کالا باغ پھر سازشوں کے نرغے میں

ہمارے پرلے درجے کے خود غرض اور مطلب پرست سیاستدانوں نے کالا باغ ڈیم کو معاف نہیں کیا .

Abdulqhasan@hotmail.com

ہمارے پرلے درجے کے خود غرض اور مطلب پرست سیاستدانوں نے کالا باغ ڈیم کو معاف نہیں کیا ہے اور جب بھی اس ڈیم کا کسی طرح ذکر آتا ہے تو ان کے پرانے اعتراض زندہ ہوجاتے ہیں۔ یہ ڈیم چونکہ پاکستان کی خوشحال بقا کا ضامن اور سبب ہے، اس لیے بھارت اس کے سخت خلاف ہے اور پاکستان میں بھارتی لابیاں یکایک جاگ اٹھتی ہیں۔ میں یہ بات پوری طرح شرح صدر کے ساتھ کہہ رہا ہوں، اس میں بھارت کے خلاف ایک سچے پرانے پاکستانی کے جذبات نہیں حقائق ہیں جن سے انکار ممکن نہیں۔ صدر مشرف جب اقتدار میں آئے تو انھوں نے اندرون سندھ غالباً سکھر میں وہاں کے صحافیوں سے خطاب کیا اور موضوع تھا کالا باغ ڈیم۔ صدر مشرف نے نہایت ہی مدلل انداز میں گفتگو کے بعد حاضرین کو سوالات کی دعوت دی۔ انھوں نے ہر سوال کا مسکت جواب دیا اور جب وہاں کے صحافیوں سے اور کچھ نہ بن پڑا تو صدر مشرف کے ایک بار پھر سوال کی دعوت کے جواب میں ایک صحافی نے اٹھ کر کہا کہ اس کے باوجود ہمیں یہ بند منظور نہیں۔ یہ رپورٹ میں نے ٹی وی پر دیکھی تھی اور پی ٹی وی کی لائبریری میں یہ موجود ہے۔

میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اس رپورٹ کو دوبارہ دکھایا جائے کہ موضوع ذرا برابر بھی نہیں بدلا۔ اب جناب شمس الملک نے جو واپڈا کے چیئرمین اور صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بھی رہے پھر اپنا مؤقف بیان کیا ہے اور اس ڈیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ڈیم کیوں ضروری ہے۔ کالا باغ ڈیم کے بارے میں ان سے بڑی اتھارٹی اور سند اور کوئی نہیں، ایسی سند کہ ایک بار ان کو مرحوم عبدالولی خان نے بلا کر کہا کہ تم پٹھان ہو کر کالا باغ ڈیم کی حمایت کرتے ہو تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ بند خود میرے صوبے کے لیے سخت ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ ملک کے لیے بھی۔ شمس الملک شروع دن سے اس ڈیم کے وکیل ہیں۔ اب جب عدالت نے ڈیم کے حق میں بات کی ہے تو انھوں نے اس کی تائید میں پھر کچھ کہا ہے۔ ان کی بات کو میں نقل کر رہا ہوں، اس لیے کہ میں اسے اس ضمن میں بہت اہم سمجھتا ہوں۔ اب جناب شمس الملک کے خیالات ملاحظہ فرمائیے۔
انھوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم نہ بنانے کی وجہ سے اب تک ملک کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے اور اگر اس کی تعمیر میں مزید تاخیر کی گئی تو آیندہ برسوں میں نہ صرف ہماری زرخیز زمینیں بنجر ہو جائیں گی بلکہ پورا ملک تاریکی میں ڈوب جائے گا، صنعتیں جام ہو جائیں گی جس پر آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور ڈیم کے دیگر مخالفین کے اس استدلال میں کوئی صداقت نہیں کہ ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ اور صوابی ڈوب جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ صوابی اور نوشہرہ کالا باغ سے ڈیڑھ سو کلو میٹر دور واقع ہیں اور اس سے دونوں شہروں کو قطعاً کوئی خطرہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیم کی تعمیر نہ ہونے سے سارا نقصان خیبر پختونخوا کو ہو رہا ہے اور اس ڈیم کے مخالفین پختونوں کے خیر خواہ نہیں بلکہ اصل دشمن ہیں، اگر یہ ڈیم بنا تو اس سے صوبے کے جنوبی اضلاع میں آٹھ لاکھ ایکڑ بنجر زمینیں سیراب ہو سکیں گی جس سے ملک زرعی اجناس میں خود کفیل ہو جائے گا۔ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے حامیوں پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم 750 چھوٹے ڈیم بنائیں تو پھر بھی ایک کالا باغ ڈیم کے برابر نہیں ہوں گے۔


جہاں تک بالائی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلوں کو کنٹرول کرنے کی بات ہے تو اس سلسلے میں دریائے سوات پر منڈا اور دریائے چترال پر ڈیم بنا کر اس پانی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت چین میں 20 ہزار، امریکا میں 6 ہزار اور بھارت میں چار ہزار ڈیم ہیں لیکن وہاں پر تو نہ کوئی مخالفت ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی ڈیم کسی قسم کے نقصان کا باعث بنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس ڈیم کی تعمیر کے فیصلے پر خوش ہوں اور ایک پختون کی حیثیت سے مجھے دگنی خوشی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ڈیم کے نہ بننے سے کسی صوبے کو نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ کو سارا نقصان پہنچ رہا ہے جس کے ذمے دار نام نہاد قوم پرست ہیں۔

اس گفتگو کے بعد اس ڈیم کی مخالفت کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، ویسے تو ایک ایسی جماعت بھی مخالفت کر رہی ہے جس کی زرعی زمین کا ایک انچ بھی نہیں ہے۔ آج کے دور میں جنگوں سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ امریکا نے بھی جنگ کر کے دیکھ لیا ہے، اس لیے اب سازشوں کا دور ہے۔ امریکا اور بھارت نے اب جنگوں کے بجائے ایسے مہلک منصوبے بنانے شروع کر دیے ہیں جو جنگوں سے زیادہ مفید ہیں۔ فی الحال سرسری سا ذکر ہے کہ پہلے جب کسی مسلمان ملک میں اسلامی حکومت آتی تھی تو وہاں فوج کو استعمال کیا جاتا تھا جیسے الجزائر اور ترکی، مصر کو بھی خطرہ تھا چنانچہ ترکی کی طرح اس نے بھی خطرناک جرنیلوں کا صفایا کردیا۔ اس لیے اب فوج تو کسی حکومت کو ختم نہیں کر سکتی لیکن دوسرے حربے ایسے موجود ہیں جو کسی حکومت کو الٹا سکتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ مصر میں بھی کا یہی کچھ ہو گا.

جس کا آغاز ہو چکا ہے مگر کالا باغ ڈیم ہو یعنی مسلمان پاکستان کی فلاح کا لازمی منصوبہ یا مصر وغیرہ ہو یہاں ریشہ دوانی، سازش اور جاسوسی کامیاب رہ سکتی ہے۔ ہمارے ہاں تو ایک مدت سے بھارتی لابی پیدا کی جا رہی ہے اور پاکستان کی روایتی و تاریخی خالق جماعتیں اور نئے روشن خیال یہ کام شروع کر چکے ہیں۔ ہمارے بزدل اور وقتی سیاستدان نہ معلوم کب جاگیں گے اور قوم کو ان سازشوں سے بچائیں گے۔
Load Next Story