ہیپا ٹائٹس سے ہرتیرہوا ں شخص متاثر مرض خاموش قاتل ہے ماہرین طب
ہیپاٹائٹس اے آلودہ پانی سے لاحق ہوتا ہے،ڈاکٹر مصدق
ہمیشہ محفوظ خون لگوائیں،حجام کے آلودہ استروں سے محفوظ رہا جائے،ناک کان چھیدنے والوں کی آلودہ سوئیوں سے بچا جائے،ڈاکٹر سعید حامد اور دیگر ماہرین کا خطاب ۔ فوٹو : پی پی آئی
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کے وائرس سے بچاؤ اور آگاہی کے حوالے سے عالمی دن منایاگیا،اس دن کی مناسبت سے کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام، ڈاؤ یونیورسٹی، لیاقت نیشنل اسپتال،انڈس اسپتال،ایس آئی یوٹی اسپتال، پٹیل اسپتال، المصطفیٰ اسپتال سمیت دیگراسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کے وائرس سے بچاؤ اور آگاہی کے حوالے سے ورکشاپس اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر انڈس اسپتال کے تحت مقامی ہوٹل میں پروگرام منعقد کیا گیا ،وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے پروگرام میں کہا کہ ہیپاٹائٹس ہر 13 واں شخص متاثر ہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت صوبوںکی بنیادی ذمے داری اور وفاقی کی اضافی ذمے داری ہے ، انھوں نے زندگی فاؤنڈیشن کی افتتاحی تقریب سے بھی خطاب کیا،اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کی سندھ میں سربراہ ڈاکٹر سارا سلطان، انڈس اسپتال کے ڈائریکٹر آپریشنز ڈاکٹر ظفر زیدی سمیت دیگر بھی موجود تھے ، ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ہیپاٹائٹس خاموش قاتل ہے۔ یہ بیماری اس قدرتباہ کن ہے کہ یہ افریقہ میں ایڈزکی تباہ کاریوںکی طرح پوری کی پوری نسلیں تباہ کر سکتی ہے،اس سے بچاؤکیلیے ہمیں حکومت اور پرائیویٹ سیکٹرکومل کر آگے آنا ہوگا ، ہیپاٹائٹس سے ہر سال پوری دنیا میں 7لاکھ لوگ مرجاتے ہیں اور پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے جہاں ہیپاٹائٹس سے زیادہ اموات ہوتی ہیں ،انڈس اسپتال پاکستان میں علاج کی مفت اورمعیاری خدمات انجام دے رہا ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیر اعظم ہیلتھ کیئر پروگرام شروع کیا جس کے ذریعے کوئی بھی خاندان جو یومیہ 200 روپے سے کم اجرت کماتاہو، وہ کسی بھی اچھے سے اچھے نجی اسپتال سے اپنا علاج مفت کروا سکتا ہے اور اس کے پیسے وفاقی حکومت ادا کرے گی۔
یہ پروگرام کوئٹہ ، اسلام آباد اور مظفر آباد میں جاری ہے اور جلد اسے مزید 21اضلاع تک پھیلا دیا جائے گا ، اس پروگرام میں حکومت سندھ اور خیبرپختونخوا نے تاحال دستخط نہیں کیے، اس لیے سندھ اور خیبرپختونخوا کے عوام پروگرام سے محروم ہیں، انڈس اسپتال کے ڈائریکٹر آپریشن ڈاکٹر ظفر زیدی نے بتایا کہ وہ دوا ساز ادارے فارم ایوو کے تعاون سے ہیپاٹائٹس کے قابل بھروسہ اور معیاری علاج فراہم کرنے کا آغاز کر رہے ہیںاور ابتدائی طور پر کراچی سے شروع ہونے والے اس پروگرام کو پورے پاکستان میں پھیلا دیا جائے گا ،پروگرام کے لیے ابتدائی طور پر 20کروڑ روپے سے ہیپاٹائٹس کے علاج کے لیے کلینکس قائم کیے جائیں گے،دریں اثنا سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پرآگاہی پروگرام کا انعقاد کیاگیا ،اس موقع پر ایس آئی یوٹی میں دن بھر تمام شرکا کو ویکسین بھی لگائی گئی ۔
ہیپاٹائٹس سے بچاؤکے طریقوں کے متعلق معلومات فراہم کی گئی،ایس آئی یوٹی کے ماہرین نے کہاکہ پاکستان میں تقریباً 15 ملین افراد اس مرض کا شکار ہیں، پاکستان میں ہر تیرہواں شخص ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثر ہے، ماہرین کا کہنا تھا کہ ایس آئی یوٹی میں تمام سہولیات مریضوں کو عزت نفس کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں، ڈاؤ یونیورسٹی میں بھی جمعرات کو ہیپاٹائٹس کے مرض سے آگاہی کے حوالے سے سیمینار منعقد کیاگیا جس میں ماہرین نے کہاکہ ہیپاٹائٹس خاموش قاتل مرض ہے جبکہ دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، ہیپاٹائٹس بی اور سی قابل علاج ہیں ،ماہرین کا کہنا تھا کہ دنیا میں تقریباً 17کروڑ افراد جبکہ پاکستان میں ایک لاکھ 50ہزار سے زائد افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہے، فوری تشخیص کے بعد 90 فیصد مریض ادویات سے صحت یاب ہوجاتے ہیں تاہم عوام میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی کی اشدضرورت ہے،ماہرین نے کہاکہ ڈاؤ یونیورسٹی کو سندھ کی پہلی سرکاری یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہے جہاں جگرکی پیوندکاری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں عالمی یوم ہیپاٹائٹس کے مناسبت سے ہیپاٹائٹس آگاہی واک بھی منعقد کی گئی ،ڈاؤیونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان نے ڈاؤ یونیورسٹی میںکامیاب جگر کی پیوندکاری کے بارے میں آگاہ کیا، انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تقریباً 10سے 20 فیصد افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں،یہ ایک ایسا مرض جس کو احتیاطی تدابیرکے ذریعے روکا جاسکتا ہے، پاکستان میں اس بیماری میں اضافے کے مدنظر ڈاکٹروں، مریضوں پر مشتمل ایک ایسی فورس تشکیل دی جائے جوکہ لوگوں میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی دے، المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین حاجی محمدحنیف طیب نے کہاہے کہ الحمدجدیدمیڈیکل سائنس کی وجہ سے دنیا چیچک اورٹی بی جیسے امراض سے پاک ہوچکی ہے پولیوکا مرض ختم ہونے کے قریب ہے، وہ المصطفیٰ میڈیکل سینٹر گلشن اقبال میں ہونٹ اور تالوکٹے مریضوں کی سرجری مہم کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے،اس موقع پر پلاسٹک سرجن پروفیسر ڈاکٹر اشرف گناترا ،المصطفیٰ کے جنرل سیکریٹری عبد الغنی سلیمان،سیکریٹری اطلاعات معین خان اور احمد رضا طیب ،عبدالغفار سعیدی ،امین آدمجی بھی موجودتھے۔
آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے شعبہ میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر سعید حامد نے کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس ایک موذی مرض ہے جس کا وائرس جگرکو شدید متاثر کرکے ناکارہ بنادیتا ہے جوجاں لیوا ثابت ہوتا ہے تاہم یہ قابل علاج مرض ہے اوراگر احتیاط کی جائے تو اس مرض سے محفو ظ رہا جاسکتا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوںنے ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر آغاخان یونیورسٹی اسپتال میں منعقد ہ آگہی سیمینار سے خطاب کے دوران کیا،اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈاکٹر شہاب عابد، ڈاکٹر حسنین علی شاہ ، ڈاکٹر رستم خان ودیگر بھی موجود تھے،سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ انسانی جگر انسان کو کئی طریقوں سے صحت مند رکھتا ہے یہ خون سے ٹاکس نکال دیتا ہے اور غذائی اجزاء کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے تاہم ہیپٹائٹس کا مرض اس کو ناکارہ کردیتا ہے، انھوں نے بتایا کہ ہیپٹائٹس بی سے حفاظت کی ویکسین موجود ہے جس کے لگوانے سے بی وائرس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جبکہ ہیپٹائٹس سی سے بچنے کیلیے انتقال خون کے وقت اسکریننگ کرواکر محفوظ خون لگوائیں اور حجام کے آلودہ استروں سے محفوظ رہا جائے کسی کا بلیڈ استعمال کرنے سے گریز کیاجائے، ناک کان چھیدنے والوں کی آلودہ سوئیوں سے بچا جائے۔
ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر انڈس اسپتال کے تحت مقامی ہوٹل میں پروگرام منعقد کیا گیا ،وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے پروگرام میں کہا کہ ہیپاٹائٹس ہر 13 واں شخص متاثر ہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت صوبوںکی بنیادی ذمے داری اور وفاقی کی اضافی ذمے داری ہے ، انھوں نے زندگی فاؤنڈیشن کی افتتاحی تقریب سے بھی خطاب کیا،اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کی سندھ میں سربراہ ڈاکٹر سارا سلطان، انڈس اسپتال کے ڈائریکٹر آپریشنز ڈاکٹر ظفر زیدی سمیت دیگر بھی موجود تھے ، ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ہیپاٹائٹس خاموش قاتل ہے۔ یہ بیماری اس قدرتباہ کن ہے کہ یہ افریقہ میں ایڈزکی تباہ کاریوںکی طرح پوری کی پوری نسلیں تباہ کر سکتی ہے،اس سے بچاؤکیلیے ہمیں حکومت اور پرائیویٹ سیکٹرکومل کر آگے آنا ہوگا ، ہیپاٹائٹس سے ہر سال پوری دنیا میں 7لاکھ لوگ مرجاتے ہیں اور پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے جہاں ہیپاٹائٹس سے زیادہ اموات ہوتی ہیں ،انڈس اسپتال پاکستان میں علاج کی مفت اورمعیاری خدمات انجام دے رہا ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیر اعظم ہیلتھ کیئر پروگرام شروع کیا جس کے ذریعے کوئی بھی خاندان جو یومیہ 200 روپے سے کم اجرت کماتاہو، وہ کسی بھی اچھے سے اچھے نجی اسپتال سے اپنا علاج مفت کروا سکتا ہے اور اس کے پیسے وفاقی حکومت ادا کرے گی۔
یہ پروگرام کوئٹہ ، اسلام آباد اور مظفر آباد میں جاری ہے اور جلد اسے مزید 21اضلاع تک پھیلا دیا جائے گا ، اس پروگرام میں حکومت سندھ اور خیبرپختونخوا نے تاحال دستخط نہیں کیے، اس لیے سندھ اور خیبرپختونخوا کے عوام پروگرام سے محروم ہیں، انڈس اسپتال کے ڈائریکٹر آپریشن ڈاکٹر ظفر زیدی نے بتایا کہ وہ دوا ساز ادارے فارم ایوو کے تعاون سے ہیپاٹائٹس کے قابل بھروسہ اور معیاری علاج فراہم کرنے کا آغاز کر رہے ہیںاور ابتدائی طور پر کراچی سے شروع ہونے والے اس پروگرام کو پورے پاکستان میں پھیلا دیا جائے گا ،پروگرام کے لیے ابتدائی طور پر 20کروڑ روپے سے ہیپاٹائٹس کے علاج کے لیے کلینکس قائم کیے جائیں گے،دریں اثنا سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پرآگاہی پروگرام کا انعقاد کیاگیا ،اس موقع پر ایس آئی یوٹی میں دن بھر تمام شرکا کو ویکسین بھی لگائی گئی ۔
ہیپاٹائٹس سے بچاؤکے طریقوں کے متعلق معلومات فراہم کی گئی،ایس آئی یوٹی کے ماہرین نے کہاکہ پاکستان میں تقریباً 15 ملین افراد اس مرض کا شکار ہیں، پاکستان میں ہر تیرہواں شخص ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثر ہے، ماہرین کا کہنا تھا کہ ایس آئی یوٹی میں تمام سہولیات مریضوں کو عزت نفس کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں، ڈاؤ یونیورسٹی میں بھی جمعرات کو ہیپاٹائٹس کے مرض سے آگاہی کے حوالے سے سیمینار منعقد کیاگیا جس میں ماہرین نے کہاکہ ہیپاٹائٹس خاموش قاتل مرض ہے جبکہ دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، ہیپاٹائٹس بی اور سی قابل علاج ہیں ،ماہرین کا کہنا تھا کہ دنیا میں تقریباً 17کروڑ افراد جبکہ پاکستان میں ایک لاکھ 50ہزار سے زائد افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہے، فوری تشخیص کے بعد 90 فیصد مریض ادویات سے صحت یاب ہوجاتے ہیں تاہم عوام میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی کی اشدضرورت ہے،ماہرین نے کہاکہ ڈاؤ یونیورسٹی کو سندھ کی پہلی سرکاری یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہے جہاں جگرکی پیوندکاری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں عالمی یوم ہیپاٹائٹس کے مناسبت سے ہیپاٹائٹس آگاہی واک بھی منعقد کی گئی ،ڈاؤیونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان نے ڈاؤ یونیورسٹی میںکامیاب جگر کی پیوندکاری کے بارے میں آگاہ کیا، انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تقریباً 10سے 20 فیصد افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں،یہ ایک ایسا مرض جس کو احتیاطی تدابیرکے ذریعے روکا جاسکتا ہے، پاکستان میں اس بیماری میں اضافے کے مدنظر ڈاکٹروں، مریضوں پر مشتمل ایک ایسی فورس تشکیل دی جائے جوکہ لوگوں میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی دے، المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین حاجی محمدحنیف طیب نے کہاہے کہ الحمدجدیدمیڈیکل سائنس کی وجہ سے دنیا چیچک اورٹی بی جیسے امراض سے پاک ہوچکی ہے پولیوکا مرض ختم ہونے کے قریب ہے، وہ المصطفیٰ میڈیکل سینٹر گلشن اقبال میں ہونٹ اور تالوکٹے مریضوں کی سرجری مہم کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے،اس موقع پر پلاسٹک سرجن پروفیسر ڈاکٹر اشرف گناترا ،المصطفیٰ کے جنرل سیکریٹری عبد الغنی سلیمان،سیکریٹری اطلاعات معین خان اور احمد رضا طیب ،عبدالغفار سعیدی ،امین آدمجی بھی موجودتھے۔
آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے شعبہ میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر سعید حامد نے کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس ایک موذی مرض ہے جس کا وائرس جگرکو شدید متاثر کرکے ناکارہ بنادیتا ہے جوجاں لیوا ثابت ہوتا ہے تاہم یہ قابل علاج مرض ہے اوراگر احتیاط کی جائے تو اس مرض سے محفو ظ رہا جاسکتا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوںنے ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر آغاخان یونیورسٹی اسپتال میں منعقد ہ آگہی سیمینار سے خطاب کے دوران کیا،اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈاکٹر شہاب عابد، ڈاکٹر حسنین علی شاہ ، ڈاکٹر رستم خان ودیگر بھی موجود تھے،سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ انسانی جگر انسان کو کئی طریقوں سے صحت مند رکھتا ہے یہ خون سے ٹاکس نکال دیتا ہے اور غذائی اجزاء کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے تاہم ہیپٹائٹس کا مرض اس کو ناکارہ کردیتا ہے، انھوں نے بتایا کہ ہیپٹائٹس بی سے حفاظت کی ویکسین موجود ہے جس کے لگوانے سے بی وائرس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جبکہ ہیپٹائٹس سی سے بچنے کیلیے انتقال خون کے وقت اسکریننگ کرواکر محفوظ خون لگوائیں اور حجام کے آلودہ استروں سے محفوظ رہا جائے کسی کا بلیڈ استعمال کرنے سے گریز کیاجائے، ناک کان چھیدنے والوں کی آلودہ سوئیوں سے بچا جائے۔