عاقب نے بنگلہ دیشی پیس ہتھیاروں کو چمکانا شروع کر دیا

چار دن ہائی پرفارمنس اسکواڈ کے 17 بولرز کی تربیت، 2روزقومی پیسرزکیلیے مختص

بنگال ٹائیگرز کو بھی عمران خان جیسے رول ماڈل کی ضرورت ہے، سابق فاسٹ بولر۔ فوٹو: فائل

KINGSTON:
پاکستان کے سابق کرکٹر عاقب جاوید نے بنگلہ دیشی پیس ہتھیاروں کو چمکانا شروع کردیا، وہ ابتدائی چار دن ہائی پرفارمنس اسکواڈ کے 17 بولرز کو تربیت فراہم کریں گے، آخری دو روز قومی پیسرز کیلیے مختص ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق عاقب جاوید بنگلہ دیشی فاسٹ بولرز کی ایک ہفتے تک تربیت کیلیے نہ صرف ڈھاکا پہنچ چکے بلکہ کیمپ کا باقاعدہ آغاز بھی کردیا ہے، ابتدائی مرحلے میں ہائی پرفارمنس اسکواڈ میں شامل 17 نوجوان فاسٹ بولرز ان کے حوالے کیے گئے جبکہ آخری دوروز 9 قومی پیسرز کیلیے مختص ہوں گے۔


عاقب نے کہاکہ پہلے دن میری توجہ فاسٹ بولنگ کے اہم اصولوں پر مرکوز رہی، اس کیمپ کا دورانیہ زیادہ نہیں اور نہ ہی اس میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے لیکن میں طریقہ کار پر یقین رکھتا ہوں،ایک ہفتے کے دوران میں اپنی معلومات بولرز کو منتقل کرتے ہوئے انھیں باقاعدہ پلان دوں گا، پھر میں تین ماہ بعد واپس لوٹ کر یہ دیکھ سکتا ہوں کہ وہ کہاں تک پہنچے، انھوں نے کہا اس کے ساتھ میں مقامی کوچز سے بھی پلانز پر عملدرآمد کیلیے بات کروں گا، میری پوری کوشش ہوگی کہ ان لڑکوں کو درست گائیڈ لائن دوں تاکہ اگر میں 6،7 دن بعد واپس بھی چلا جاؤں تو وہ درست سمت میں گامزن رہیں۔

عاقب نے واضح کیا کہ وہ بولرز کے ایکشن میں کسی تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتے، انھوں نے کہاکہ میں صرف رفتار بڑھانے اور کچھ خامیوں کو دور کرنے پر کام کروں گا، پہلے دن اسپیڈ پر توجہ دی، پیر کو ذہنی استعداد پر کام ہوگا، پھر مختلف حربوں کے بارے میں بتاؤں گا۔عاقب جاوید نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کو بھی عمران خان جیسے رول ماڈل کی ضرورت ہے جنھیں دیکھ کر نوجوانوں میں فاسٹ بولرز بننے کی تحریک پیدا ہو، مجھے امید ہے کہ مستفیض الرحمان سے مستقبل میں کئی نوجوانوں کو تحریک ملے گی، وہ اپنے ملک کے رول ماڈل بن سکتے ہیں۔
Load Next Story