فرنگی سے نہ دبنے والا بخاری
اردو کے صاحب ِطرز لکھاری کی شگفتہ یادیں
اردو کے صاحب ِطرز لکھاری کی شگفتہ یادیں:فوٹو : فائل
زندگی کا ہر رنگ نرالا ہے۔ رنگ اختیار کرنے میں اپنی پسند کو زیادہ دخل نہیں ہوتا۔ ان میں رنج اور خوشی تو اہم ہیں تاہم ایسا ہو سکتاہے کہ کوئی زندگی کو تمثیل کا ر بنا لے' مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ زندگی کا صرف وہی رخ پیش کرے جو اوروں کی خوشی اور اپنی بالیدگی کا باعث ہو۔
پطرس بخاری کی زندگی کا فلسفہ اور شیوہ یہی تھا۔ تاہم ان کے نیا ز مندوں میں دو تین ایسے شخص بھی تھے جن کے سامنے وہ دکھ سے رو دیئے یا خوشی سے ہنس پڑے ہوں۔ شاذو نادر ہی سہی لیکن ایسا بھی ہوا کہ یہ چہکنے اور ہر بات میں امرت گھولنے والا بخاری اپنے کسی نیاز مند کے پاس آدھ آدھ گھنٹہ خاموش بیٹھا رہا ۔ ایسے موقعوں پر اس کا دل، زبان سے زیادہ بلاغت اور ندرت سے اپنی کہتا ا ور دوسروں کی سنتا تھا۔ یہ لمحے اس کے نیاز مندوں کو نہیں بھول سکتے اور خواہ کوئی خود کو کتنا ہی زبان آور اور قلم کا دھنی کہے' بیان نہیںکیے جا سکتے۔
بخاری صاحب احسان فراموش نہیں تھے لیکن احسان مندی کے اعلان کے بھی قائل نہ تھے۔ ان کی رائے میں اظہارِ احسان مندی محسن کو خفیف اور خود کو بھکاری بنا دینے کے مترادف تھا۔ محکمہ تعلیم اور پھر آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت کے زمانے میں وہ ہمیشہ چومکھی لڑتے رہے لیکن یہ کبھی ظاہر نہیں کیا کہ وہ عمر یا زید سے برسرپیکار ہیں۔ ا یک بار ریڈیو کی ملازمت کے دوران میں دشمن نے نرغہ کیا۔ وائسرائے کی ایگزیکٹیو کونسل کے ایک مسلمان ممبر نے بے طلب و درخواست پانسہ بخاری صاحب کے حق میں پلٹ دیا اور یوں انھوں نے تشویش سے نجات پائی۔ لیکن اس کے بعد بخاری صاحب ان صاحب کے سامنے پڑنے سے بچتے رہے۔ میں اس قصے سے آگاہ تھا۔
ایک دن میں نے بخاری صاحب سے کہا کہ دیکھو فلاں نے تمہاری یہ مدد کی اور تم یوں طرح دے جاتے ہو کہ سامنے جا کر سلام د عا بھی نہیں کرتے۔ وہ تمہارے شکریہ کے محتاج نہیں لیکن تماری شرافت کا تویہی تقاضا ہونا چاہیے کہ تم شکر گزار ہو۔ بولے ''سنو بھائی، یہ پرانے زمانے کے بزرگ ہیں' بے کہے انہوں نے فرمایا تھا ۔ان کے احساس خوش کاری اور فتح مندی کو میں شکریے کے چند جملے کہہ کر کیوں ضائع کروں؟''
دوران ملازمت میں ہر ملازم کی طرح بخاری صاحب کو بھی اکثر اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے مختلف تدابیر اختیار کرنی پڑتی تھیں۔ گورنمنٹ کالج میں شعبہ انگریزی کے چیئرمین کی جگہ خالی ہوئی'تو بخاری صاحب کو نظر انداز کر کے ایک فرنگی کو چیئرمین بنا دیا گیا۔ بخاری صاحب نے پرنسپل سے تحریری احتجاج کیا۔ اس نے اپنا فیصلہ بحال رکھتے ہوئے بخاری صاحب کی درخواست ڈائریکٹر تعلیمات کے پاس بھیج دی۔ ڈائریکٹر نے بھی پرنسپل کا فیصلہ بدلنے سے انکار کر دیا۔ بخاری صاحب نچلے نہ بیٹھے اور درخواست صوبے کے گورنر کو محکمانہ وسیلے سے ارسال کر دی۔
گورنر نے روبہ کاری کو بلایا اور کہا کہ گورنمنٹ کالج میں تو انگریزی کا چیئرمین انگریز ہی کو ہونا چاہیے۔ بخاری صاحب نے جواب دیا '' حضور کا ارشاد بجا لیکن اگر گورنمنٹ کالج میں شعبہ انگریزی کا چیئرمین انگریز ہی کو ہونا چاہئے تو اس انگریز کے پاس انگریزی کی فرسٹ کلاس ڈگری بھی ہونی چاہیے۔'' بخاری صاحب کی ڈگری فرسٹ کلاس تھی اور دوسرے شخص کے پاس سیکنڈ کلاس ڈگری تھی۔ فرنگی گورنر نے تالی بجا کر کہا،تمھاری دلیل میں وزن ہے۔ ملاقات نعرہ تحسین کے بعد ختم ہو جاتی ہے اور بخاری صاحب شعبہ انگریزی کے چیئرمین ہو گئے۔
ریڈیو کی ملازمت کے دوران جب وہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز تھے، ان کے ایک دو سال اچھے خاصے بدمزہ گزرے۔ لیکن انہوںنے کبھی اپنی پریشانی کا حال بیان نہیں کیا۔ اپنے تمام حربے استعمال کرتے رہے اور آخر کار تمام دشواریوں پر فتح پائی۔ ان کے ایک مچاٹے کا قصہ سنیئے۔میں ایک آدھ روز کے لیے لاہور سے دلی گیا ۔ بغیر اطلاع بخاری صاحب سے ملنے ان کے دفتر پہنچا۔ گاڑی سے اترا ہی تھا کہ محکمے کے فرنگی افسر اعلیٰ سے آمنا سامنا ہو گیا۔ ان کی اور میری بے تکلف ملاقات تھی۔ وہ سمجھے کہ میں ان سے ملنے کو آیا ہوں۔ نہایت گرم جوشی سے ملے۔
تھوڑی سی گفتگو کے بعد جب انہوں نے اپنے کمرے میں چلنے کو کہا تو میں نے بتایا کہ میرا مقصود اس وقت بخاری صاحب ہیں۔ یہ بات اسے چبھی لیکن خلش دور کرنے کے لیے اس نے سلسلہ گفتگو دراز کر دیا۔ اچھے خاصے پندرہ منٹ کھڑے کھڑے اور باتیں کرتے گزر گئے تو بولا ،چلو میں تمہیں بخاری کے کمرے میں پہنچا دوں۔ بخاری صاحب کے کمرے میں پہنچے۔ میرے اچانک پہنچنے پر متعجب اور خوش ہوئے۔ فوراً غالب کا مصرع پڑھا ع
آئے خدا کرے یہاں پر نہ کرے خدا کہ یوں
مجھے بخاری صاحب کے کمرے میں پہنچا کر فرنگی رخصت ہو گیا۔ہم دونوں باتوں میں مشغول ہو گئے ۔ چند منٹ ہی گذرے ہوں گے کہ وہ صاحب پھر آگئے ۔ کاروباری بات کی مجھ سے معافی مانگتے ہوئے بخاری صاحب سے مخاطب ہوئے کہ ایک ضروری دورے پر وہ اگلے ہفتہ مدراس جائیں گے۔ اس لیے بخاری صاحب کے پیش نظر جو بھی پروگرام ہو ،وہ منسوخ کر دیا جائے کیونکہ ان کو دفتر میں موجود رہنا ہو گا۔ نہایت خوش ہوکر بخاری صاحب بولے'' آپ ضرور مدراس جایئے۔خوشی کا مقام ہے کہ میں گرمی کے زمانے میں ریل میں بیٹھ کر ریگستان کی خاک پھانکنے سے بچ گیا۔ دلی کا خوش گوار موسم ،اپنا دل پسند کمرا' میں نہایت خوشی سے دفتر میں رہوں گا۔''
وہ فرنگی افسر اعلیٰ بخاری صاحب کو میرے آگے ہلکا بنانے آیا تھا لیکن خودسبک ہوکر واپس ہو گیا ۔مگر خراشیدہ راہت قصد خراش... دس منٹ بعد پھر آیا اور بولا '' بخاری صاحب، مجھے کاغذات دیکھتے ہوئے خیال آیا کہ اگلے ہفتہ ایک دو معاملات کے لیے میری دلی میں موجودگی ضروری ہو گی ۔ اس لیے تم ہی دورے پر مدارس چلے جاؤ ۔''بخاری صاحب اچھل پڑے۔ تالیاں بجاتے ہوئے کہنے لگے ''اللہ وہ تاڑکے لمبے لمبے جھومتے ہوئے درخت ،وہ نیلا سمندر، وہ خاموش فضائیں ،وہ فلاں اور فلاں سے ملاقات' یقین جانو صعوبت سفر دو لمحے بھی یاد نہ رہے گی۔'' اس شخص نے بھونچکا ہو کر بخاری صاحب کا منہ دیکھا اورکچھ کہے بغیر کلغی گرائے کمرے سے چلا گیا۔
میں اس ڈرامے کاتماشائی تھا۔ بخاری صاحب بولے'' بھائی اگر یہ سال بھر اور رہ گیا تو یہاں سے پاگل خانے جائے گا۔''قصہ مختصر سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں لیکن آل انڈیا ریڈیو کا فرنگی افسر چند ماہ کے بعد ملازمت سے سبکدوش ہو کر ہندوستان سے رخصت ہو گیا۔ اور بخاری صاحب آل انڈیا ریڈیو کے افسر اعلیٰ مقر ہوئے۔
(ایک مضمون سے اقتباس)
پطرس بخاری کی زندگی کا فلسفہ اور شیوہ یہی تھا۔ تاہم ان کے نیا ز مندوں میں دو تین ایسے شخص بھی تھے جن کے سامنے وہ دکھ سے رو دیئے یا خوشی سے ہنس پڑے ہوں۔ شاذو نادر ہی سہی لیکن ایسا بھی ہوا کہ یہ چہکنے اور ہر بات میں امرت گھولنے والا بخاری اپنے کسی نیاز مند کے پاس آدھ آدھ گھنٹہ خاموش بیٹھا رہا ۔ ایسے موقعوں پر اس کا دل، زبان سے زیادہ بلاغت اور ندرت سے اپنی کہتا ا ور دوسروں کی سنتا تھا۔ یہ لمحے اس کے نیاز مندوں کو نہیں بھول سکتے اور خواہ کوئی خود کو کتنا ہی زبان آور اور قلم کا دھنی کہے' بیان نہیںکیے جا سکتے۔
بخاری صاحب احسان فراموش نہیں تھے لیکن احسان مندی کے اعلان کے بھی قائل نہ تھے۔ ان کی رائے میں اظہارِ احسان مندی محسن کو خفیف اور خود کو بھکاری بنا دینے کے مترادف تھا۔ محکمہ تعلیم اور پھر آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت کے زمانے میں وہ ہمیشہ چومکھی لڑتے رہے لیکن یہ کبھی ظاہر نہیں کیا کہ وہ عمر یا زید سے برسرپیکار ہیں۔ ا یک بار ریڈیو کی ملازمت کے دوران میں دشمن نے نرغہ کیا۔ وائسرائے کی ایگزیکٹیو کونسل کے ایک مسلمان ممبر نے بے طلب و درخواست پانسہ بخاری صاحب کے حق میں پلٹ دیا اور یوں انھوں نے تشویش سے نجات پائی۔ لیکن اس کے بعد بخاری صاحب ان صاحب کے سامنے پڑنے سے بچتے رہے۔ میں اس قصے سے آگاہ تھا۔
ایک دن میں نے بخاری صاحب سے کہا کہ دیکھو فلاں نے تمہاری یہ مدد کی اور تم یوں طرح دے جاتے ہو کہ سامنے جا کر سلام د عا بھی نہیں کرتے۔ وہ تمہارے شکریہ کے محتاج نہیں لیکن تماری شرافت کا تویہی تقاضا ہونا چاہیے کہ تم شکر گزار ہو۔ بولے ''سنو بھائی، یہ پرانے زمانے کے بزرگ ہیں' بے کہے انہوں نے فرمایا تھا ۔ان کے احساس خوش کاری اور فتح مندی کو میں شکریے کے چند جملے کہہ کر کیوں ضائع کروں؟''
دوران ملازمت میں ہر ملازم کی طرح بخاری صاحب کو بھی اکثر اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے مختلف تدابیر اختیار کرنی پڑتی تھیں۔ گورنمنٹ کالج میں شعبہ انگریزی کے چیئرمین کی جگہ خالی ہوئی'تو بخاری صاحب کو نظر انداز کر کے ایک فرنگی کو چیئرمین بنا دیا گیا۔ بخاری صاحب نے پرنسپل سے تحریری احتجاج کیا۔ اس نے اپنا فیصلہ بحال رکھتے ہوئے بخاری صاحب کی درخواست ڈائریکٹر تعلیمات کے پاس بھیج دی۔ ڈائریکٹر نے بھی پرنسپل کا فیصلہ بدلنے سے انکار کر دیا۔ بخاری صاحب نچلے نہ بیٹھے اور درخواست صوبے کے گورنر کو محکمانہ وسیلے سے ارسال کر دی۔
گورنر نے روبہ کاری کو بلایا اور کہا کہ گورنمنٹ کالج میں تو انگریزی کا چیئرمین انگریز ہی کو ہونا چاہیے۔ بخاری صاحب نے جواب دیا '' حضور کا ارشاد بجا لیکن اگر گورنمنٹ کالج میں شعبہ انگریزی کا چیئرمین انگریز ہی کو ہونا چاہئے تو اس انگریز کے پاس انگریزی کی فرسٹ کلاس ڈگری بھی ہونی چاہیے۔'' بخاری صاحب کی ڈگری فرسٹ کلاس تھی اور دوسرے شخص کے پاس سیکنڈ کلاس ڈگری تھی۔ فرنگی گورنر نے تالی بجا کر کہا،تمھاری دلیل میں وزن ہے۔ ملاقات نعرہ تحسین کے بعد ختم ہو جاتی ہے اور بخاری صاحب شعبہ انگریزی کے چیئرمین ہو گئے۔
ریڈیو کی ملازمت کے دوران جب وہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز تھے، ان کے ایک دو سال اچھے خاصے بدمزہ گزرے۔ لیکن انہوںنے کبھی اپنی پریشانی کا حال بیان نہیں کیا۔ اپنے تمام حربے استعمال کرتے رہے اور آخر کار تمام دشواریوں پر فتح پائی۔ ان کے ایک مچاٹے کا قصہ سنیئے۔میں ایک آدھ روز کے لیے لاہور سے دلی گیا ۔ بغیر اطلاع بخاری صاحب سے ملنے ان کے دفتر پہنچا۔ گاڑی سے اترا ہی تھا کہ محکمے کے فرنگی افسر اعلیٰ سے آمنا سامنا ہو گیا۔ ان کی اور میری بے تکلف ملاقات تھی۔ وہ سمجھے کہ میں ان سے ملنے کو آیا ہوں۔ نہایت گرم جوشی سے ملے۔
تھوڑی سی گفتگو کے بعد جب انہوں نے اپنے کمرے میں چلنے کو کہا تو میں نے بتایا کہ میرا مقصود اس وقت بخاری صاحب ہیں۔ یہ بات اسے چبھی لیکن خلش دور کرنے کے لیے اس نے سلسلہ گفتگو دراز کر دیا۔ اچھے خاصے پندرہ منٹ کھڑے کھڑے اور باتیں کرتے گزر گئے تو بولا ،چلو میں تمہیں بخاری کے کمرے میں پہنچا دوں۔ بخاری صاحب کے کمرے میں پہنچے۔ میرے اچانک پہنچنے پر متعجب اور خوش ہوئے۔ فوراً غالب کا مصرع پڑھا ع
آئے خدا کرے یہاں پر نہ کرے خدا کہ یوں
مجھے بخاری صاحب کے کمرے میں پہنچا کر فرنگی رخصت ہو گیا۔ہم دونوں باتوں میں مشغول ہو گئے ۔ چند منٹ ہی گذرے ہوں گے کہ وہ صاحب پھر آگئے ۔ کاروباری بات کی مجھ سے معافی مانگتے ہوئے بخاری صاحب سے مخاطب ہوئے کہ ایک ضروری دورے پر وہ اگلے ہفتہ مدراس جائیں گے۔ اس لیے بخاری صاحب کے پیش نظر جو بھی پروگرام ہو ،وہ منسوخ کر دیا جائے کیونکہ ان کو دفتر میں موجود رہنا ہو گا۔ نہایت خوش ہوکر بخاری صاحب بولے'' آپ ضرور مدراس جایئے۔خوشی کا مقام ہے کہ میں گرمی کے زمانے میں ریل میں بیٹھ کر ریگستان کی خاک پھانکنے سے بچ گیا۔ دلی کا خوش گوار موسم ،اپنا دل پسند کمرا' میں نہایت خوشی سے دفتر میں رہوں گا۔''
وہ فرنگی افسر اعلیٰ بخاری صاحب کو میرے آگے ہلکا بنانے آیا تھا لیکن خودسبک ہوکر واپس ہو گیا ۔مگر خراشیدہ راہت قصد خراش... دس منٹ بعد پھر آیا اور بولا '' بخاری صاحب، مجھے کاغذات دیکھتے ہوئے خیال آیا کہ اگلے ہفتہ ایک دو معاملات کے لیے میری دلی میں موجودگی ضروری ہو گی ۔ اس لیے تم ہی دورے پر مدارس چلے جاؤ ۔''بخاری صاحب اچھل پڑے۔ تالیاں بجاتے ہوئے کہنے لگے ''اللہ وہ تاڑکے لمبے لمبے جھومتے ہوئے درخت ،وہ نیلا سمندر، وہ خاموش فضائیں ،وہ فلاں اور فلاں سے ملاقات' یقین جانو صعوبت سفر دو لمحے بھی یاد نہ رہے گی۔'' اس شخص نے بھونچکا ہو کر بخاری صاحب کا منہ دیکھا اورکچھ کہے بغیر کلغی گرائے کمرے سے چلا گیا۔
میں اس ڈرامے کاتماشائی تھا۔ بخاری صاحب بولے'' بھائی اگر یہ سال بھر اور رہ گیا تو یہاں سے پاگل خانے جائے گا۔''قصہ مختصر سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں لیکن آل انڈیا ریڈیو کا فرنگی افسر چند ماہ کے بعد ملازمت سے سبکدوش ہو کر ہندوستان سے رخصت ہو گیا۔ اور بخاری صاحب آل انڈیا ریڈیو کے افسر اعلیٰ مقر ہوئے۔
(ایک مضمون سے اقتباس)