لاڑکانہ میں رینجرز ہیڈ کوارٹر کے قریب بم دھماکے

رینجرز وہ فورس ہے جس نے کراچی کا امن بحال کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے

ٹارگٹ کلرز اور دیگر جرائم مافیاز کے خاتمے کے لیے سندھ حکومت اور اداروں کو مکمل ہم آہنگی اور جراتمندی کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ فوٹو: فائل

سندھ کے شہر لاڑکانہ میں گزشتہ روز رینجرز ہیڈ کوارٹر کے قریب 2 ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید جب کہ 4 اہلکاروں سمیت 8 افراد زخمی ہو گئے۔ وطن عزیز کے دشوار گزار شمالی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ملک بھر میں دہشت گردی کے پے در پے ہونے والے واقعات میں نمایاں تخفیف کے باوجود کسی نہ کسی جگہ پر دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی واقعہ میڈیا میں رپورٹ ہو جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی اس ضمن میں ''ڈو مور'' کی ضرورت باقی ہے۔


لاڑکانہ میں رینجرز کو ہدف بنانے والا واقعہ تفریحی پارکوں یا اسکولوں وغیرہ پر حملوں سے اس اعتبار سے مختلف ہے کہ یہ کراچی سے باہر اندرون سندھ میں سیکیورٹی فورسز پر براہ راست حملہ ہے جو یا تو بیرونی دشمن کی کارروائی ہو سکتی ہے یا اندرونی غداروں کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ واضح رہے سات ماہ قبل بھی رینجرز کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ڈی جی رینجرز کا کہناہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آخری حد تک جائیں گے۔ رینجرز وہ فورس ہے جس نے کراچی کا امن بحال کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ بہت سے مجرم کراچی سے فرار ہو کر اندرون سندھ اپنے سہولت کاروں کے پاس پناہ حاصل کر لیتے ہیں جن کے تعاقب کے لیے رینجرز کو اندرون سندھ جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ تاہم یہ وہ مشکل سوال ہے۔

جس کا جواب سبکدوش ہونے والے وزیر اعلی کو غالباً سوجھ نہیں رہا تھا لہذا ان کی جگہ پر اب مراد علی شاہ متمکن ہیں، اب دیکھنے کی بات ہے کہ نئے وزیر اعلی مراد علی شاہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ رینجرز پر حملے کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ سندھ کی جو صورتحال ہے، نئے وزیراعلیٰ کو اس حوالے سے جراتمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے، سندھ کی ترقی و خوشحالی کے لیے صوبے کے تمام شہروں اور دیہات میں امن و امان کا قیام انتہائی ضروری ہے، گزشتہ دنوں کراچی میں فوج کی گاڑی پر حملہ ہوا، جس میں دو اہلکار شہید ہوئے جب کہ اب اندرون سندھ لاڑکانہ میں رینجرز ہیڈ کوارٹر کے قریب بم دھماکہ اور ایک رینجرز اہلکار کی شہادت سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی فعال ہے، دہشت گردوں، بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور دیگر جرائم مافیاز کے خاتمے کے لیے سندھ حکومت اور اداروں کو مکمل ہم آہنگی اور جراتمندی کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔
Load Next Story