جامشورو مسافر کوچ کا المناک ٹریفک حادثہ

چھوٹے شہروں اور دیہات میں حادثات کی بڑی وجہ سڑکوں کا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا ہے

مذکورہ حادثے کی شکار مسافر کوچ ڈیرہ غازی خان سے کراچی آرہی تھی۔ فوٹو: اے پی پی

جامشورو کے نزدیک انڈس ہائی وے پٹارو کے مقام پر مسافر کوچ اور ٹرک میں تصادم کے نتیجے میں 12 مسافر جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے، ہلاک شدگان میں 2 بچے اور 2 فوجی جوان بھی شامل ہیں۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ مسافر کوچ کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ ملک میں ٹریفک حادثات کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھتی جارہی ہے، امسال بھی سپر ہائی ویز پر مسافر بسوں کے خوفناک حادثات کے نتیجے میں درجنوں انسانی جانیں ضایع ہوئیں۔


مذکورہ حادثے کی شکار مسافر کوچ ڈیرہ غازی خان سے کراچی آرہی تھی۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ مسافر کوچ کے ڈرائیور کی آنکھ لگنے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ علم میں آیا ہے کہ لمبے روٹ پر چلنے والے ڈرائیور حضرات نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور بعض ڈرائیور و کنڈیکٹر نشہ آور اشیا کے استعمال میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ مناسب ہوگا کہ حکومت اس سلسلے میں لائحہ عمل مرتب کرے اور منشیات استعمال کرنے والے ڈرائیورز کی لائسنس منسوخی کے علاوہ بس مالکان کو پابند کرے کہ ہر ڈرائیور کو اگلے راؤنڈ سے پہلے مکمل آرام فراہم کیا جائے تاکہ نیند کی کمی کے باعث ایسے حادثات پیش نہ آسکیں۔ ملک بھر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات باعث تشویش ہیں، جس میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بلکہ حادثے کا شکار لوگوں کو عمر بھر کی معذوری کا روگ لاحق ہوجاتا ہے۔

چھوٹے شہروں اور دیہات میں حادثات کی بڑی وجہ سڑکوں کا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا اور رات کے اوقات میں شاہراؤں کا اسٹریٹ لائٹس سے محرومی ہے۔ ٹریفک حادثات میں ڈرائیورز کی لاپرواہی، تیز رفتاری، ٹریفک پولیس کی چشم پوشی اور رشوت ستانی کے علاوہ خود شہری بھی برابر کے ذمے دار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ روڈ سیفٹی ایکٹ فعال کرنے کے ساتھ بغیر لائسنس یافتہ، کم عمر اور ناتجربہ کار ڈرائیورز کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے، نیز ڈرائیورز کا لمبے سفر پر نکلنے سے پہلے مکمل فٹ ہونا بھی ضروری ہے۔
Load Next Story