قندیل کے قاتلوں کو لانیوالا ٹیکسی ڈرائیورمفتی قوی کا رشتہ دار نکلا
باسط رشتہ دار نہیں، کیس میں کلین چٹ مل گئی، سوالوں کا جواب تیار کرلیا، مفتی قوی
باسط رشتہ دار نہیں، کیس میں کلین چٹ مل گئی، سوالوں کا جواب تیار کرلیا، مفتی قوی. فوٹو: فائل
قندیل بلوچ قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، دوران تفتیش انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان کو ملتان لانے والا ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط مفتی عبدالقوی کا ماموں زاد بھائی ہے۔
ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط نے 27 جولائی کو پولیس کو از خود گرفتاری دی تھی، دوران تفتیش پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط بھی ڈیرہ غازی خان کے علاقے شاہ صدر دین کا رہائشی ہے جب کہ اس کے والد کا نام عبدالخالق قریشی ہے اور وہ مفتی عبدالقوی کا ماموں زاد ہے۔ دوسری جانبدارالعلوم عبیدیہ کے مہتمم مفتی عبدالقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ قندیل قتل کیس میں پولیس نے انھیں کلین چٹ دیدی ہے، قندیل بلوچ کی والدہ نے ان پر قتل کا جوالزام لگایا ہے وہ مضحکہ خیز ہے۔
علاوہ ازیں تفتیشی حکام نے مفتی عبدالقوی کوبیان بازی سے روک دیا ہے، پولیس کا کہناہے جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی تب تک عبدالقوی میڈیا سے دور رہیں۔ ادھر ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ ملتان نے قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث مقتولہ کے بھائی وسیم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے جبکہ ساتھی ملزم حق نواز کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا حکم دیا ہے۔
ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط نے 27 جولائی کو پولیس کو از خود گرفتاری دی تھی، دوران تفتیش پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط بھی ڈیرہ غازی خان کے علاقے شاہ صدر دین کا رہائشی ہے جب کہ اس کے والد کا نام عبدالخالق قریشی ہے اور وہ مفتی عبدالقوی کا ماموں زاد ہے۔ دوسری جانبدارالعلوم عبیدیہ کے مہتمم مفتی عبدالقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ قندیل قتل کیس میں پولیس نے انھیں کلین چٹ دیدی ہے، قندیل بلوچ کی والدہ نے ان پر قتل کا جوالزام لگایا ہے وہ مضحکہ خیز ہے۔
علاوہ ازیں تفتیشی حکام نے مفتی عبدالقوی کوبیان بازی سے روک دیا ہے، پولیس کا کہناہے جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی تب تک عبدالقوی میڈیا سے دور رہیں۔ ادھر ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ ملتان نے قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث مقتولہ کے بھائی وسیم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے جبکہ ساتھی ملزم حق نواز کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا حکم دیا ہے۔