اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں معیشت کے جو حوصلہ افزاء اشارے نظر آتے ہیں ان کے ثمرات صرف اوپری سطح تک ہی ہیں

بجٹ خسارہ کم کرنے کی حکومتی کوششیں صحیح راہ پرگامزن رہیں اور محاصل کی وصولی توقعات سے زیادہ ہوئی۔ فوٹو: فائل

DERA ISMAIL KHAN/HANGU:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے آیندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود 5.75 فیصد پر مستحکم رکھنے کا اعلان کر دیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا نے کہا ہے کہ مالی سال 2016ء میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آئی اور اوسط سالانہ مہنگائی کی شرح 47 سال کی کم ترین سطح پر بھی دیکھی گئی ہے جب کہ حقیقی جی ڈی پی کی نمو نے8 برسوں کی بلند ترین سطح4.7 فیصد کو چھو لیا، زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہوا، بجٹ خسارہ کم کرنے کی حکومتی کوششیں صحیح راہ پرگامزن رہیں اور محاصل کی وصولی توقعات سے زیادہ ہوئی۔


گورنر اسٹیٹ بینک نے معیشت کے اور بھی بہت سے مثبت پہلوؤں کا ذکر کیا ہے ان میں سچائی ہو سکتی ہے لیکن سب سے دلچسپ انکشاف یہ ہے کہ مہنگائی کی شرح 47 سال کی کم ترین سطح پر ہے، ممکن ہے کہ اعداد و شمار کی جمع تفریق میں مہنگائی میں ریکارڈ کمی نظر آتی ہو لیکن بازار کی صورت حال سرکاری جائزے کو غلط ثابت کرتی ہے، کھانے پینے کی اشیاء یا ادویات کی قیمتوں کے معاملات، ان سب میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، سبزیاں، پھل، دودھ، دہی، انڈے، گوشت اور دالیں گزشتہ برس کی نسبت بہت زیادہ مہنگی ہیں۔

اسی طرح ملبوسات کی قیمتیں بھی زیادہ ہیں اور جوتوں کی قیمتیں بھی گزشتہ برس کی نسبت زیادہ ہیں، یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت کے ماحصل میں اضافہ ہوا ہو کیونکہ ٹیکسوں کی بھرمار سے ایسا ہونا ممکن ہے، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں معیشت کے جو حوصلہ افزاء اشارے نظر آتے ہیں، ان کے ثمرات صرف اوپری سطح تک ہی ہیں، گراس روٹ لیول تک ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔
Load Next Story