مفاہمت کی نقصان دہ سیاست
فنکشنل لیگ کے حکومت چھوڑنے سے نواز شریف کو بھی سندھ میں سیاست چمکانے کے لیے فنکشنل لیگ کا محتاج کردیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے اتحادیوں کے تحفظات دورکرنے اور منانے کے لیے سابق وزیر اعظم گیلانی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی ہے جب کہ صدر کی اجازت اور سندھ حکومت کی ناکامی کے بعد سندھ کابینہ کے ق لیگ اور این پی پی کے دو وزیروں کے استعفیٰ قبول کرلیے گئے ہیں جب کہ فنکشنل لیگ اور اے این پی کو منانے کی کوشش جاری ہے۔ حیرت ہے کہ صدر زرداری اب بھی پُرامید ہیں کہ یوسف رضا گیلانی اپنی رشتے داری کے باعث پیر پگاڑا کو منانے میں کامیاب ہوجائیں گے جب کہ گیلانی کے پیچھے تو ایف آئی اے لگی ہوئی ہے اور پیر پگاڑا، گیلانی کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور ایسا نہ ہو کہ فنکشنل لیگ کو منانے جانے والے خود فنکشنل لیگ میں نہ چلے جائیں۔
راقم نے سندھ کی بدلتی سیاست کے سلسلے میں اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ فنکشنل لیگ، سندھ میں پیپلز پارٹی کا متبادل بننے کی کافی عرصے سے کوشش کر رہی تھی اور اُسے ہونے والے انتخابات سے قبل حکومت کی اپوزیشن بننے کا موقع نہیں مل رہا تھا جو شاید حکومت نے جان بوجھ کر متنازعہ بلدیاتی نظام جلد بازی میں منظم کرکے فراہم کردیا اور حکومت اور متحدہ سے ناراض ان سیاسی پارٹیوں کی خواہش پوری ہوگئی اور انھوں نے حکومت سے الگ ہونے کے لیے یہ موقع غنیمت جانا اور دہرے بلدیاتی نظام کو بنیاد بناکر اپوزیشن میں بیٹھنے اور حکومت کے ہر اقدام کی مخالفت اور سندھ اسمبلی میں جارحانہ پالیسی اختیار کرکے سندھ کے عوام کو پیپلزپارٹی اور متحدہ سے متنفر کرنے کی سیاست شروع کر رکھی ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کے مقابلے کے لیے کوئی متبادل سیاسی قوت موجود نہیں تھی، پی پی کے بعد سندھ کے صرف دو اضلاع میں فنکشنل لیگ کے چند ارکان منتخب ہوئے تھے جب کہ ماضی میں خیرپور اور سانگھڑ اضلاع پیپلز پارٹی کا گڑھ ضرور تھے، فنکشنل لیگ نے ارباب غلام رحیم کی سندھ حکومت میں شامل ہونے کے باوجود ارباب اور پی پی مخالف سیاسی لوگوں کے لیے اپنے دروازے پہلے ہی کھول دیے تھے اور فنکشنل لیگ کے بیورو کریٹ رہنما امتیاز احمد شیخ نے ارباب رحیم کی دشمنی سے بچنے کے لیے فنکشنل لیگ میں پناہ لی تھی۔
سندھ کی چھوٹی سیاسی پارٹیوں اور قوم پرستوں کو بھی اپنی سیاست اور انفرادیت برقرار رکھنے اور پیپلز پارٹی اور متحدہ کے مقابلے کے لیے متبادل سیاسی قوت کی ضرورت تھی جو انھیں بلدیاتی نظام کی صورت میں مل گئی۔ حالانکہ بلدیاتی نظام دہرا ہے، نہ سندھ دشمن، مگر کالا باغ ڈیم کی طرح سندھ کے ایک کمزور بلدیاتی نظام کو خواہ مخواہ کا سیاسی ایشو بنایا گیا جب کہ سندھ میں کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر سندھ دیہی اور شہری کی حیثیت سے ویسے ہی تقسیم ہے اور اس نظام کے مخالف جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کرکے سندھ کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
فنکشنل لیگ کے حکومت چھوڑنے سے نواز شریف کی مسلم لیگ کو بھی سندھ میں سیاست چمکانے کے لیے فنکشنل لیگ کا محتاج کردیا ہے۔ قوم پرستوں سمیت این پی پی، اے این پی، مسلم لیگ ہم خیال، پیر پگاڑا کی قیادت میں اکٹھے ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے صدر کی قائم کردہ مفاہمتی کمیٹی نے ہر حال میں ناکام رہنا ہے۔ پیر پگاڑا کو اگر حکومت سے دوبارہ ملنا ہوتا تو وہ حکومت سے کبھی باہر نہ آتے۔
پیر پگاڑا کی قیادت میں جمع پارٹیوں میں باہمی اختلافات بھی ہیں اور حکومت کے حلیف بھی پیپلزپارٹی کے مخالف بھی ہیں، مگر اپنی بقاء کے لیے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔ ق لیگ کو نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی طرف جانے پر مجبور کیا تھا، وہی ق لیگ پی پی کے ہاتھوں سکڑ رہی ہے اور سندھ میں اس کا صفایا بھی ہورہا ہے، وہ سندھ میں حکومت کے ساتھ بھی رہی ہے۔ ق لیگ اور اے این پی وفاق میں پیپلز پارٹی کے حلیف مگر سندھ میں حریف ہیں۔
مفاہمتی یا مفاداتی سیاست اب دم توڑ رہی ہے، کیونکہ منافقت زیادہ دیر نہیں چلتی۔ پہلی بار ملک میں نام نہاد مفاہمتی پالیسی ساڑھے چار سال چلی ہے اور متحدہ نے پہلی بار پیپلز پارٹی سے طویل عرصہ مفاہمت نبھائی ہے اور وہ اب بھی ہر جگہ پی پی کے ساتھ کھڑی ہے۔ کیونکہ نواز شریف کی غلط پالیسی نے متحدہ کو پی پی کا حلیف رہنے پر مجبور کر رکھا ہے اور اس وقت پی پی کے سوا کوئی بھی سیاسی پارٹی متحدہ کے ساتھ نہیں ہے۔
متحدہ نے ق لیگ کا ہمیشہ ساتھ دیا مگر اب ق لیگ بھی بلدیاتی نظام پر پی پی اور متحدہ کو دھوکا دے رہی ہے وہ سندھ حکومت میں شامل بھی ہے اور اس کا ایک رکن وزارت سے مستعفی ہوچکا ہے جب کہ ق لیگ کی غلط پالیسی کی وجہ سے اس کے سندھ کے صوبائی صدر غوث بخش مہر نے شکایتوں پر توجہ نہ دینے پر صدارت سے استعفیٰ دے دیا ہے جب کہ وزیر اعظم انھیں وزارت سے برطرف کرچکے ہیں اور سندھ میں ان کے بیٹے شہریار مہر کا استعفیٰ گورنر سندھ نے منظور کرلیا ہے جب کہ ق لیگ کے ابھی کئی وزیر و مشیر سندھ حکومت میں شامل ہیں۔ ملک میں ریلوے تباہ کردی گئی ، مگر مفاہمت نے صدر کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں اور صدر مملکت اپنی حکومت کی مدت اور آیندہ بھی کامیابی کے لیے مفاہمتی پالیسی جاری رکھنے کے لیے حلیفوں کے تحفظات ختم کرنے کے لیے کمیٹی قائم کرچکے ہیں۔
مفاہمت کی سیاست اس ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے، مگر حکومت اپنی مدت پوری کرنے پر مطمئن ہے اور اپنی اسی سیاسی مفاد کی پالیسی کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔ حکومتی حلیفوں نے ساڑھے چار سال اقتدار سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اب الگ ہوکر انھیں حکومت میں برائیاں ہی برائیاں نظر آرہی ہیں اور ان کی نظر آیندہ انتخابات پر ہے، اب یہی حلیف ، حریف بن کر پیپلز پارٹی سے مقابلے کی صف بندی کر چکے ہیں، مگر پی پی کا سیاسی مفاد اب بھی انھیں حلیف برقرار رکھنے کے لیے بے چین ہے۔
راقم نے سندھ کی بدلتی سیاست کے سلسلے میں اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ فنکشنل لیگ، سندھ میں پیپلز پارٹی کا متبادل بننے کی کافی عرصے سے کوشش کر رہی تھی اور اُسے ہونے والے انتخابات سے قبل حکومت کی اپوزیشن بننے کا موقع نہیں مل رہا تھا جو شاید حکومت نے جان بوجھ کر متنازعہ بلدیاتی نظام جلد بازی میں منظم کرکے فراہم کردیا اور حکومت اور متحدہ سے ناراض ان سیاسی پارٹیوں کی خواہش پوری ہوگئی اور انھوں نے حکومت سے الگ ہونے کے لیے یہ موقع غنیمت جانا اور دہرے بلدیاتی نظام کو بنیاد بناکر اپوزیشن میں بیٹھنے اور حکومت کے ہر اقدام کی مخالفت اور سندھ اسمبلی میں جارحانہ پالیسی اختیار کرکے سندھ کے عوام کو پیپلزپارٹی اور متحدہ سے متنفر کرنے کی سیاست شروع کر رکھی ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کے مقابلے کے لیے کوئی متبادل سیاسی قوت موجود نہیں تھی، پی پی کے بعد سندھ کے صرف دو اضلاع میں فنکشنل لیگ کے چند ارکان منتخب ہوئے تھے جب کہ ماضی میں خیرپور اور سانگھڑ اضلاع پیپلز پارٹی کا گڑھ ضرور تھے، فنکشنل لیگ نے ارباب غلام رحیم کی سندھ حکومت میں شامل ہونے کے باوجود ارباب اور پی پی مخالف سیاسی لوگوں کے لیے اپنے دروازے پہلے ہی کھول دیے تھے اور فنکشنل لیگ کے بیورو کریٹ رہنما امتیاز احمد شیخ نے ارباب رحیم کی دشمنی سے بچنے کے لیے فنکشنل لیگ میں پناہ لی تھی۔
سندھ کی چھوٹی سیاسی پارٹیوں اور قوم پرستوں کو بھی اپنی سیاست اور انفرادیت برقرار رکھنے اور پیپلز پارٹی اور متحدہ کے مقابلے کے لیے متبادل سیاسی قوت کی ضرورت تھی جو انھیں بلدیاتی نظام کی صورت میں مل گئی۔ حالانکہ بلدیاتی نظام دہرا ہے، نہ سندھ دشمن، مگر کالا باغ ڈیم کی طرح سندھ کے ایک کمزور بلدیاتی نظام کو خواہ مخواہ کا سیاسی ایشو بنایا گیا جب کہ سندھ میں کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر سندھ دیہی اور شہری کی حیثیت سے ویسے ہی تقسیم ہے اور اس نظام کے مخالف جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کرکے سندھ کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
فنکشنل لیگ کے حکومت چھوڑنے سے نواز شریف کی مسلم لیگ کو بھی سندھ میں سیاست چمکانے کے لیے فنکشنل لیگ کا محتاج کردیا ہے۔ قوم پرستوں سمیت این پی پی، اے این پی، مسلم لیگ ہم خیال، پیر پگاڑا کی قیادت میں اکٹھے ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے صدر کی قائم کردہ مفاہمتی کمیٹی نے ہر حال میں ناکام رہنا ہے۔ پیر پگاڑا کو اگر حکومت سے دوبارہ ملنا ہوتا تو وہ حکومت سے کبھی باہر نہ آتے۔
پیر پگاڑا کی قیادت میں جمع پارٹیوں میں باہمی اختلافات بھی ہیں اور حکومت کے حلیف بھی پیپلزپارٹی کے مخالف بھی ہیں، مگر اپنی بقاء کے لیے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔ ق لیگ کو نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی طرف جانے پر مجبور کیا تھا، وہی ق لیگ پی پی کے ہاتھوں سکڑ رہی ہے اور سندھ میں اس کا صفایا بھی ہورہا ہے، وہ سندھ میں حکومت کے ساتھ بھی رہی ہے۔ ق لیگ اور اے این پی وفاق میں پیپلز پارٹی کے حلیف مگر سندھ میں حریف ہیں۔
مفاہمتی یا مفاداتی سیاست اب دم توڑ رہی ہے، کیونکہ منافقت زیادہ دیر نہیں چلتی۔ پہلی بار ملک میں نام نہاد مفاہمتی پالیسی ساڑھے چار سال چلی ہے اور متحدہ نے پہلی بار پیپلز پارٹی سے طویل عرصہ مفاہمت نبھائی ہے اور وہ اب بھی ہر جگہ پی پی کے ساتھ کھڑی ہے۔ کیونکہ نواز شریف کی غلط پالیسی نے متحدہ کو پی پی کا حلیف رہنے پر مجبور کر رکھا ہے اور اس وقت پی پی کے سوا کوئی بھی سیاسی پارٹی متحدہ کے ساتھ نہیں ہے۔
متحدہ نے ق لیگ کا ہمیشہ ساتھ دیا مگر اب ق لیگ بھی بلدیاتی نظام پر پی پی اور متحدہ کو دھوکا دے رہی ہے وہ سندھ حکومت میں شامل بھی ہے اور اس کا ایک رکن وزارت سے مستعفی ہوچکا ہے جب کہ ق لیگ کی غلط پالیسی کی وجہ سے اس کے سندھ کے صوبائی صدر غوث بخش مہر نے شکایتوں پر توجہ نہ دینے پر صدارت سے استعفیٰ دے دیا ہے جب کہ وزیر اعظم انھیں وزارت سے برطرف کرچکے ہیں اور سندھ میں ان کے بیٹے شہریار مہر کا استعفیٰ گورنر سندھ نے منظور کرلیا ہے جب کہ ق لیگ کے ابھی کئی وزیر و مشیر سندھ حکومت میں شامل ہیں۔ ملک میں ریلوے تباہ کردی گئی ، مگر مفاہمت نے صدر کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں اور صدر مملکت اپنی حکومت کی مدت اور آیندہ بھی کامیابی کے لیے مفاہمتی پالیسی جاری رکھنے کے لیے حلیفوں کے تحفظات ختم کرنے کے لیے کمیٹی قائم کرچکے ہیں۔
مفاہمت کی سیاست اس ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے، مگر حکومت اپنی مدت پوری کرنے پر مطمئن ہے اور اپنی اسی سیاسی مفاد کی پالیسی کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔ حکومتی حلیفوں نے ساڑھے چار سال اقتدار سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اب الگ ہوکر انھیں حکومت میں برائیاں ہی برائیاں نظر آرہی ہیں اور ان کی نظر آیندہ انتخابات پر ہے، اب یہی حلیف ، حریف بن کر پیپلز پارٹی سے مقابلے کی صف بندی کر چکے ہیں، مگر پی پی کا سیاسی مفاد اب بھی انھیں حلیف برقرار رکھنے کے لیے بے چین ہے۔