کراچی میں نئی حلقہ بندی کا خاکہ تیار کر لیا الیکشن کمیشن

مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے فیصلے کی حمایت کی،متحدہ نے سپریم کورٹ کا حکم نامہ دکھانے کا مطالبہ کیا

پولنگ بوتھ کے اندر کیمرے لگائے جائیں، ووٹر لسٹوں کی تصدیق فوج کے سپردکی جائے، اے این پی،ق لیگ،سنی تحریک،جے یو آئی ف، صوبائی الیکشن کمیشن کو ہٹاجائے،ن لیگ،جماعت اسلامی۔ فوٹو : فائل

KARACHI:
سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے کہا ہے کہ کراچی میں نئی انتخابی حلقہ بندیوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے خاکہ تیار کرلیا ہے اور اس حوالے سے اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں سپریم کورٹ میں غیر حتمی شفارشات پیش کریں گے اور2ماہ میں حلقہ بندیا ں ہونگی، مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پراعتماد کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ منصفانہ انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیاں اور شفاف ووٹر لسٹ تیار ہونی چاہیے۔

ایم کیو ایم نے بھی نئی حلقہ بندیوں کی مخالفت نہیں کی تاہم انھوں نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم نامہ دکھانے کا مطالبہ کیا جو الیکشن کمیشن کے پاس موجود نہیں تھا، ہمارے پاس5 رکنی بینچ کے زبانی احکامات ہیں اس حوالے سے ایم کیو ایم کا موقف وزن دار ہے، سیکریٹری الیکشن کمیشن نے ان خیالات کا اظہار کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں نئی حلقہ بندیوں اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلیے متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی سمیت14 سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندئوں سے مشاورت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔



تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے حکم کی سیاسی جماعتوں سے طویل مشاورت کی، سیاسی رہنمائوں نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی کہ کراچی میں پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوج کو تعینات کیا جائے، بعض جماعتوں نے حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کی تصدیق کا کام بھی فوج سے کرانے کا مطالبہ کیا جبکہ مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی نے صوبائی الیکشن کمشنر سندھ سونو خان بلوچ پر مکمل عدم اعتماد کااظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان کی موجودگی میں کراچی میںشفاف انتخابات ممکن نہیں ہیں ۔

الیکشن کمیشن نے تمام جماعتوں کو ہدایت کی کہ وہ7روز کے اندر اپنی تمام تجاویز کو تحریری شکل میں کمیشن کے سامنے پیش کریں، سیکریٹری الیکشن کمیشن سے سیاسی جماعتوں کے نمائندئوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ صبح10بجے سے رات گئے تک جاری رہا ، سب سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی کے 3 رکنی وفد نے بشیر جان کی قیادت میںملاقات کی ، اے این پینیکراچی کی حلقہ بندیوں کے حوالے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو عوامی امنگوں کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی تجاویز7روز اپنی تحریری شکل میں پیش کریں گے۔

 

بعد ازاں بشیر جان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بد امنی کے جہاں کہیں اور اسباب ہیں وہیں پر ایک بڑا سبب غیر منصفانہ حلقہ بندیاں اور غیر منصفانہ ووٹر لسٹ ہیں، 14ماہ قبل عدالت نے نئی حلقہ بندیوں کا حکم دیا لیکن متعلقہ حکام کو اب ہوش آیا ۔ہم اس بات کے حق میں ہیں یہ حلقہ بندیاں نئے سرے سے کی جائیں اور تعصبانہ بنیاد کے بجائے انصافانہ بنیاد پر ہوں ۔ حلقوں میں ردو بدل کیے بغیر کراچی میں امن انتہائی مشکل ہوگا ، ہمارا مطالبہ ہے کراچی میں الیکشن فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں ۔

 

محمد حسین محنتی کی سربراہی میں جماعت اسلامی کے4 رکنی وفد نیملاقات سیکریٹری کو ایک مرتبہ پھر آگاہ کیا ہے اور ہم ماضی میں بھی الیکشن کمیشن کو بتاتے رہے ہیں۔ دوران الیکشن اور بعد از الیکشن کراچی میں ہر سطح پر دھاندلی ہوتی ہے ،عملے کو یرغمال بنایا جاتا ہے موجودہ حلقہ بندیاں بدنیتی پر مبنی ہیں جبکہ کراچی کے 15لاکھ ووٹرز کو دوسرے حلقوں میں منتقل کیا گیا اور اتنے ہی ووٹرز کو کراچی میں متاثر کیا گیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ فوج کی نگرانی کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے، پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری تاج حیدر کی سربراہی میں تین رکنی وفد نے ملاقات کی ، بعد ازاں تاج حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں غیر منصفانہ حلقہ بندیاں ختم ہونی چاہئیں۔




ہم نے اپنی تحریری تجاویز الیکشن کمیشن کو پیش کردی ہیں، صرف کراچی میں نہیں پورے سندھ میں منصفانہ حلقہ بندیوں اور شفاف ووٹر لسٹ کی ضرورت ہے ، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے اقدامات کی تائید کرتے ہیں ،مسلم لیگ ن کے سلیم ضیا اور دیگر نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے ملاقات کے دوران اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ موجودہ صوبائی الیکشن کمشنر کی موجودگی میں کراچی میں شفاف انتخابات ممکن نہیں ہیں، الیکشن کمیشن اسلام آباد سے مداخلت کرے، کراچی کے 30لاکھ ووٹوں کو مختلف شہروں اور کراچی کے اندر تقسیم کیا گیا۔

 

جو بدنیتی پر مبنی ہے ان تمام ووٹوں کو اپنی سابقہ جگہ پر منتقل کیا جائے اور فوج کی نگرانی میں انتخابات کروائے جائیں، تحریک انصاف کے عارف علوی و دیگر نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوج کی نگرانی میں الیکشن کرانے کے علاوہ پولنگ اسٹیشن میں سی سی ٹی وہ کیمرے نصب کیے جائیں اور نادرا کے ڈیٹا بیس کو ہی ووٹر لسٹ تسلیم کیا جائے، مسلم لیگ (ق) حلیم عادل شیخ اوردیگر نے بھی ملاقات کی،بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے عدالت کے فیصلے اورالیکشن کمیشن کے اقدام پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ نئی حلقہ بندیاں نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں ہونی چاہئیں اور فوج کی نگرانی میں انتخابات کروائے جائیں، فوج کو پولنگ اسٹیشنز کے باہر نہیں بلکہ اندر تعینات کیا جائے ۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے قاری محمد عثمان اور دیگر نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں لسانی بنیادوں پر حلقہ بندیاں کی گئی ہیں اور دانستہ طور پر ووٹر لسٹ کو خراب کیا گیا ہے جس کا مقصد دھاندلی کرنا ہے، اس کا خاتمہ کیا جائے ، جمعیت علمائے پاکستان کے مولانا حلیم اور سنی تحریک کے آفتاب قادری نے بھی سیکریٹری الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اور شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں فوج کی نگرانی میں الیکشن کرانا ضروری ہے یہاں ایک مخصوص گروپ کا قبضہ ہے جو ہر چیز ہائی جیک کرتا ہے ۔



مسلم لیگ فنکشنل کے امتیاز شیخ اور جام مدد علی نے بھی ملاقات کے دوران کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ مطالبہ کرتے ہیں فوری طور پراس فیصلے پر عمل کرایا جائے اور میرٹ کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کی جائیں، انھوں نے کہا کہ ریونیو حدودکے تحت حلقہ بندیاں کی جائیں، ۔اگر کسی کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر اعتراض ہے تو اس کو عملی طور پر چیلنج کرے۔رضا ہارون کی قیادت میں متحدہ قومی موومنٹ نے ملاقات کے دوران صرف کراچی میں حلقہ بندیوں کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے مشاورتی عمل میں فی الحال رائے نہ دینے کا فیصلہ کیاہے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رضا ہارون نے کہا کہ ایم کیوایم کے رہنمائوں نے صدر پاکستان ،وفاق پاکستان ،چیف جسٹس آف پاکستان اور غیر جانبدار ججوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران ''اجارہ داری'' جیسے الفاظ کے استعمال کا از خود نوٹس لیں اور کہاہے کہ یہ لفظ نہ صرف غیر قانونی ،غیر آئینی ،غیر اخلاقی بلکہ غیر جمہوری بھی ہے ،اس طرح کے الفاظ کے استعمال سے کراچی کے کروڑوں عوام اور ان کی نمائندہ جماعت کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی ہے اگر اس طرح کے الفاظ کا سلسلہ جاری رہا تو پھرکیاکراچی کے عوام کچھ اور سوچیں یا کسی اور فورم پر جائیں ،جہاں ان کی آواز سنی جاسکے؟ رضا ہارون نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ملاقات میں واضح موقف اختیار کیا ہے کہ ابھی تک ان کے سامنے سپریم کورٹ کا تحریری طور پر فیصلہ نہیں آیا ہے۔

اس لیے گزشتہ دو دن سے جاری یہ جدوجہد اور کوششیں لاحاصل ہیں ، جب فیصلہ تحریری طور پر سامنے آئے گا تو ہم اس پر مزید بات کریں گے، انھوں نے کہا سیکریٹری الیکشن کمیشن نے ہماری بات کو تسلیم کیا ہے ، رضا ہارون نے کہا بنیادی طورپر نئی حلقہ بندیاں نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہونی چاہئیں اور اس کی ضرورت پورے ملک میں ہے۔کسی ایک علاقے کواس کام کیلیے مخصوص کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا، اگر حلقہ بندیاں کرنی ہیں تو نشانہ صرف کراچی کوکیوںبنایا جارہا ہے ،لاہور اور پشاورکیوں نہیں ؟ْ، انھوں نے کہاکہ اگر بدامنی کی بات کی جائے تو آدھے سے زیادہ بلوچستان میں پاکستان کا جھنڈانہیں لہرایاجاسکتا،پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صورتحال بھی قوم کے سامنے ہے،رضاہارون نے کہاکہ کراچی کے عوام پہلے ہی احساس محرومی کا شکار ہیں ۔

ان کے ساتھ مختلف حوالوں سے زیادتیاں کی گئی ہیں ایسے الفاظ کا استعمال ان کے احساس محرومی میں مزید اضافہ کرے گا، انھوں نے کہا کہ120گز کے مکان میں 633ووٹرز کا اندراج دراصل کمپیوٹر کی غلطی تھی اور یہ تمام ووٹرز متعلقہ علاقے کے ہیں ۔جن کا درست اندراج ہے ۔پتہ لکھنے کے دوران کمپیوٹر کی غلطی کی وجہ سے ایک ہی پتہ استعمال ہوا جس کی تصدیق الیکشن کمیشن نے کی اور انھوں نے اس موقع پر الیکشن کمیشن کا وضاحتی بیان بھی میڈیا کو دکھایا ۔رضا ہارون نے کہا کہ30لاکھ ووٹوں کو منتقل کرنے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے ۔میڈیا سے گفتگو میں سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے سندھ حکومت کو انتظامی اقدامات کرنے کا کہا ہے، حکومت نئے پولنگ بوتھ قائم کرے گی جس کے بعد ان بوتھ کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرے گا،انھوں نے کہا ہے کہ کہ عدالتی پر نئی حلقہ بندیاں ہونی چاہئیں،اب حلقہ بندیاں ہم نے کرنی ہیں اور خاکہ بھی تیار کر لیاہے۔
Load Next Story