قوم پرست جماعتوں کی اپیل پر مضافاتی علاقوں میں ہڑتال
کامیاب ہڑتال نے ثابت کردیا کہ سندھ کے عوام ایک ہیں، پیر پگارا کی پریس کانفرنس۔
کامیاب ہڑتال نے ثابت کردیا کہ سندھ کے عوام ایک ہیں، پیر پگارا کی پریس کانفرنس۔ فوٹو: ایکسپرس/فائل
سندھ بچاؤ کمیٹی میں شامل سیاسی و قوم پرست جماعتوں کی جانب سے پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے خلاف جمعہ کو ہڑتال کی اپیل پر کراچی کے مضافاتی علاقوں میںکاروبار اور ٹرانسپورٹ معطل رہی۔
سچل ، صفورا گوٹھ ، گلستان جوہر گلشن اقبال ، ایوب گوٹھ ، ملیر ، قائد آباد ، گلشن حدید ، اسٹیل ٹاؤن ، پیپری اور مواچھ گوٹھ میں رات گئے نامعلوم افرا کی ہوائی فائرنگ سے خوف و ہراس پھیل گیا، جمعہ کو شہر کے مضافاتی علاقوں میں پٹرول پمپ اور دکانیں بند رہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے انتہائی کم رہی،اس صورت حال کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور بس اسٹاپوں پر بسوں اور منی بسوں کا انتظار کرنے والے افراد کا ہجوم دکھائی دیا، علاوہ ازیں پاکستان مسلم فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا نے سندھ بچائو کمیٹی کے کنوینر سید جلال محمودشاہ کے ہمراہ راجا ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کالا باغ ڈیم ، سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور سندھ دھرتی کی بیٹیوں کے ساتھ اسمبلی میں نارواسلوک کے خلاف کامیاب ہڑتال نے یہ ثابت کردیا ہے۔
سندھ کے عوام ایک ہیں، صوبے کو تقسیم کرنے کے لیے کی جانے والی سازشوں کو سندھ دھرتی کے بیٹے ناکام بنادیں گے،کالا باغ ڈیم ملکی سا لمیت اور قوم کو تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے،اس منصوبے کو کسی حال میں تعمیر نہیں ہونے دیا جائے گا، زمینی حقائق کے مطابق انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے۔
اگر الیکشن ہو بھی جاتے ہیں تو موجودہ حکومت نے آئندہ آنے والوں کیلیے کچھ نہیں چھوڑا، پیر پگارا نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام اور سندھ اسمبلی میں خواتین کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر ہونے والی ہڑتال پر تمام جماعتوں کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا، ہمارے جلوس پر حکومت کے آدمیوں نے باقاعدہ پلاننگ اور مورچے بناکر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی کارکنان زخمی ہوئے، ہم نہیں چاہتے کہ سندھی ایک دوسرے کو ماریں۔
سچل ، صفورا گوٹھ ، گلستان جوہر گلشن اقبال ، ایوب گوٹھ ، ملیر ، قائد آباد ، گلشن حدید ، اسٹیل ٹاؤن ، پیپری اور مواچھ گوٹھ میں رات گئے نامعلوم افرا کی ہوائی فائرنگ سے خوف و ہراس پھیل گیا، جمعہ کو شہر کے مضافاتی علاقوں میں پٹرول پمپ اور دکانیں بند رہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے انتہائی کم رہی،اس صورت حال کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور بس اسٹاپوں پر بسوں اور منی بسوں کا انتظار کرنے والے افراد کا ہجوم دکھائی دیا، علاوہ ازیں پاکستان مسلم فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا نے سندھ بچائو کمیٹی کے کنوینر سید جلال محمودشاہ کے ہمراہ راجا ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کالا باغ ڈیم ، سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور سندھ دھرتی کی بیٹیوں کے ساتھ اسمبلی میں نارواسلوک کے خلاف کامیاب ہڑتال نے یہ ثابت کردیا ہے۔
سندھ کے عوام ایک ہیں، صوبے کو تقسیم کرنے کے لیے کی جانے والی سازشوں کو سندھ دھرتی کے بیٹے ناکام بنادیں گے،کالا باغ ڈیم ملکی سا لمیت اور قوم کو تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے،اس منصوبے کو کسی حال میں تعمیر نہیں ہونے دیا جائے گا، زمینی حقائق کے مطابق انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے۔
اگر الیکشن ہو بھی جاتے ہیں تو موجودہ حکومت نے آئندہ آنے والوں کیلیے کچھ نہیں چھوڑا، پیر پگارا نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام اور سندھ اسمبلی میں خواتین کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر ہونے والی ہڑتال پر تمام جماعتوں کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا، ہمارے جلوس پر حکومت کے آدمیوں نے باقاعدہ پلاننگ اور مورچے بناکر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی کارکنان زخمی ہوئے، ہم نہیں چاہتے کہ سندھی ایک دوسرے کو ماریں۔