کراچی میں فوجی جوانوں کی شہادت

دہشتگردوں نے صدر کے مصروف ترین اور پارکنگ پلازہ کے تنگ موڑ پر فوجی جوانوں کو نشانہ بنایا

کراچی آپریشن اب لازمی طور پر اپنے منطقی انجام اور اس واردات میں ملوث افراد کیفر کردار تک پہنچیں۔

کراچی میں منگل کی سہ پہر کو دہشت گردوں کی پاک فوج کی گاڑی پر فائرنگ سے 2 جوان شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والوں میں لانس نائیک عبد الرزاق اور سپاہی خادم حسین شامل ہیں جنھیں صدر میں پارکنگ پلازہ کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ دہشتگردوں نے صدر کے مصروف ترین اور پارکنگ پلازہ کے تنگ موڑ پر فوجی جوانوں کو نشانہ بنایا ۔

سندھ میں سیاسی تبدیلی کے تناظر میں دہشتگردی کی اس بزدلانہ واردات کے مقاصد کا تعین کرنے کے لیے ماہرین کو اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کراچی میں 8 ماہ کے دوران حساس اداروں کے7 جوان دہشتگردوں کا نشانہ بن چکے ہیں جب کہ حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کی بازیابی میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابی کے سیاق وسباق میں شہر قائد کو پھر سے بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کا فوکل پوائنٹ بنانا ایک سنگین دہشتگردانہ ہدف ہی ہوسکتا ہے۔ان عناصر کے پیش نظر ایسی ہائی پروفائل واردات سے اسٹبلشمنٹ کو اس بات کا انتباہ کرنا بھی مقصود ہوتا ہے کہ جتنے سافٹ اہداف ہیں وہ اربن ایریاز اور خاص طور پر میگا سٹیز کے ہیں اور وہاں ان عناصر کے سلیپرز سیل موجود ہیں۔

صدر کراچی کا تجارتی قلب ہے ، اور پارکنگ ایریا گزشتہ کئی برسوں سے ٹریفک جام کا شکار ہے، جہاں پتھاروں کی کثرت ، گندگی، ماحولیاتی گھٹن اور بے قابو انبوہ کثیر دکھائی دیتا ہے، اس پارکنگ ایریا کے جس موڑ پر واردات ہوئی وہ تنگ سی جگہ بن جاتی ہے اور میڈیا کے مطابق اس ٹرن کی ماسٹر پلان میں کہیں گنجائش نہیں رکھی گئی، واردات کی ٹائمنگ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دہشتگرد موٹرسائیکل سوار پاک فوج کی گاڑی کے تعاقب میں تھے اور عقب سے انھوں نے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ سوال یہاں بھی دہشتگردوں پر پیشگی حملے، ان کی جائے وقوعہ پر یا کہیں بھی عدم گرفتاری کا معاملہ ہے، سیکیورٹی حکام اس معاملے کا کوئی علاج تلاش کریں کہ دہشتگردی کی واردات انتہائی گنجان اور مصروف ترین علاقے میں ہوتی ہے مگر قاتل آسانی سے راہ فرار اختیار کرجاتے ہیں۔


صدر کے اس حصہ میں بھی گنجان رہائشی علاقوں کی تنگ گلیاں اور دشوار راستے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق پارکنگ پلازہ کے کیمروںکی وڈیوکا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے، جائے وقوعہ سے تین چلے ہوئے کارتوس ملے جس سے پتہ چلتاہے کہ واردات میں نائین ایم ایم پستول استعمال ہوا ہے، ایک اطلاع کے مطابق اسلحہ کے ساتھ کیچر لگا ہوا تھا جس سے خول نہیں گرے، سی ٹی ڈی انچارج راجہ عمرخطاب کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے متاثرہ گاڑی کو ہٹا لیا گیا، اس کے قریب سے کارتوس کا سکہ ملا، فائرنگ میں استعمال ہونے والے اسلحہ کا فرانزک معائنہ کرایا جائے گا، اہلکاروں کو بائیں جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ دونوں کو سر، سینے اور کندھے پر گولیاں لگیں، فوجی جوانوں کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ساؤتھ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے حملے کی تاحال کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہیں ہوسکی ۔

صدر پارکنگ پلازہ، نیوپریڈی اسٹریٹ اوراس کے اطراف کے علاقوں میں نصف درجن سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جن سے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اب تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ تفتیشی ذرایع کے مطابق شبہ ہے کہ پاک فوج کے 2جوانوں کے قتل میں کالعدم تنظیمیں ملوث ہیں، صدر پارکنگ پلازہ میں پاک فوج کی گاڑی پر حملہ اور دسمبر 2015ء میں پریڈی کے علاقے میں ملٹری پولیس کے 2 اہلکاروں کے قتل میں ایک ہی گروپ ملوث ہوسکتا ہے، بتایا جاتا ہے کہ دونوں وارداتوں کا طریقہ ایک جیسا ہی ہے گوکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ذیلی تنظیم جماعت الاحرارکی جانب سے حملے کی ذمے داری قبول کرنے کی اطلاعات ہیں لیکن اس بات کا تعین نہیں ہوسکا، واقعے میں کون سے گروپ کے لوگ ملوث ہیں اس کا حتمی تعین ہونا ابھی باقی ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ کیمروں کی فوٹیج اور دیگر جدید آلات کی موجودگی سے مجرموں کی شناخت اور ان کے سراغ لگانے میں بھی بریک تھرو کی اشد ضرورت ہے جب کہ اتنے سنگین واقعات کی ریکارڈنگ اور ٹریکنگ کا مثبت حل بھی تو نکلنا چاہیے۔

صدرمملکت ممنون حسین اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے کراچی میں فوجی اہلکاروں پر دہشتگرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے مجرموں کو جلد سے جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے، انھوں نے شہید اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی، وزیراعظم نے وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ مجرموں کو جلد گرفت میں لایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ کسی کو کراچی آپریشن پٹڑی سے اتارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی آپریشن اب لازمی طور پر اپنے منطقی انجام اور اس واردات میں ملوث افراد کیفر کردار تک پہنچیں، شہر قائد میں آپریشن کی سمت درست رکھنے، اسے متحرک بنانے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے دہشتگردی مخالف اقدامات کے لیے موثر اشتراک عمل اور انٹیلی جنس شیئرنگ پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے تاکہ جس تیزی سے دہشتگرد بچ نکلتے ہیں اس سے قبل ہدف سے دور ہی گرفت میں لاکر عبرت ناک انجام سے دوچار کردیا جائے۔
Load Next Story