سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع
سندھ اور کراچی میں حالات کی خرابی کی وجہ جہاں سیاسی مفادات ہیں وہاں انتظامی بریک ڈاؤن بھی ہے
نئے وزیراعلیٰ کو سول اداروں کے سربراہان اور اہلکاروں کا احتساب کرنا ہو گا۔ فوٹو؛ فائل
سندھ کے نو منتخب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے گزشتہ روز رینجرز کے اختیارات اور قیام کی مدت میں توسیع کر دی، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق رینجرز کے چھاپوں کے اختیارات میں 90 روز جب کہ قیام کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے رینجرز اختیارات کے معاملے پر مشیر قانون مرتضی وہاب، چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن اور سیکریٹری داخلہ سندھ کو طلب کیا۔
سیکریٹری داخلہ سندھ نے مراد علی شاہ کو رینجرز اختیارات کے معاملے پر بریفنگ دی۔وزیر اعلی سندھ نے رینجرز کے قیام اور اختیارات کی مدت میں توسیع کی سمریوں پر دستخط کر دیے۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق رینجرز کے چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات میں 90 روز جب کہ قیام کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے۔ وزیراعلی سندھ چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت جاری کی ہے کہ اختیارات کے نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ واضح رہے کہ رینجرز اختیارات 19 جولائی کو ختم ہوچکے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے رینجرز کے اختیارات اور سندھ میں قیام کی مدت میں توسیع کے حوالے سے جو معاملات چل رہے تھے، انھیں بخوبی نمٹا دیا ہے، یہ مثبت سمت میں پیش رفت ہے۔ اس سے سندھ کے انتظامی معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھیں گے۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ نومنتخب وزیراعلیٰ شاید رینجرز کے اختیارات اور اس کے سندھ میں قیام میں توسیع کے حوالے سے کوئی رکاوٹ ڈالیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
دراصل سندھ خصوصاً کراچی کی جو صورتحال ہے اس کے تناظر میں کراچی میں رینجرز کو خصوصی اختیارات دینا ضروری نظر آتا ہے، جب سے کراچی میں رینجرز تعینات ہیں، بہت سی شکایات اور شکوؤں کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کراچی میں حالات بہتر ہوئے ہیں، کراچی میں کاروباری طبقے کا اعتماد قدرے بحال ہوا ہے، جرائم کی شرح میں بھی کمی آئی ہے، بلاشبہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں ہو رہی ہیں لیکن ماضی کے مقابلے میں ان کی شرح کم ہے، گزشتہ دنوں نامور قوال امجد صابری کو قتل کیا گیا، اس کے بعد کراچی میں دو فوجی جوان دہشت گردی کا شکار ہوئے، پھر لاڑکانہ میں رینجرز اہلکار بم دھماکے کی نذر ہو گئے، یہ وارداتیں ضرور ہوئی ہیں لیکن کراچی میں صورتحال خاصی اطمینان بخش ہے، دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں سے اس حقیقت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ کراچی میں دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے سیلز ابھی تک موجود ہیں، ان کا خاتمہ کرنے کے لیے رینجرز کے خصوصی اختیارات اور ان کے قیام میں توسیع ناگزیر ہے۔
سندھ اور کراچی میں حالات کی خرابی کی وجہ جہاں سیاسی مفادات ہیں وہاں انتظامی بریک ڈاؤن بھی ہے۔ کراچی میں امن و امان کا قیام، ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا، شہریوں کو پانی کی فراہمی اور صفائی کرنا، یہ سب کچھ سول انتظامیہ کی ذمے داری ہے۔ جب تک سول انتظامیہ اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں بنائے گی، اس وقت تک صورت حال کو بہتر نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب انتظامی ناکامی کی بات کی جائے تو یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ سیاسی دباؤ کے سامنے انتظامیہ کیا کرے گی۔ اگر سیاسی قیادت اور جماعتوں کے بارے میں سوال اٹھایا جاتا ہے تو ان کا گھڑا گھڑایا جواز یہ ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ انھیں کام کرنے نہیں دیتی، یہ سارے معاملات خود کو ذمے داری سے بری کرنا اور دوسرے پر ملبہ ڈالنے کے سوا کچھ نہیں۔ اگر سندھ میں رینجرز کے خصوصی اختیارات اور اس کے قیام کی توسیع کی گئی ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ سندھ حکومت یہی چاہتی ہے۔
اب اگلا مرحلہ ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کا ہے۔ سندھ حکومت اور رینجرز دونوں کے مدنظر کراچی اور سندھ کی عوام کا مفاد ہونا چاہیے۔ سیاسی اور ادارہ جاتی مفادات اپنی جگہ ہوں گے لیکن اولیت صوبہ سندھ کے عوام کو حاصل ہونی چاہیے۔ سندھ خصوصاً کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈر کو نئی حقیقتیں تسلیم کرنی چاہئیں۔ جرائم اور سیاست ایک ساتھ نہیں چل سکتے، اسی طرح ادارہ جاتی مفادات اور سیاست بھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے، ان سب کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سول انتظامیہ کی لگامیں کھینچنا پڑیں گی۔
اخباری خبر کے مطابق سندھ میں نئے وزیراعلیٰ کے آتے ہی افسر شاہی میں کھلبلی مچ گئی، محکمہ تعلیم، صحت، پولیس، اینٹی کرپشن اور دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران نے اپنے ماتحت عملے کو صبح نو بجے حاضری یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ بڑی خوش آیند تبدیلی ہے۔ سول انتظامیہ کا قبلہ درست کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کراچی جیسے میگا سٹی میں صفائی اور نکاسی آب کی جو صورت حال ہے، اس کا ذمے دار کون ہے؟ پانی کے بحران کو حل کرنا کس کی ذمے داری ہے؟ اسپتالوں اور سرکاری ڈسپنسریوں کی حالت زار کو بہتر کرنا کس کی ذمے داری ہے؟ یہ کام رینجرز کے تو نہیں ہیں، انھیں متعلقہ سول اداروں نے ہی درست کرنا ہے۔ نئے وزیراعلیٰ کو سول اداروں کے سربراہان اور اہلکاروں کا احتساب کرنا ہو گا۔
سیکریٹری داخلہ سندھ نے مراد علی شاہ کو رینجرز اختیارات کے معاملے پر بریفنگ دی۔وزیر اعلی سندھ نے رینجرز کے قیام اور اختیارات کی مدت میں توسیع کی سمریوں پر دستخط کر دیے۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق رینجرز کے چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات میں 90 روز جب کہ قیام کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے۔ وزیراعلی سندھ چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت جاری کی ہے کہ اختیارات کے نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ واضح رہے کہ رینجرز اختیارات 19 جولائی کو ختم ہوچکے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے رینجرز کے اختیارات اور سندھ میں قیام کی مدت میں توسیع کے حوالے سے جو معاملات چل رہے تھے، انھیں بخوبی نمٹا دیا ہے، یہ مثبت سمت میں پیش رفت ہے۔ اس سے سندھ کے انتظامی معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھیں گے۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ نومنتخب وزیراعلیٰ شاید رینجرز کے اختیارات اور اس کے سندھ میں قیام میں توسیع کے حوالے سے کوئی رکاوٹ ڈالیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
دراصل سندھ خصوصاً کراچی کی جو صورتحال ہے اس کے تناظر میں کراچی میں رینجرز کو خصوصی اختیارات دینا ضروری نظر آتا ہے، جب سے کراچی میں رینجرز تعینات ہیں، بہت سی شکایات اور شکوؤں کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کراچی میں حالات بہتر ہوئے ہیں، کراچی میں کاروباری طبقے کا اعتماد قدرے بحال ہوا ہے، جرائم کی شرح میں بھی کمی آئی ہے، بلاشبہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں ہو رہی ہیں لیکن ماضی کے مقابلے میں ان کی شرح کم ہے، گزشتہ دنوں نامور قوال امجد صابری کو قتل کیا گیا، اس کے بعد کراچی میں دو فوجی جوان دہشت گردی کا شکار ہوئے، پھر لاڑکانہ میں رینجرز اہلکار بم دھماکے کی نذر ہو گئے، یہ وارداتیں ضرور ہوئی ہیں لیکن کراچی میں صورتحال خاصی اطمینان بخش ہے، دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں سے اس حقیقت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ کراچی میں دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے سیلز ابھی تک موجود ہیں، ان کا خاتمہ کرنے کے لیے رینجرز کے خصوصی اختیارات اور ان کے قیام میں توسیع ناگزیر ہے۔
سندھ اور کراچی میں حالات کی خرابی کی وجہ جہاں سیاسی مفادات ہیں وہاں انتظامی بریک ڈاؤن بھی ہے۔ کراچی میں امن و امان کا قیام، ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا، شہریوں کو پانی کی فراہمی اور صفائی کرنا، یہ سب کچھ سول انتظامیہ کی ذمے داری ہے۔ جب تک سول انتظامیہ اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں بنائے گی، اس وقت تک صورت حال کو بہتر نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب انتظامی ناکامی کی بات کی جائے تو یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ سیاسی دباؤ کے سامنے انتظامیہ کیا کرے گی۔ اگر سیاسی قیادت اور جماعتوں کے بارے میں سوال اٹھایا جاتا ہے تو ان کا گھڑا گھڑایا جواز یہ ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ انھیں کام کرنے نہیں دیتی، یہ سارے معاملات خود کو ذمے داری سے بری کرنا اور دوسرے پر ملبہ ڈالنے کے سوا کچھ نہیں۔ اگر سندھ میں رینجرز کے خصوصی اختیارات اور اس کے قیام کی توسیع کی گئی ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ سندھ حکومت یہی چاہتی ہے۔
اب اگلا مرحلہ ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کا ہے۔ سندھ حکومت اور رینجرز دونوں کے مدنظر کراچی اور سندھ کی عوام کا مفاد ہونا چاہیے۔ سیاسی اور ادارہ جاتی مفادات اپنی جگہ ہوں گے لیکن اولیت صوبہ سندھ کے عوام کو حاصل ہونی چاہیے۔ سندھ خصوصاً کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈر کو نئی حقیقتیں تسلیم کرنی چاہئیں۔ جرائم اور سیاست ایک ساتھ نہیں چل سکتے، اسی طرح ادارہ جاتی مفادات اور سیاست بھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے، ان سب کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سول انتظامیہ کی لگامیں کھینچنا پڑیں گی۔
اخباری خبر کے مطابق سندھ میں نئے وزیراعلیٰ کے آتے ہی افسر شاہی میں کھلبلی مچ گئی، محکمہ تعلیم، صحت، پولیس، اینٹی کرپشن اور دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران نے اپنے ماتحت عملے کو صبح نو بجے حاضری یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ بڑی خوش آیند تبدیلی ہے۔ سول انتظامیہ کا قبلہ درست کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کراچی جیسے میگا سٹی میں صفائی اور نکاسی آب کی جو صورت حال ہے، اس کا ذمے دار کون ہے؟ پانی کے بحران کو حل کرنا کس کی ذمے داری ہے؟ اسپتالوں اور سرکاری ڈسپنسریوں کی حالت زار کو بہتر کرنا کس کی ذمے داری ہے؟ یہ کام رینجرز کے تو نہیں ہیں، انھیں متعلقہ سول اداروں نے ہی درست کرنا ہے۔ نئے وزیراعلیٰ کو سول اداروں کے سربراہان اور اہلکاروں کا احتساب کرنا ہو گا۔