نئی حکومت

پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ بہت دیر میں کیا ہے یہ فیصلہ اسے بہت پہلے کرنا چاہیے تھا

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

KARACHI:
پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ بہت دیر میں کیا ہے یہ فیصلہ اسے بہت پہلے کرنا چاہیے تھا کیونکہ سندھ میں نظام حکومت تقریباً مفلوج ہوکر رہ گیا تھا۔ حکومت کا کوئی محکمہ ایسا نہیں رہا تھا جس کی کارکردگی کو بہتر اور اطمینان بخش کہا جا سکے۔ غالباً پیپلز پارٹی کی قیادت یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ جمہوری نظام میں حکومتوں کی کارکردگی کا براہ راست اچھا یا برا اثر اس پارٹی پر پڑتا ہے جو الیکشن جیت کر حکومت بناتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ ایک مرنجان مرنج مزاج کے مالک تھے اور ذاتی حیثیت میں شریف انسان بھی تھے لیکن سندھ جیسے حساس صوبے اورکراچی جیسے دوکروڑ آبادی کے شہر میں جہاں دوسرے صوبوں سے آنے والے لاکھوں لوگ ہی نہیں رہتے بلکہ دوسرے ملکوں سے آنے والے25 لاکھ کے لگ بھگ لوگ بھی رہتے ہیں جن میں جرائم پیشہ لوگ بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ ایسے صوبے کو ایک غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک وزیراعلیٰ اور ایماندار اور ذمے دارکابینہ کی ضرورت تھی لیکن نہ جانے پیپلز پارٹی نے کن مصلحتوں کے تحت ایک ایسی حکومت کو ترجیح دی جس کی کارکردگی سے مسائل کم نہ ہوئے بڑھتے ہی گئے۔

نئے وزیر اعلیٰ نوجوان بھی اسمارٹ بھی اورکچھ کر دکھانے کے لیے پرعزم بھی لیکن نئے وزیر اعلیٰ اس وقت ہی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں جب وہ اور ان کی کابینہ فیصلے کرنے میں آزاد ہو، اگرکسی حکمران کو روبوٹ بنا دیا گیا تو خواہ وہ کتنی ہی صلاحیتوں کا مالک ہو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔ عموماً حکومتوں کو اپنی پارٹی کے فریم ورک میں رہتے ہوئے اس کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہنا پڑتا ہے، اگر پارٹی کی قیادت کی ترجیحات میں عوام کے مسائل کا حل سرفہرست ہو تو بلاشبہ حکومت کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے اگر پارٹی کی ترجیحات میں ذاتی اور جماعتی مفادات کو اولیت حاصل ہو تو پھر حکومتیں ڈمی بن کر رہ جاتی ہیں اور عوام مسائل کے انبار میں دبتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے حکومت ہی نہیں پارٹی بھی بدنام ہوجاتی ہے۔


کسی بھی نئی حکومت کو کام شروع کرنے سے پہلے اہم عوامی مسائل کا تعین اور انھیں حل کرنے کا ایک موثر میکانزم درکار ہوتا ہے۔ نئے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ تعلیم اور صحت ان کی اولین ترجیح ہوں گے۔ موصوف نے یہ بھی کہا ہے کہ عوام زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلیاں دیکھیں گے۔ وزیر اعلیٰ کا یہ عزم قابل تعریف ہے لیکن وہ اپنے عزم میں اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب ان کی ٹیم یعنی کابینہ بھی اہل اور ایماندار ہو، بدقسمتی سے سندھ حکومت کی کارکردگی ماضی میں کبھی تسلی بخش نہیں رہی اگرچہ اس کے کئی عوامل ہیں لیکن اصل مسئلہ پارٹی کی پالیسیوں کا ہوتا ہے، اس حوالے سے حکومت کی پچھلی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سوائے تاسف کے کچھ نہیں ملتا۔ مراد علی شاہ نے تعلیم اورصحت کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں عوامی مسائل کا ادراک ہے لیکن ان شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ان مسائل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنے کے علاوہ اعلیٰ قسم کی ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے جو کسی حکومت کے بس کا روگ نہیں ہوتا بلکہ یہ کام ان تھنک ٹینکوں کا ہوتا ہے جو ہر شعبے کے ماہرین پر مشتمل ہوتے ہیں۔

مغربی ملکوں میں حکومتوں کوگائیڈ لائن فراہم کرنے کا کام تھنک ٹینک انجام دیتے ہیں لیکن پسماندہ ملکوں میں یہ بھاری ذمے داری سیاسی پارٹیوں کی نااہل اور مفاد پرست قیادت انجام دیتی ہے جس کا نتیجہ حکومتوں کی ناکامی اور بدنامی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ ہماری حکومت کی ناکامیوں اور بدنامیوں کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ برسراقتدار پارٹیوں کی قیادت یعنی دانشورانہ مشوروں کے پالیسیاں بناتی ہے چونکہ وڈیرہ شاہی ذہنیت ہماری سیاسی پارٹیوں کا مزاج بن گئی ہے اس لیے یہ امید کم ہی ہے کہ حکومت پالیسی سازی میں تھنک ٹینکوں اور ماہرین کی آرا کو اہمیت دے گی۔

اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ تعلیم کی ترقی ہی سے ہماری قوم کا مستقبل وابستہ ہے لیکن اس شعبے میں سر سے لے کر پیر تک جو خرابیاں اور بدعنوانیاں موجود ہیں ان پر قابو پانا آسان نہیں ہماری آبادی کا بڑا حصہ دیہات میں رہتا ہے ہمارا دیہی علاقہ وڈیروں کی گرفت میں ہے اور اس حقیقت بلکہ شرمناک حقیقت سے سب واقف ہیں کہ اقتدار اور سیاست پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے وڈیرہ شاہی تعلیم کی اتنی ہی دشمن ہے جتنے دشمن دہشت گرد ہیں ۔ دہشت گرد تعلیمی اداروں کو بموں سے اڑا کر تعلیمی اداروں میں معصوم اور بے گناہ بچوں کا قتل عام کرکے عوام کو تعلیم سے محروم کر رہے ہیں اور وڈیرہ شاہی تعلیمی اداروں کو مویشیوں کے باڑے اور کاروباری ادارے بناکر عوام کو تعلیم سے محروم کر رہے ہیں، اگر تعلیم کے شعبے میں ترقی کرنا ہو تو تعلیمی اداروں پر سے وڈیروں کی بالادستی کو ختم کرنا ہوگا۔

ہمارا دہرا نظام تعلیم تعلیمی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اگر اس شعبے میں بہتری لانا ہو تو دہرے نظام تعلیم کو ختم کرکے ہر شہری کے لیے حصول علم کے مساوی مواقعے پیدا کرنا اور میرٹ کو ترجیح دینا ہوگا۔ ہمارا نصاب تعلیم انتہائی فرسودہ ہے، نصاب تعلیم سے قصے کہانیوں کو نکال کر سائنس تحقیق ٹیکنالوجی اور جدید علوم کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔ شعبہ صحت میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد ایک تنازعہ کھڑا کردیا گیا ہے۔ صحت کے شعبے کو صوبائی عملداری میں آنا چاہیے لیکن صوبائی حکومت کو تعصبات اور امتیازات سے بالاتر ہوکر عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنا اور عملے کو صرف اور صرف میرٹ پر منتخب کرنا ہوگا۔ تمام سرکاری اسپتالوں میں ہر شعبے کے ماہرین کی ضرورت کے مطابق تعیناتی اور ہر ٹاؤن میں ایک جدید لیبارٹری کا قیام اولین ترجیح ہونا چاہیے ویسے تو تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اب محض اصلاحات سے کام نہیں چل سکتا بلکہ انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ کیا ہمارے نئے وزیر اعلیٰ یہ کام کر پائیں گے؟
Load Next Story