ترکی میں مخالفین کے لیے زمین تنگ

ترکی میں بری اور فضائی فوج کے ایک مختصر حصے نے بغاوت کی

tauceeph@gmail.com

KARACHI:
ترکی میں بری اور فضائی فوج کے ایک مختصر حصے نے بغاوت کی۔ عوام کی طاقت نے اس فوجی بغاوت کو کچل دیا۔ ترکی کی پولیس نے باغی فوجی جنرلوں کو گرفتار کیا۔ عوام ٹینکوں کے سامنے مزاحمت کی دیوار بن گئے۔ باغیوں نے صدر اردگان کے طیارے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر قسمت صدر اردگان کے ساتھ تھی۔ صدر اردگان نے فتح اﷲ گولن کو اس بغاوت کا ذمے دار قرار دیا۔ ہزاروں باغیوں کے ساتھ ججوں، یونیورسٹیوں کے اساتذہ، ڈین اور وائس چانسلروں کو برطرف کیا گیا۔ ترکی میں علما نے باغیوں کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے انکار کیا۔

ان باغیوں کی قبرستانوں میں تدفین نہیں ہوئی اور اب حکومت نے ہلاک ہونے والے باغیوں کی تدفین کے لیے علیحدہ قبرستان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ استنبول کے میئر کا کہنا ہے کہ راہگیر اس قبرستان سے گزرتے ہوئے ان باغیوں کی مذمت کیا کریں گے۔ صدر اردگان نے فتح اﷲ گولن کے ہزاروں اسکولوں اور ثقافتی مراکز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ فتح اﷲ گولن صوفی ازم کے پرچار کی بنا پر مشہور ہیں۔ انھوں نے مولانا رومی کی شاعری کی بنا پر ترکی میں مراکز قائم کیے ہیں۔ پاکستان میں بھی مولانا رومی کے ماننے والوں نے اسکولوں کا ایک نظام قائم کیا ہوا ہے۔

اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، کراچی، حیدرآباد، خیرپور اور جام شورو میں 29 اسکول کام کررہے ہیں اور ان اسکولوں میں پرائمری اسکول سے A لیول کے درجے تک کی تعلیم دی جاتی ہے اور 10 ہزار طالب علم ان اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور 15 سو اساتذہ ان اسکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پاک ترکش اسکول 1995 سے پاکستان میں کام کررہے ہیں اور اعلیٰ تعلیمی معیار کی بنا پر تعلیمی دنیا میں اہم حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ اب اخبارات میں یہ خبریں شایع ہوئی ہیں کہ ترکی کی حکومت ان اداروں کو بند کرانے کی خواہش رکھتی ہے۔

ترکی کے سفیر نے وزارت خارجہ کو اپنی حکومت کی اس خواہش سے آگاہ کیا ہے۔ ترکی کے اسکولوں کی انتظامیہ ترکی کی کسی شخصیت یا تنظیم سے تعلق سے انکار کرتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مولانا رومی کے کلام کو پڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مخصوص شخصیت یا تنظیم سے منسلک ہوجائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اسی طرح ہے کہ علامہ اقبال کو کسی فرد یا تنظیم سے منسلک کردیا جائے۔

ترکی میں فوج کے ایک حصے نے غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔ اس کوشش کے خلاف حکومتی جماعت کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی مزاحمت کی تھی۔ عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ فوجی بغاوت کے خلاف مزاحمت کرنے سے ترکی کے آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی بالادستی ہوئی۔ فوجی بغاوت کی کامیابی کی صورت میں جمہوری اداروں کے خاتمے کے ساتھ بنیادی حقوق پر پابندی، آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہارِ رائے اور علمی آزادی جیسے بنیادی حقوق پر پابندی عائد ہوجاتی تو عوام کو اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے اور اپنے حکمرانوں کے انتخاب کا حق غصب ہوجاتا اور پھر آئین کے خاتمے کے ساتھ قانون کی بالادستی کا تصور سخت مجروح ہوتا مگر صدر اردگان نے بغاوت کی ناکامی کے بعد ایک ایسا رویہ اختیار کیا ہے جو آمروں کا ہوتا ہے۔


انھوں نے سب سے پہلے آئین میں تبدیلی کرکے صدارتی نظام کے نفاذ کا عندیہ دیا ہے، اس طرح وہ ایک طاقتور صدر بن کر اپنے مخالفین سے نمٹ سکیں گے۔ پھر فوج، پولیس، عدلیہ اور یونیورسٹیوں پر بڑے پیمانے پر تطہیر کی جارہی ہے اور اپنے حریف کے حامیوں کو ملازمتوں سے برطرف کیا جارہا ہے۔ سزائے موت کی بحالی پر بھی غور ہورہا ہے۔ اس طرح یورپی یونین سے تعلقات خراب ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس صورتحال میں فوج اور پولیس کے ساتھ عدلیہ اور تعلیم کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ صدر اردگان ناکام بغاوت کی آڑ میں فوج اور پولیس کے علاوہ عدلیہ اور تعلیم کے شعبے سے بھی ہر اس فرد کو نکالنا چاہتے ہیں جو ان کی سوچ کا حامی نہیں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عدلیہ اور تعلیم کے شعبوں سے ہر اس شخص کو نکالا جارہا ہے جو صوفی ازم سے کسی بھی طرح نزدیک ہے۔

اس طرح مذہبی انتہاپسندوں کے لیے جگہیں محفوظ کی جارہی ہیں۔ غیر ملکی ذرایع ابلاغ میں شایع ہونے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں ذرایع ابلاغ پر بھی پابندیاں عائد ہوں گی۔ صدر اردگان کی حکومت کچھ عرصے قبل ایک غیر سرکاری میڈیا ہاؤس پر قبضہ کرچکی ہے۔ اب تک 42 صحافیو ں کو گرفتار کیا گیا ہے اور میڈیا پر سنسر لگانے کی خبریں بھی آرہی ہیں ۔یہ صورتحال تشویش کا باعث ہے۔ اسی پالیسی کے تحت پاکستان میں مقیم ترکی کے سفیر نے پاک ترک اسکولوں کے نیٹ ورک کو بند کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

اس اسکولوں کے نیٹ ورک پر پابندی سے صرف 10 ہزار طالب علم ہی متاثر نہیں ہوں گے بلکہ 15سو کے قریب اساتذہ اور اتنی ہی بڑی تعداد میں غیر تدریسی عملہ بھی بے روزگار ہوجائے گا۔ بعض اخبارات میں خبریں شایع ہوئی ہیں کہ حکومت پاکستان نے ملک میں کام کرنے والے ترکی کے اسکولوں کے انتظام کے لیے ایک پرائیوٹ کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح ان اسکولوں کی بندش کا معاملہ ٹل جائے گا، مگر ترکی کی حکومت کو ان اسکولوں کے بارے میں اعتراض کو واپس لینا ہوگا۔ اس طرح پاکستانی بچے معیاری تعلیم سے محروم نہیں ہوں گے۔ یہ صورتحال ملک کے تعلیمی ماحول کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہوگی۔

نیلسن منڈیلا گزشتہ صدی کی اہم شخصیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے جنوبی افریقہ کو آزادی دلوانے اور سفید فام اقلیت کی آمریت کے خاتمے کے لیے 30 سال کے قریب جدوجہد کی اور افریقن نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی۔ اس جدوجہد کے دوران ان کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزرا۔ نیلسن منڈیلا نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ قید کے دوران انھیں جیلر کے ساتھ باکسنگ کھیل میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ اس کھیل کے دوران ان کا طاقت ور مکہ جیلر کی ناک پر لگا۔

جیلر نے سزا کے طور پر ان کے بستر سے تکیہ نکال لیا، یوں منڈیلا کو کئی سال تک ایک پتھر کو بطور تکیہ استعمال کرنا پڑا۔ مگر نیلسن منڈیلا نے جیل سے رہائی کے بعد کبھی بھی انتقام کے بارے میں نہیں سوچا۔ انھوں نے ایک سچائی کمیشن قائم کیا اور جن افراد نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے سیاہ فام باشندوں پر مظالم ڈھائے تھے انھیں پیشکش کی کہ وہ سچائی کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیں تو انھیں معاف کردیا جائے گا۔ اس پیشکش سے سفید فام لوگوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا تھا۔ اس طرح جنوبی افریقہ آزادی حاصل کرنے کے بعد انفرااسٹرکچر کی تباہی اور خانہ جنگی سے بچ گیا۔ اگر صدر اردگان نیلسن منڈیلا کی پیروی کریں اور باغیوں کی معافی کے لیے سچائی کمیشن قائم کیا جائے اور ترکی کے شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے زیادہ جمہوری آزادیاں دی جائیں تو کمزور سیاسی نظام مضبوط ہوگا اور فوج اور سامراجی ممالک کو وار کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
Load Next Story