک سیریل پرکام کر رہی ہوں جسکے لیے آیندہ ہفتے اسلام آباد بھی جانا ہوگا۔
Load Next Story