ایک سپیرے کے اقوال زہرین

کون کہتا ہے کہ دنیا میں نیک لوگوں اور نیک خیالات کی کمی ہے

barq@email.com

کون کہتا ہے کہ دنیا میں نیک لوگوں اور نیک خیالات کی کمی ہے، بڑے بڑے لیڈروں اور اخباری و چینلیاتی دانشوروں کو تو چھوڑیئے کہ وہ تو اتنی لڑھکاتے ہیںکہ کرین بھی معذرت کرلے، لیکن عام لوگوں میں بھی بڑے نیک بندے پائے جاتے ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی پائے جاتے ہیں۔

نیک تو وہ خیر اپنے لیے ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے ان کے نیک خیالات سن کر بے اختیار جی چاہنے لگتا ہے کہ دوڑ کر کسی دستیاب لیڈر کو بغل گیر کر کے چمیاں اور جپھیاں شروع کر دیں۔ ابھی اس رمضان کی بات ہے، ابلیس پابند سلاسل ہو چکا تھا اور اس کے ادھورے کام قائم مقام حاجی صاحبان پورا کر رہے تھے کہ ایک سپیرے کا بیان اخبار میں پڑھا جس میں اس نے بجٹ ،گرمی اور لوڈ شیڈنگ پر اپنے ''زہرین'' خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس نے ان تینوں یعنی گرمی، بجٹ اور لوڈ شیڈنگ سے اگر اپنے نہیں تو اپنے سانپوں کے کئی ناجائز رشتے باندھے ہوں گے، پھر جگ بیتی کو آب بیتی میں بدلتے ہوئے کہا تھا کہ میرے سانپوں کا بھی برا حال ہے، اس نے کہا کہ ان دنوں روزی روٹی کے لالے تو خیر پڑے ہوئے ہیں کیوں کہ ان ''لالوں'' سے ہمارے دیرینہ خاندانی مراسم ہیں لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ میرے سانپ بھی بڑی تکلیف میں ہیں، ایک دو تو اگلے جہان کو سدھار بھی گئے اور میں نے جاتے جاتے ان کو بین کی زبان میں سمجھا دیا ہے کہ جنت یا دوزخ کے دروازوں کے آس پاس رہیں اور پاکستان کا جو بھی لیڈر دکھائی دے اسے ڈسے بغیر نہ چھوڑیں،

راہ دیکھیں گے نہ دنیا سے گزرنے والے

ہم تو جاتے ہیں ٹھہر جائیں ٹھہرنے والے

سوچنے والی بات یہ ہے کہ لیڈروں اور وزیروں کے بارے میں اتنے نیک جذبات کسی اور کے نہیں بلکہ ان کے ایک ہم پیشہ سپیرے کے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بات تو ہم نے نیک لوگوں اور نیک خیالات کی چھیڑی تھی اور پہنچ گئی سانپوں تک، سانپ بھی پھسلتے ہیں اور زبانیں بھی پھسل جاتی ہیں ۔ اس لیے لوگ اسے میاں بھی کہتے ہیں، اس پر قہر خداوندی نے قول زرین ارشاد کیا کہ شلوار میں 30 جوئیں ہوں تو انھیں چھوڑ دو، لیکن گاؤں میں ایک بھی میاں ہو تو اسے زندہ مت چھوڑو، پھر مزید کہا کہ اگر سامنے سے کالا سانپ اور لیڈر دونوں آرہے ہں تو سانپ کو چھوڑ دو اور دوسرے پر اٹھی لاٹھی توڑ دو، خیر وہ سانپوں کے تذکرے میں وہ اچھے لوگوں اور اچھے خیالات کا پیوند بس لگنے والا ہے، ایسا اس سپیرے نے کہا کہ میں کسی نہ کسی طرح کر کے سانپوں کو گرمی بچانے کے لیے کولر کا انتظام کیا لیکن اب اسے چلاؤں کیسے کہ بجلی تو چڑیا کا دودھ، سانپ کے پیر اور بچھو کی آنکھ ہو گئی۔


یہی وہ مقام جہاں پر اس سپیرے کے اندر کا نیک انسان جاگا اور اس نے اپنے نیک خیالات کا اظہار یوں کیا کہ جی تو چاہتا ہے کہ اپنے سارے سانپ وزیروں پر چھوڑ دوں یا اپنے خاندان کو ان سے ڈسواؤں۔ ہمارے گاؤں کا ایک اول جلول آدمی ایک پیر کا معتقد ہو گیا۔ یہ وہی پیر تھا جسے بعد میں کسی نے قتل کر دیا تو تھانے دار نے اس قاتل کو پکڑ کر خوب ڈنڈے مارے، ملزم نے کہا جناب قتل کے سلسلے میں تو مار پیٹ نہیں ہوتی۔ تھانیدار بولا، میں تمہیں مار اس لیے نہیں رہا ہوں کہ تم نے اس پیر کو قتل کیوں کیا بلکہ اس لیے مار رہا ہوں کہ اتنی دیر کر کے یہ نیک کام کیوں کیا، دو چار سال پہلے کر دیتے، تو سمندر نامی وہ آدمی پیر صاحب کا ایسا معتقد ہو گیا کہ دن رات اسی کی مالا جپنے لگا اور بات بات پر پیر صاحب کی کرامات کا ذکر نکال لیتا تھا۔

ایک دن بولا ، پتہ ہے پیر صاحب کو ایک سانپ نے کاٹا۔ مرید لوگ سانپ کو مارنے لگے تو پیر صاحب نے روک دیا۔ پیر صاحب نے تو جہاں سانپ کو کاٹا، انگلی اپنے منہ میں تر کر کے پھیر دی لیکن سانپ ابھی چند قدم گیا تھا لیکن وہیں تڑپ تڑپ کر مر گیا، ہم نے کہا سمندر، پھر تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہارے پیر کا زہر سانپ سے زیادہ خطرناک تھا کہ اس کا زہر پیر صاحب کا کچھ بھی بگاڑ نہیں پایا اور سانپ مر گیا، سمندر توبہ توبہ کرنے لگا، سانپوں کے بارے میں بے شک سپیروں کو بہت زیادہ جانکاری ہو گی لیکن انھیں انسانوں کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں ہوتا، انسانوں میں ایسے زہریلے زہریلے انسان پائے جاتے ہیں اور خاص طور پر اس سپیرے نے جن لوگوں پر سانپ چھوڑنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے، یہ بہت اچھا ہے کہ اسے اس کی توفیق نہیں ہوئی اور نہ ہی خدا اسے اس کی توفیق دے کیوں کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو روزی روٹی سے مکمل طور پر محروم ہو جائے کیوں کہ یہ سانپ کو اس کی روزی روٹی میں ان میں شاید ہی کوئی زندہ واپس آئے۔

واردات کرنے کے بعد ہر ایک کا تڑپ تڑپ کر مرنا نشچت ہے، ہم نے سانپوں کو تو نہیں دیکھا ہے لیکن ایسے بہت سارے انسانوں کو دیکھا ہے جنھیں ان لوگوں نے کاٹا جن کے کٹوانے کی بات یہ سپیرا کر رہا ہے بے چارے پانی بھی نہیں مانگ سکے، زندہ تو زندہ مرنے کے بعد بھی یہ زندہ رہتے ہیں اور اپنا زہر پھیلاتے رہتے ہیں، ایک شخص کا اونٹ گم ہو گیا۔ تلاش کرتے کرتے اس نے دیکھا کہ اونٹ قبرستان میں بیٹھا ہے، اس نے اونٹ کو زور سے لات ماری کہ اٹھ جائے، اونٹ تو نہیں اٹھا لیکن اس کا پیر اونٹ کے جسم میں گھٹنے تک دھنس گیا کیوں کہ وہ مکمل طور پر راکھ ہو چکا تھا۔ وہ شخص اس بزرگ کے پاس گیا، بزرگ نے معائنہ کیا اور ماجرا پوچھا، اس نے اونٹ کی گمشدگی اور لات مارنے کی بات بتائی تو بزرگ بولا، بس مجھے پتہ چل گیا ہے وہ قبر یقیناً کسی کوتوال کی تھی جہاں تمہارا اونٹ پایا گیا، کوتوال لوگوں کی قبروں میں ایسے بچھو ہوتے ہیں جن کے کاٹتے ہی جسم راکھ ہو جاتا ہے۔

آدمی نے اپائے پوچھا تو بزرگ نے کہا کہ اس کا صرف ایک ہی اپائے کہ تم کہیں کسی مقبرے میں کسی وزیر کی قبر ڈھونڈ لو، اس میں تمہیں سبز رنگ کا بچھو مل جائے لیکن احتیاط لازم ہے اسے مار کر اور کسی لکڑی وغیرہ سے پکڑ کر میرے پاس لے آؤ میں اسے جلا کر اس کی راکھ تمہیں دے دوں گا جس کے چھڑکنے سے تمہارا مرض درو ہو جائے گا، بے چارا الیاس سپیرا اس کے سانپ تو عام دکھائے جانے والے سانپ ہوں گے، ایسے سانپ تو خود وزیر لوگ ستر سال سے دکھاتے چلے آرہے ہیں۔

یہ ایک اور طرفہ تماشا ہو گا کہ الیاس کے سانپ بھی پکڑ کر اپنی پارٹی کا کارکن بنا لیں، ویسے ایک اور زبردست آئیڈیا ہے، منفی کے بجائے اگر وہ اپنی سوچ مثبت کر لے تو اس کے وارے نیارے ہو سکتے ہیں اور وہ کہ اپنے سانپوں سمیت کسی وزیر کی پارٹی میں شامل ہو جائے کیوں کہ ان کے پاس جو سانپ ہیں وہ ستر سال سے پٹارے میں پڑے پڑے اب کسی کام کے نہیں رہے ہیں مثلاً کرپشن کا خاتمہ، حقیقی جمہوریت، لوڈ شیڈنگ سے نجات، بیروزگاری کا خاتمہ وغیرہ تو اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ نہ اس میں دانت ہوں گے نہ پیٹ میں آنت البتہ انقلاب اسلامی اور نیا پاکستان کم عمر کے سانپ ہیں، اسی لیے تو ان کے گرد مجمع بھی زیادہ ہوتا ہے۔
Load Next Story