مقامی حکومتوں کے قیام کو اولیت دیجیے

عدالت عظمیٰ نے آبزرویشن دی کہ مقامی حکومتوں کے ادارے تشکیل پانے میں پہلے ہی بہت سارا وقت ضایع ہوچکا ہے

سندھ حکومت امن کے قیام اور بلدیاتی الیکشن کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے جارہی ہے تو اسے ہر قسم کی مدد مہیا کی جانی چاہیے۔ فوٹو : ایکسپریس

لاہور:
سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے سندھ کے بلدیاتی اداروں کے ارکان کی حلف برداری روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں فل بنچ نے سندھ کے سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی پٹیشن پر سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن سے جواب مانگ لیا اور اٹارنی جنرل کو عدالت کی معاونت کی ہدایت کی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے آبزرویشن دی کہ مقامی حکومتوں کے ادارے تشکیل پانے میں پہلے ہی بہت سارا وقت ضایع ہوچکا ہے، مزید تاخیر نہیں کی جاسکتی۔

یہ حقیقت شاید ہر باشعور شہری کے ذہن میں محفوظ ہوگی کہ مقامی حکومتوں کے قیام یا بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں سیاسی لیت ولعل پر جتنی عدالت عظمیٰ نے برہمی کا اظہار کیا ہے وہ پاکستان کی بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کا منفرد باب ہے، سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کو ملکی خسارہ سے تعبیر کرتے ہوئے کئی بار اپنے ریمارکس میں اسے افسوس ناک قراردیا اور لوکل باڈیز کے امور کو شٹل کاک کے طور پر استعمال کرنے پر ناپسندیدگی ظاہر کی مگر بات اس مائنڈ سیٹ کی ہے جو کلی اقتدار، اختیارات ، سیاسی طاقت ، فنڈز کے اجرا ، حصول اور اسے من مانے طریقے سے استعمال کرنے سے آگے کچھ نہیں دیکھتا بلکہ مقامی حکومت کے قیام کو بعض سیاسی طالع آزما اور جمہوریت بیزار عناصر صوبائی حکومتوں کے معاملات میں مداخلت اور اپنے اختیارات کو محدود کرنے کی سازش کا نام دیتے ہیں۔

یہی طرز فکر در حقیقیت بلدیاتی الیکشن کے اس حتمی مرحلے میں درپیش ہے جہاں اب سپریم کورٹ کو سندھ میں میئر ، ڈپٹی میئر،چیئرمین و وائس چیئرمین کے انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر قبول نہیں ۔ سندھ اور پنجاب حکومت کو عدلیہ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔ ماضی میں صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی ایشو کو ہمیشہ ٹھکرایا جب کہ آمریت نے ہزار الزامات کے باوجود بلدیاتی الیکشن کرائے ۔ بیوروکریسی کو اعتماد میں لیا جائے، اس لیے جمہوری عمل سے وابستگی رکھنے والے ڈیموکریٹس کی یہ ذہنیت ناقابل فہم ہے جو انھیں مقامی حکومتوں کے الیکشن کرانے پر تیار نہیں ہونے دیتی جب کہ دنیا کے تمام جمہوری معاشروں میں مروج اس اصول کو اولیت حاصل ہے کہ مقامی حکومت عوامی مفاد اور اس کی روز مرہ زندگی سے مشروط اور منسلک حقیقت ہے جسے ہر قیمت پر مقدم رکھنا چاہیے۔ عام طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عوام کی خدمت کے نام پر سیاست کو بھی خانوں میں تقسیم کیا ہے اور سیاسی مصلحتوں کے تحت لوکل باڈیز ایکٹ پر عمل درآمد یا اس کی ترامیم پر خاصا وقت برباد کیا ۔


کبھی مردم شماری کا بہانہ تو کبھی حلقہ بندیوں اور ووٹرز لسٹ کی منظوری پر سیاسی جماعتوں میں تصادم ہوا ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جمہوری عمل کے لیے مقامی خود اختیاری حکومتوں کا قیام خود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں اور جہاں ہمارے ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران سے لوگ پانی، صفائی ، ٹرانسپورٹ اور پرائمری اسکولوں اور ضلعی اسپتالوں سے متعلق اپنے مسائل حل کرنے پر زور دیتے رہتے ہیں وہاں بلدیاتی ادارے یہی کام بہ حسن خوبی انجام دیتے رہے ہیں۔ سسٹم خود خراب نہیں ہوتا اسے چلانے کا ہنر آنا چاہیے۔

تاہم پنجاب حکومت کی طرف سے خوش آیند پیش رفت ہوئی ہے اور وزیراعظم کی ہدایت پر بلدیاتی اداروں کے انتخابی عمل کی فوری تکمیل کے لیے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم ایک آرڈیننس کے ذریعے واپس لے لیں، ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق پیر کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے روبرو پیش ہوئے اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم واپس لینے کے بارے میں آگاہ کیا، انھوں نے موقف اپنایا کہ حکومت کی جانب سے ترامیم واپس لینے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی پٹیشنز غیرموثر ہو جائیں گی، اب صوبے بھر میں ضلع کونسلوں، میئر، ڈپٹی میئر اور لارڈ میئر کے انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہونگے، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق اور عوامی تحریک کی درخواستوں میں موقف اختیارکیا گیا کہ ضلع کونسلوں کی تشکیل کے لیے خفیہ رائے شماری کراناآئین کا تقاضا ہے، لاہور ہائیکورٹ اس کیس کی سماعت کرے گی۔

ضرورت اب اس بات کی ہے کہ نئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بلدیاتی انتخابات کے اس آخری مرحلے سے نمٹیں، الیکشن سندھ حکومت ہی کی ذمے داری ہے، کراچی میں امن، ترقی ، سیاسی افہام وتفہیم کے لیے میئر ڈپٹی میئر کے الیکشنزٹرننگ پوائنٹ ثابت ہونگے ، کراچی اس وقت بوائلنگ پوائنٹ پر ہے ، اس لیے سیاسی حقائق کو تسلیم کرنے میں سب کا فائدہ ہے، امن کے قیام کو یقینی بنانااور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اشتراک عمل ناگزیر ہے۔

مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ سندھ میں رینجرز کی تعیناتی کبھی متنازعہ نہیں رہی، رینجرز کو اختیار دنیا صوبے کا استحقاق ہے اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن اس موضوع پر اب سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، سندھ کو نئی حکومت کچھ ڈیلیور کرنے کا سوچے، کسی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں، ایک طرف وفاق کے اہم فیصلوں کو خندہ پیشانی سے قبول کیا جائے تو دوسری جانب سندھ حکومت امن کے قیام اور بلدیاتی الیکشن کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے جارہی ہے تو اسے ہر قسم کی مدد مہیا کی جانی چاہیے۔
Load Next Story