انتہا پسندانہ نظریے سے نمٹنے کی ضرورت

برین واشنگ اتنے بھیانک اور سفاکانہ انداز میں کی جاتی ہے کہ انتہائی نوعمر بچے خودکش بمبار بن جاتے ہیں

اپنی غلطیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم وہ اہداف حاصل نہیں کر سکے جن کے ذریعے پاکستان کو ایک جدید اور متمدن ریاست بننا تھا۔ فوٹو:فائل

انتہا پسند نظریہ عالمی خطرہ ہے،کتنی حقیقت پسندانہ بات کی وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے ، وہ داخلی سلامتی اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔ درحقیقت اس وقت عالمی امن کو انتہاپسند سوچ وفکر کے باعث شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں ۔ انتہاء پسندی جو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے گروہوں میں پروان چڑھ چکی ہے۔اس کے نتیجے میں ایک فرد یا گروہ سیکڑوں، ہزاروں پرامن شہریوں کوچند لمحوں میں موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔آخر یہ سب کیسے ہوا اورکیونکر،اس کے اسباب کی فہرست طویل ہے۔

برین واشنگ اتنے بھیانک اور سفاکانہ انداز میں کی جاتی ہے کہ انتہائی نوعمر بچے خودکش بمبار بن جاتے ہیں۔ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان میں جاری دہشتگردی کی لہرکے باعث تقریباً ستر ہزار افراد شہید ہوچکے ہیں،اتنے تو بھارت سے تین جنگوں میں نہیں ہوئے۔یہ درست ہے کہ پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے بہا قربانیاں دے کر ہمارے آنے والے''کل''کو ہمارے لیے محفوظ بنایا ہے۔آپریشن ضرب عضب بھی کامیابی سے جاری ہے، لیکن نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا جاسکا ہے ، صورتحال کچھ یوں ہے کہ آپ اگر دہشتگردی کے درخت کی جتنی شاخیں کاٹیں گے، اتنی نئی شاخیں اورنکل آئیں گے، مسئلے کا حل یہ ہے کہ درخت کو ہی جڑ سے اکھاڑ دیا جائے ۔


اس کے لیے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو خلوص نیت سے ایسے اقدامات کرنے چاہیے جس سے انتہاپسندی کی سوچ پروان نہ چڑھے۔اس کے لیے ان تعلیمی اداروں، مراکزاور لٹریچر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جو انتہاپسندانہ سوچ کی آبیاری کررہے ہیں ۔ملک بھر میں نصاب تعلیم میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انتہا پسندانہ سوچ کے خاتمے کی جانب سفر کے لیے یہ پہلی سیڑھی ہے۔ اگر نصاب میں تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں اور محض لڑائی کے ذریعے دہشت گردی ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا نتیجہ سوائے انتشار کے کچھ نہیں نکلے گا۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اورانتہا پسند پورے ملک میں پسپا ہورہے ہیں، ملک درست راستے پر ہے،ہرشہری امن، استحکام اورخوشحالی سے مستفید ہوگا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ معاشی اور سماجی نقصانات اٹھائے۔ یہ باتیں بھی صائب ہیں ملک میں امن وامان کے حوالے خاصی بہترصورتحال سامنے آئی ہے، جب کہ کچھ عرصہ قبل تک تو پاکستانی صنعتکار اپنی صنعتیں بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک میں منتقل کررہے تھے،عالمی سرمایہ دارپاکستان میں اپنا سرمایہ لگاتے ہوئے ڈرتے تھے، بیرونی سرمایہ کاری کے بغیرکوئی ملک ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا،اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں امن ہو۔'آپریشن' کے ساتھ ہمیں اس طرز فکرکو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جو انتہا پسند نظریے کے فروغ کے لیے خودکش بمبارتیارکرتے ہیں۔

اس سلسلے میں ہمیں اسلام کے عالمی آفاقی پیغام امن کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانا ہوگا ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہمیں انتہاپسندانہ نظریات کے خاتمے میں خاصی مدد مل سکتی ہے ، یہ دھرتی تو صوفیائے کرام کے انسانیت سے محبت کی بنا پر صدیوں امن کا گہوارہ رہی ہے اسی صوفیانہ اور انسان دوست فکر کے فروغ سے انتہاپسندی کے نظریے کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو خود احتسابی کے عمل سے بھی گزرنا چاہیے۔ انھیں اپنی تین سالہ کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس دوران دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ان سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئی ہیں۔ ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ کسی بھی حکومت نے اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کیا۔ اپنی غلطیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم وہ اہداف حاصل نہیں کر سکے جن کے ذریعے پاکستان کو ایک جدید اور متمدن ریاست بننا تھا۔
Load Next Story