پاک ایران بات چیت اور خطے کی صورتحال

ایران کی جانب سے پاک ایران سلامتی کےامورپرتازہ موقف خوش آیند ہےجس سےخطے میں دہشتگردی کی روک تھام میں مدد ملے گی

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ فوٹو : فائل

SALVADOR DE BAHIA:
خطے کی داخلی و خارجی صورتحال میں غیر معمولی اور تشویشناک ارتعاش کے پیش نظر پاکستان نے اپنے سفارتی افق کو متحرک کرنے کا عندیہ ظاہر کردیا ہے جس کے تحت پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیرلیفٹیننٹ جنرل(ر) ناصر خان جنجوعہ نے گزشتہ روز تہران میں ایرانی ہم منصب علی شمخانی سے اہم ملاقات کی جس میں انھوں نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران اپنی سرزمین سے دو برادر اور ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی کسی تیسرے فریق کو اجازت نہیں دے گا۔

یہ یقین دہانی ایسے وقت کرائی گئی جب بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور اس کے جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور ہولناک انکشافات کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کی اندوہ ناک صورتحال سے بھارتی حکومت چکرا کر رہ گئی ہے جسے کشمیر تنازع میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم نہ کرنے کے باعث سخت عالمی مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔ ذرایع کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ پاک ایران تعلقات، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم امور پر بات چیت کے لیے تین روزہ دورہ پر ایران میں ہیں، وہ ایرانی قیادت کے لیے وزیراعظم نوازشریف کا خصوصی پیغام بھی لے کر گئے، پیغام میں امید ظاہر کی گئی ہے ایران اپنی سرزمین بھارتی انٹیلی جنس کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے میں تعاون کریگا، ایک اور ذریعے کے مطابق ناصر جنجوعہ ایران کے ساتھ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا معاملہ بھی اٹھائیں گے جسے اس سال کے شروع میں بلوچستان سے پکڑا گیا تھا۔

ایرانی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق علی شمخانی نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ایک مخصوص حکومت پاک ایران سرحد پر بدامنی پھیلانے اور دونوں ممالک کے تعلقات بگاڑنے کے لیے ہتھیار بھیجتی اور دہشتگردوں کی مدد لیتی ہے۔ ایران کی جانب سے پاک ایران سلامتی کے امور پر تازہ موقف خوش آیند ہے جس سے خطے میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کی روک تھام میں مدد ملے گی اور بلوچستان میں پاک ایران تعاون سے ان عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی جو دو برادر ملکوں کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہیں۔ علی شمخانی کا یہ کہنا اہمیت کا حامل ہے کہ خطے میں صورتحال بڑی تشویشناک ہے، خاص طور پر دہشتگردی کی لہر کو روکنے کی کوششوں سے دنیا میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں میں دونوں ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے۔

اس خطرے کو ناکام بنانے کے لیے ایران اور پاکستان کو تعاون بڑھانا اور مشترکہ میکنزم تشکیل دینا ہوگا۔ یہاں دونوں برادر ملکوں کو ایران، افغانستان اور بھارت کے مابین حالیہ دنوں میں ہمہ جہتی اقتصادی ترقی اور خاص طور پر گوادر پورٹ کے مقابل چاہ بہار بندرگاہ کی توسیع و تعمیر سے پیدا شدہ خدشات کے رفع کیے جانے پر توجہ دینی چاہیے جب کہ دو طرفہ خیرسگالی جذبات کے فروغ کو یقینی بنانا چاہیے۔ چین کی طرف سے گوادر پورٹ میں تعمیر پر بھارتی برگشتگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، عالمی قوتوں کی آنکھوں میں پاک چین دوستی کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے، چین کے خلاف محاذ قائم کرنے کی گھاتیں بھی جاری ہیں، اس لیے ایران پاک اشتراک عمل اس سمت میں درست اقدام ہے جب کہ دیگر سہ فریقی معاشی معاہدوں اور اہداف کی حساسیت کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کیونکہ بھارتی حکام کا دل پاک بھارت مذاکرات کے لیے ابھی تک صاف نہیں ہوا ، بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا نواز شریف کے نام پیغام مناسب نہیں جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف اطمینان رکھیں کشمیر کبھی پاکستان کا حصہ نہیں بنے گا۔

مگر کشمیر اس بار بھارت کے لیے چیلنج بنا ہے جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر مودی حکومت حقائق کا سامنا کرنے کو تیار ہی نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے مابین تنازع کشمیر پر بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد بھارتی حکومت نے ایک مضحکہ خیزسفارتی قلابازی کھائی ہے اور پاکستان میں تعینات اپنے سفارتی عملے اوردیگرعہدے داروںکو اپنے بچوںکو اسلام آبادکے مقامی اسکولوں سے اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔


ایک بھارتی اہلکار نے اس اقدام کو سفارتی مشن میں کمی قراردیا جب کہ دوسری طرف ترجمان پاکستان دفتر خارجہ نے اس بھارتی اقدام کو غیر رسمی اور بھارت کا اندرونی و انتظامی معاملہ قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب ایک بھارتی عہدے دار نے انڈین ایکسپریس سے گفتگو میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان کو نان اسکول گوئنگ اسٹیشن ظاہرکرنا ہے چنانچہ وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بتایا ہے کہ بھارت کے ساتھ ٹریک ٹو اور ٹریک تھری مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی پاک بھارت باضابطہ مذاکرات کا امکان ہے، پاکستان نے کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا ہے۔اس پاکستانی کوشش کے رد عمل میں بھارت نے سری نگر میں احتجاج روکنے کے لیے کشمیری رہنماؤں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو گرفتار کیا ہے جب کہ اس کے شدید رد عمل میں نوم چومسکی سمیت 800 مصنفین نے اظہار یکجہتی کیا ہے۔

تاہم یہ امر باعث اطمینان ہے کہ خطے میں امن کے قیام کی خاطرپاکستان اور بھارت کی سرحد ی فورسز کے درمیان تین روزہ مذاکرات رینجرز ہیڈکوارٹرز لاہور میں شروع ہوئے ، تین روزہ مذاکرات دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ پاکستان رینجرز کی طرف سے مذاکرات کی قیادت ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل عمر فاروق برکی اور بی ایس ایف کی طرف سے ڈی جی بی ایس ایف کرشن کمار کر رہے ہیں۔ این این آئی کے مطابق مذاکرات میں سیز فائر کی خلاف ورزی، منشیات اسمگلنگ کی روک تھام اور دیگر اہم امور پر بات چیت ہو گی۔

ادھر وزیراعظم نواز شریف نے افغان صدر اشرف غنی کو ٹیلیفون کیا اور کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام 23 جولائی کو کابل میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے افسوسناک سانحہ پر افغانستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے اس مشکل موقع پر افغان حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر وزیراعظم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کو دہشت گردوں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف مصر کے دو روزہ سرکاری دورے پر گزشتہ روز قاہرہ پہنچ گئے جہاں انھوں نے مصری وزیر دفاع اور چیف آف اسٹاف سے ملاقاتیں کیں جس میں مسلح افواج کے درمیان سیکیورٹی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پردونوں ممالک نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لانے کے عزم کا اظہارکیا۔اس موقع پر مصری فوج کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ اور خاص طور پر دھماکا خیز مواد سے نمٹنے میں پاک فوج کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی خواہش کا اظہارکیا گیا۔ دریں اثنا مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی ترقی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے افغان حکومت اور طالبان میں مصالحت کی ضرورت پر زور دیا ۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ افغانستان میں امن واستحکام خطے کے لیے ضروری ہے ۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے چینی وزیر خارجہ نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستانی کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے ۔ لیکن اس زمینی حقیقت کو بھارت تسلیم کرے تو بات بنے گی، وہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کرکے امن و استحکام کے انسانی کاز کو بلڈوز کرنے پر کمر بستہ رہے گا تو امن ایک خواب ہی رہے گا جب کہ پاکستان خطے کے فلیش پوائنٹ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل چاہتا ہے۔
Load Next Story