معراج سے آخری گفتگو
جو شخص اس دنیا میں نومولود کی شکل میں آتا ہے اسے ایک نہ ایک دن دنیا سے جانا ہوتا ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
جو شخص اس دنیا میں نومولود کی شکل میں آتا ہے اسے ایک نہ ایک دن دنیا سے جانا ہوتا ہے۔ ہر روز لاکھوں بچے پیدا ہوتے ہیں اور ہر روز لاکھوں انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، یہ سلسلہ انسانوں کی معلوم تاریخ سے چل رہا ہے اور کرۂ ارض کے زندہ رہنے تک چلتا رہے گا۔ معراج محمد خان کی وفات بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ کچھ ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے لیے کم دوسروں کے لیے زیادہ زندہ رہتے ہیں۔ معراج کا شمار بھی ان مخصوص لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنے لیے کم اور عوام کے لیے زیادہ زندہ رہے۔
میں ایک عرصے سے کوشش کر رہا ہوں کہ ایسے نادر انسانوں کی خدمات کا ان کی زندگی میں اعتراف کیا جائے، اس حوالے سے میں نے ایک باوسیلہ شخص کو آمادہ کیا کہ مختلف شعبہ زندگی میں غریب عوام کی زندگی بدلنے کے لیے جو لوگ جد وجہد کرتے رہے، انھیں ان کی زندگی ہی میں ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا جائے۔ ہماری اس تجویز پر غالباً کچھ عرصہ عمل ہوتا رہا اور پھر رات گئی بات گئی والا معاملہ ہو گیا، کچھ لوگوں کو ہلکے پھلکے ایوارڈز سے نوازا گیا، پھر یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔
مجھے جب کچھ دوستوں نے بتایاکہ معراج محمد خان سخت بیمار ہیں تو میں نے اپنے دوستوں ڈاکٹر جعفر احمد، کرامت علی، ڈاکٹر جمال وغیرہ سے کہاکہ آپ لوگ چونکہ متحرک ہیں اب دوستوں سے مشورہ کر کے معراج محمد خان کے لیے ایک تقریب سپاس کا اہتمام کریں، مسلسل بیماریوں نے چونکہ مجھے غیر فعال کر دیا ہے لہٰذا میں فعال دوستوں سے ہی کہہ سکتا ہوں۔ ہمارے ان دوستوں نے ایک تقریب عقیدت کا اہتمام کرنے کا وعدہ کیا، میں نے معراج محمد خان کو فون کیا کہ اس خوشخبری سے انھیں آگاہ کروں۔ فون بیگم معراج نے اٹھایا میں نے کہاکہ بھابی معراج سے بات کرا دیں۔ انھوں نے کہا میں معراج سے معلوم کرتی ہوں کہ وہ بات کر سکتے ہیں یا نہیں۔ مجھے اس وقت اندازہ ہوا کہ معراج کی حالت کس قدر سنگین ہے۔
بہرحال معراج سے بات ہوئی۔ ان کی سانس پھولی ہوئی تھی اور وہ بڑی مشکل سے بات کر پا رہے تھے۔ میں نے حال پوچھنے کے بعد کہا کہ دوست آپ کے لیے ایک تقریب سپاس کا اہتمام کر رہے ہیں۔ آپ کو اس میں آنا ہے۔ بھائی معراج کی ہنسی بڑی تلخ تھی۔ انھوں نے کہا یار میں تو بیٹھ ہی نہیں سکتا، نہ ہل جل سکتا ہوں، بھلا میں اس تقریب میں کیسے آ سکتا ہوں۔ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلنے والی آواز اور مسلسل سانس سے میں نے اندازہ کر لیا کہ معراج محمد خان اب اس قابل نہیں رہے کہ وہ کسی تقریب میں جا سکیں میں نے طبیعت بہتر ہونے پر خود آنے کا وعدہ کیا یوں بات ختم ہوئی۔
یہ بات بھائی معراج کے انتقال سے دس بارہ روز پہلے ہوئی تھی۔ میرے ذہن میں معراج کے دست راست اظہر جمیل کی بات گرم سیسے کی طرح لہریں لینے لگی کہ بیدری صاحب ہم مردہ پرست لوگ ہیں۔ ہم اپنے دوستوں کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں نہیں کرتے بلکہ ہمیں اس وقت اس قسم کی تقریبات کا خیال آتا ہے جب کوئی انسان دوست بستر مرگ پر ہوتا ہے یہ بات بھی اظہر جمیل نے اس وقت کی تھی جب میں نے ان سے ایک تقریب میں معراج محمد خان کو لانے کے لیے کہا تھا۔
بھائی معراج اب ہم میں نہیں رہے وہ ایک ایسے سفر پر روانہ ہوگئے جس کے نہ آغاز کا پتہ ہے نہ انجام کا اس موقع پر مجھے معروف ادیب چیخوف کے ایک افسانے وارڈ نمبر6 کا ایک اقتباس یاد آ رہا ہے جس میں چیخوف کسی سے شکایت کرتا ہے کہ ''اگر تجھے اس ملکوتی ذہن کو تخلیق ہی کرنا تھا تو پھر اسے تین ارب سال تک بلا مقصد سورج کے گرد گھومتے رہنے کی سزا کیوں دی'' ؟ ماہرین ارض کا خیال ہے کہ کرۂ ارض کو وجود میں آئے چار ارب سال ہو رہے ہیں اور کرۂ ارض کوئی کائناتی حادثہ نہ ہو تو ابھی تین ارب سال زندہ رہ سکتا ہے جب یہ کائناتی حقیقت سامنے آتی ہے تو سارے مفروضے دم توڑ جاتے ہیں۔
چونکہ معراج محمد خان اور ہم ایک ہی فکری قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے زندگی میں قدم قدم پر ساتھ رہا۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ بایاں بازو عشروں سے فکری خلفشار اور عملی جمود کا شکار ہے ذاتی اور جماعتی مفادات نے بائیں بازو کو اس قدر بے عملی اور فکری انتشار کا شکار کر دیا ہے کہ سیاسی اور نظریاتی تعلق کی بات تو دور رہی سماجی رشتے حال احوال سے بھی ہم لا تعلق ہو کر رہ گئے ہیں۔ میں نے اس المناک صورت حال پر جب اپنے دیرینہ رفیق ڈاکٹر مظہر سے بات کی تو وہ بھی بے حد متاسف نظر آئے چونکہ وہ بھی بائی پاس سے گزر کر ایک محتاط زندگی گزار رہے ہیں۔ سو وہ صرف آہ بھر کر رہ گئے۔ کچھ متحرک دوست ہیں لیکن ان میں بے اعتمادی کا عالم یہ ہے کہ کوئی ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں شکوے شکایتیں الزام تراشی ہی میں ہمارے وقت کا زیادہ حصہ گزر جاتا ہے۔
میں نے ذاتی طور پر اس فضا کو بدلنے کے لیے بعض بڑی نشستوں کا اہتمام کیا جس میں معراج محمد خان سمیت تقریباً ساری ترقی پسند پارٹیوں کے سربراہ شریک ہوئے معراج محمد خان کی تجویز پر ایک اور میٹنگ ہمارے بہترین دوست کرامت شیر کے فارم ہاؤس کرامت باغ میں رکھی جس میں رسول بخش پلیجو سمیت تمام ترقی پسند پارٹیوں کے رہنما شریک ہوئے لیکن ان لگاتار کوششوں کے باوجود کوئی موثر اتحاد نہ بن سکا۔ معراج محمد خان کی عوامی سیاست کی تفصیل کا ذکر کرنا اس لیے بے معنی ہے کہ جو لوگ اپنی تمام زندگی ہی عوامی زندگی کی تبدیلی کے لیے وقف کر دیتے ہیں ۔
ان کی خدمات کی تفصیل بے معنی ہی کہلا سکتی ہے۔ ہاں مجھے یہ دکھ ضرور ہے اور میری شدید خواہش تھی کہ بھائی معراج کی زندگی میں ہمارے دوست ان کے شایان شان ایک تقریب سپاس کا اہتمام کرتے اب بھی دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ ایک کمیٹی بنائیں جو سینئر دوستوں کی نظریاتی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی زندگیوں ہی میں تقاریب سپاس کا اہتمام کرے۔
میں ایک عرصے سے کوشش کر رہا ہوں کہ ایسے نادر انسانوں کی خدمات کا ان کی زندگی میں اعتراف کیا جائے، اس حوالے سے میں نے ایک باوسیلہ شخص کو آمادہ کیا کہ مختلف شعبہ زندگی میں غریب عوام کی زندگی بدلنے کے لیے جو لوگ جد وجہد کرتے رہے، انھیں ان کی زندگی ہی میں ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا جائے۔ ہماری اس تجویز پر غالباً کچھ عرصہ عمل ہوتا رہا اور پھر رات گئی بات گئی والا معاملہ ہو گیا، کچھ لوگوں کو ہلکے پھلکے ایوارڈز سے نوازا گیا، پھر یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔
مجھے جب کچھ دوستوں نے بتایاکہ معراج محمد خان سخت بیمار ہیں تو میں نے اپنے دوستوں ڈاکٹر جعفر احمد، کرامت علی، ڈاکٹر جمال وغیرہ سے کہاکہ آپ لوگ چونکہ متحرک ہیں اب دوستوں سے مشورہ کر کے معراج محمد خان کے لیے ایک تقریب سپاس کا اہتمام کریں، مسلسل بیماریوں نے چونکہ مجھے غیر فعال کر دیا ہے لہٰذا میں فعال دوستوں سے ہی کہہ سکتا ہوں۔ ہمارے ان دوستوں نے ایک تقریب عقیدت کا اہتمام کرنے کا وعدہ کیا، میں نے معراج محمد خان کو فون کیا کہ اس خوشخبری سے انھیں آگاہ کروں۔ فون بیگم معراج نے اٹھایا میں نے کہاکہ بھابی معراج سے بات کرا دیں۔ انھوں نے کہا میں معراج سے معلوم کرتی ہوں کہ وہ بات کر سکتے ہیں یا نہیں۔ مجھے اس وقت اندازہ ہوا کہ معراج کی حالت کس قدر سنگین ہے۔
بہرحال معراج سے بات ہوئی۔ ان کی سانس پھولی ہوئی تھی اور وہ بڑی مشکل سے بات کر پا رہے تھے۔ میں نے حال پوچھنے کے بعد کہا کہ دوست آپ کے لیے ایک تقریب سپاس کا اہتمام کر رہے ہیں۔ آپ کو اس میں آنا ہے۔ بھائی معراج کی ہنسی بڑی تلخ تھی۔ انھوں نے کہا یار میں تو بیٹھ ہی نہیں سکتا، نہ ہل جل سکتا ہوں، بھلا میں اس تقریب میں کیسے آ سکتا ہوں۔ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلنے والی آواز اور مسلسل سانس سے میں نے اندازہ کر لیا کہ معراج محمد خان اب اس قابل نہیں رہے کہ وہ کسی تقریب میں جا سکیں میں نے طبیعت بہتر ہونے پر خود آنے کا وعدہ کیا یوں بات ختم ہوئی۔
یہ بات بھائی معراج کے انتقال سے دس بارہ روز پہلے ہوئی تھی۔ میرے ذہن میں معراج کے دست راست اظہر جمیل کی بات گرم سیسے کی طرح لہریں لینے لگی کہ بیدری صاحب ہم مردہ پرست لوگ ہیں۔ ہم اپنے دوستوں کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں نہیں کرتے بلکہ ہمیں اس وقت اس قسم کی تقریبات کا خیال آتا ہے جب کوئی انسان دوست بستر مرگ پر ہوتا ہے یہ بات بھی اظہر جمیل نے اس وقت کی تھی جب میں نے ان سے ایک تقریب میں معراج محمد خان کو لانے کے لیے کہا تھا۔
بھائی معراج اب ہم میں نہیں رہے وہ ایک ایسے سفر پر روانہ ہوگئے جس کے نہ آغاز کا پتہ ہے نہ انجام کا اس موقع پر مجھے معروف ادیب چیخوف کے ایک افسانے وارڈ نمبر6 کا ایک اقتباس یاد آ رہا ہے جس میں چیخوف کسی سے شکایت کرتا ہے کہ ''اگر تجھے اس ملکوتی ذہن کو تخلیق ہی کرنا تھا تو پھر اسے تین ارب سال تک بلا مقصد سورج کے گرد گھومتے رہنے کی سزا کیوں دی'' ؟ ماہرین ارض کا خیال ہے کہ کرۂ ارض کو وجود میں آئے چار ارب سال ہو رہے ہیں اور کرۂ ارض کوئی کائناتی حادثہ نہ ہو تو ابھی تین ارب سال زندہ رہ سکتا ہے جب یہ کائناتی حقیقت سامنے آتی ہے تو سارے مفروضے دم توڑ جاتے ہیں۔
چونکہ معراج محمد خان اور ہم ایک ہی فکری قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے زندگی میں قدم قدم پر ساتھ رہا۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ بایاں بازو عشروں سے فکری خلفشار اور عملی جمود کا شکار ہے ذاتی اور جماعتی مفادات نے بائیں بازو کو اس قدر بے عملی اور فکری انتشار کا شکار کر دیا ہے کہ سیاسی اور نظریاتی تعلق کی بات تو دور رہی سماجی رشتے حال احوال سے بھی ہم لا تعلق ہو کر رہ گئے ہیں۔ میں نے اس المناک صورت حال پر جب اپنے دیرینہ رفیق ڈاکٹر مظہر سے بات کی تو وہ بھی بے حد متاسف نظر آئے چونکہ وہ بھی بائی پاس سے گزر کر ایک محتاط زندگی گزار رہے ہیں۔ سو وہ صرف آہ بھر کر رہ گئے۔ کچھ متحرک دوست ہیں لیکن ان میں بے اعتمادی کا عالم یہ ہے کہ کوئی ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں شکوے شکایتیں الزام تراشی ہی میں ہمارے وقت کا زیادہ حصہ گزر جاتا ہے۔
میں نے ذاتی طور پر اس فضا کو بدلنے کے لیے بعض بڑی نشستوں کا اہتمام کیا جس میں معراج محمد خان سمیت تقریباً ساری ترقی پسند پارٹیوں کے سربراہ شریک ہوئے معراج محمد خان کی تجویز پر ایک اور میٹنگ ہمارے بہترین دوست کرامت شیر کے فارم ہاؤس کرامت باغ میں رکھی جس میں رسول بخش پلیجو سمیت تمام ترقی پسند پارٹیوں کے رہنما شریک ہوئے لیکن ان لگاتار کوششوں کے باوجود کوئی موثر اتحاد نہ بن سکا۔ معراج محمد خان کی عوامی سیاست کی تفصیل کا ذکر کرنا اس لیے بے معنی ہے کہ جو لوگ اپنی تمام زندگی ہی عوامی زندگی کی تبدیلی کے لیے وقف کر دیتے ہیں ۔
ان کی خدمات کی تفصیل بے معنی ہی کہلا سکتی ہے۔ ہاں مجھے یہ دکھ ضرور ہے اور میری شدید خواہش تھی کہ بھائی معراج کی زندگی میں ہمارے دوست ان کے شایان شان ایک تقریب سپاس کا اہتمام کرتے اب بھی دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ ایک کمیٹی بنائیں جو سینئر دوستوں کی نظریاتی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی زندگیوں ہی میں تقاریب سپاس کا اہتمام کرے۔