خسارے کی حامل سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کا مطالبہ
حکومت کو سالانہ 500 ارب روپے کے نقصان سے چھٹکارا مل جائیگا، ایس ایم منیر
رسک بزنس کوآزاد کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر کسی قسم کی پابندی یا وقت کی قید نہیں لگانی چاہیے، شیخ مختار احمد فوٹو فائل
نجی شعبے نے پبلک سیکٹر کے اداروں کی نجکاری شروع کرنے کی تجویز دیدی ہے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے الائیڈ بینک ایسیٹ منیجمنٹ کمپنی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پبلک سیکٹر آرگنائزیشنز کی کارکردگی بھی نجی شعبے کی تحویل میں آنے کے بعد بہتر ہوسکتی ہے اور نجکاری کے باعث حکومت کو سالانہ 500 ارب روپے مالیت کے خسارے سے بھی چھٹکارا مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں، ترقیاتی و مالیاتی اداروں کی ڈی نیشنلائزیشن کے بعد کارکردگی میں نہ صرف بہتری رونما ہوئی ہے بلکہ انکے کاروباری طرز عمل میں بھی تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور اب بینک ومالیاتی ادارے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے پاکستان اسٹیل ملزاور پبلک سیکٹر کے دیگر ادارے قومی خزانے کو ناقابل برداشت خسارے سے دوچار کر رہے ہیں ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہو گیا ہے کہ خسارے کے حامل ان اداروں کی یا تونجکاری کردی جائے یا پھر سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر ان میں پروفیشنل افراد کی تقرری کی جائے۔ انہوں نے مقامی گروپ کے چیئرمین شیخ مختار احمد کی قیادت میں اے اے ایم سی کی کارکردگی کو سراہا۔
اس موقع پر شیخ مختار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسک بزنس کوآزاد کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر کسی قسم کی پابندی یا وقت کی قید نہیں لگانی چاہیے، الائیڈ بینک اے ایم سی نے اپنے کسٹمرز کو بہترین خدمات پیش کی ہیں۔
کاٹی کے چیئرمین زبیر چھایا نے اس موقع پر اے ایم سی کی تعریف کرتے ہوئے کاٹی کے ممبران کو مشورہ دیا کہ وہ اے اے ایم سی میں ترجیحی بنیادوں پرسرمایہ کاری کریں۔ اے اے ایم سی کے چیف ایگزیکٹوفرید احمد خان نے کہا کہ ان کی ایسیٹ منیجمنٹ کمپنی ملک کی صف اول کی فنڈ منیجمنٹ کمپنوں میں شامل ہو چکی ہے جس میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 100 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے الائیڈ بینک ایسیٹ منیجمنٹ کمپنی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پبلک سیکٹر آرگنائزیشنز کی کارکردگی بھی نجی شعبے کی تحویل میں آنے کے بعد بہتر ہوسکتی ہے اور نجکاری کے باعث حکومت کو سالانہ 500 ارب روپے مالیت کے خسارے سے بھی چھٹکارا مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں، ترقیاتی و مالیاتی اداروں کی ڈی نیشنلائزیشن کے بعد کارکردگی میں نہ صرف بہتری رونما ہوئی ہے بلکہ انکے کاروباری طرز عمل میں بھی تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور اب بینک ومالیاتی ادارے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے پاکستان اسٹیل ملزاور پبلک سیکٹر کے دیگر ادارے قومی خزانے کو ناقابل برداشت خسارے سے دوچار کر رہے ہیں ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہو گیا ہے کہ خسارے کے حامل ان اداروں کی یا تونجکاری کردی جائے یا پھر سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر ان میں پروفیشنل افراد کی تقرری کی جائے۔ انہوں نے مقامی گروپ کے چیئرمین شیخ مختار احمد کی قیادت میں اے اے ایم سی کی کارکردگی کو سراہا۔
اس موقع پر شیخ مختار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسک بزنس کوآزاد کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر کسی قسم کی پابندی یا وقت کی قید نہیں لگانی چاہیے، الائیڈ بینک اے ایم سی نے اپنے کسٹمرز کو بہترین خدمات پیش کی ہیں۔
کاٹی کے چیئرمین زبیر چھایا نے اس موقع پر اے ایم سی کی تعریف کرتے ہوئے کاٹی کے ممبران کو مشورہ دیا کہ وہ اے اے ایم سی میں ترجیحی بنیادوں پرسرمایہ کاری کریں۔ اے اے ایم سی کے چیف ایگزیکٹوفرید احمد خان نے کہا کہ ان کی ایسیٹ منیجمنٹ کمپنی ملک کی صف اول کی فنڈ منیجمنٹ کمپنوں میں شامل ہو چکی ہے جس میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 100 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔