خلاف آئین کچھ نہیں کیا انقلاب کے مقاصد کی تکمیل چاہتا ہوں صدر مرسی
ہم ابھی عبوری دور سے گذر رہے ہیں،دستوری اعلامیے سے آئین و قانون کو یرغمال بنایا نہ ہی عدلیہ پر حملہ کیا
صدارتی فرامین عارضی ہیں،انقلابیوں کا مطالبہ ہے کہ فرسودہ نظام کی تمام خرابیاں جڑ سے اکھاڑ پھینکوں، مصر کے صدر کا ٹی وی کو انٹرویو۔ فوٹو: فائل
مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے ملک میں سیاسی تنائو کے باعث دستوری اعلامیے کا ایک مرتبہ پھر بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''میں نے ماورا قانون کوئی کام نہیں کیا بلکہ جو کچھ کیا وہ جنوری2011 کو برپا ہونے والے انقلاب ہی کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کیا گیا''۔
صدر مرسی کا یہ موقف ایک ایسے وقت سامنے آیا جب اپوزیشن کے ہزاروں کارکن تحریر اسکوائر میں صدارتی اعلامیے کے خلاف بطور احتجاج خیمہ زن ہیں۔ مصری ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں صدر مرسی نے کہا کہ یہ ایک نازک مرحلہ ہے اور ہم ابھی عبوری دور سے گذر رہے ہیں۔ دستوری اعلامیہ جاری کر کے آئین اور قانون کو یرغمال نہیں بنایا گیا اور نہ ہی عدلیہ پر حملہ کیا ہے۔ میں نے جو بھی کیا ہے اس عبوری مرحلے سے گزرنے کے لیے کیا ہے۔
نئے صدارتی فرامین عارضی ہیں اور صرف عبوری دور کے لیے ہیں۔ میدان تحریر میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر مرسی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ مصری قوم ماضی کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں سوچنے لگی ہے، ہم اپنی رائے کا کھل کر اظہار کر سکتے ہیں، ہم جو چاہیں کہہ سکتے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک اور اس کے مفادات کا بھی تحفظ کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر آئین کے معاملے میں کوئی تنازعہ پیدا ہو جائے تو دستور میں اس کا حل بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ متنازع آئین پر عوامی ریفرنڈم کرایا لیا جائے۔ صدر مرسی کے بقول اپوزیشن کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا حق ہے۔
صدر مرسی نے کہا کہ انقلاب کا تقاضا اور انقلابیوں کا مطالبہ ہے کہ میں فرسودہ نظام کی تمام باقیات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں۔ پراسیکیوٹر جنرل ایڈووکیٹ عبدالمجید کی برطرفی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو ہٹانا انقلابی کارکنوں کا مطالبہ تھا۔
صدر مرسی کا یہ موقف ایک ایسے وقت سامنے آیا جب اپوزیشن کے ہزاروں کارکن تحریر اسکوائر میں صدارتی اعلامیے کے خلاف بطور احتجاج خیمہ زن ہیں۔ مصری ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں صدر مرسی نے کہا کہ یہ ایک نازک مرحلہ ہے اور ہم ابھی عبوری دور سے گذر رہے ہیں۔ دستوری اعلامیہ جاری کر کے آئین اور قانون کو یرغمال نہیں بنایا گیا اور نہ ہی عدلیہ پر حملہ کیا ہے۔ میں نے جو بھی کیا ہے اس عبوری مرحلے سے گزرنے کے لیے کیا ہے۔
نئے صدارتی فرامین عارضی ہیں اور صرف عبوری دور کے لیے ہیں۔ میدان تحریر میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر مرسی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ مصری قوم ماضی کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں سوچنے لگی ہے، ہم اپنی رائے کا کھل کر اظہار کر سکتے ہیں، ہم جو چاہیں کہہ سکتے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک اور اس کے مفادات کا بھی تحفظ کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر آئین کے معاملے میں کوئی تنازعہ پیدا ہو جائے تو دستور میں اس کا حل بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ متنازع آئین پر عوامی ریفرنڈم کرایا لیا جائے۔ صدر مرسی کے بقول اپوزیشن کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا حق ہے۔
صدر مرسی نے کہا کہ انقلاب کا تقاضا اور انقلابیوں کا مطالبہ ہے کہ میں فرسودہ نظام کی تمام باقیات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں۔ پراسیکیوٹر جنرل ایڈووکیٹ عبدالمجید کی برطرفی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو ہٹانا انقلابی کارکنوں کا مطالبہ تھا۔