واٹر بورڈ افسران کے ظلم کا شکار ملازم دم توڑ گیا

ممتاز احمد کا مختلف محکموں میں تبادلہ کیا جاتا رہا، تنخواہ التوا کا شکار رہی،التجائیں بے سود رہیں.

موت کی اطلاع پر ملازمین رونے لگے، ایم ڈی سیکریٹریٹ میں شدید احتجاج فوٹو: فائل

کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کا ملازم ممتاز احمد اپنے اعلیٰ افسران کی طرف سے سفاکانہ طرز عمل کے باعث اس حد تک دلبرداشتہ ہوگیا کہ اس کی دماغ کی شریانیں پھٹ گئیں اور موت واقع ہوگئی.

اس واقعے پر واٹربورڈ کے ملازمین نے ادارے کے صدر دفتر میں احتجاجی مظاہرہ کیا ، ایم ڈی مصباح الدین فرید نے مرحوم کی بیوہ کو نوکری دینے کا اعلان کیا ہے،تفصیلات کے مطابق کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے حب ڈیم ڈویژن میں تعنیات ممتاز احمد صدیقی کا مختلف محکموںمیں تبادلہ کردیاجاتا تھا بار بار ٹرانسفر کے باعث اس کی تنخواہ التوا کا شکار ہورہی تھی۔



وہ اپنے چیف انجینئر ظہیر عباس اور سپرنٹنڈنٹ انجینئر منظور یامین کے دفتر کے چکر لگاتا رہا ان کے آگے التجائیں کرتا رہا کہ مجھ پر رحم کھاؤ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں .




تنخواہ نہ ملنے سے میرے گھر کی خوشیاں چھن گئیں،نوبت فاقوں تک پہنچ رہی ہے مگر ظہیر عباس اور منظور یامین نے اس پر ترس کھانے کی زحمت نہیں کی،ذرائع کا کہنا ہے وہ لوگوں سے ادھا لے لے کر تنگ آچکا تھا،اس کی ذہنی حالت بگڑتی چلی گئی اور جمعے کو اس کی دماغ کی شریانیں پھٹنے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔



اس کی موت کی اطلاع پر ادارے کے ملازمین ڈھاڑیں مار مار کر رونے لگے بعدازاں ملازمین شاہراہ فیصل پر واقع واٹربورڈ کے صدر دفتر میں ایم ڈی سیکریٹریٹ پہنچے اور وہاں احتجاج کیا اس موقع پر ملازمین نے چیف انجینئر ظہیر عباس اور سپرنٹنڈنٹ انجینئر منظور یامین کو ممتاز احمد صدیقی کی موت ذمے دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اس موقع پر خطاب میں واٹربورڈ کے ایم ڈی مصباح الدیں فرید نے ممتاز احمدصدیقی کی بیوہ کو نوکری دینے کا اعلان کیا۔
Load Next Story