عوام کی شرکت کے بغیر

کراچی میں ایک بار پھر دہشت گردی کی دلیرانہ وارداتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

NOTTINGHAM:
کراچی میں ایک بار پھر دہشت گردی کی دلیرانہ وارداتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، پچھلے دنوں صدر میں پارکنگ پلازہ کے قریب ایک فوجی گاڑی پر حملہ کیا گیا جس میں دوفوجی اہلکار جاں بحق ہوگئے فوجی گاڑیوں پر یہ دوسرا حملہ تھا۔ رینجرزکی گاڑیوں پر حملوں کے بعد فوجی گاڑیوں پر حملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد اب کس قدر بے خوف ہوگئے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ کا اصل مقصد کیا ہے؟ کسی بھی ادارے کے ایک دو افراد کی ہلاکت سے ادارے ختم ہوجاتے ہیں نہ اس کی کارکردگی پرکوئی اثر پڑسکتا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیکیورٹی فورسز میں بددلی اور خوف وہراس پیدا ہوجاتا ہے دوسری طرف عوام بھی ان کارروائیوں سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور یہی دہشت گردوں کا مقصد معلوم ہوتا ہے۔ کراچی سیکڑوں میلوں پر پھیلا ہوا ایسا گنجان شہر ہے جہاں دوکروڑ کے لگ بھگ انسان رہائش پذیر ہیں اتنے بڑے اور پھیلے ہوئے شہر میں ہر جگہ احتیاطی اور حفاظتی اقدام کرنا ممکن نہیں اور اسی کمزوری سے دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اس حوالے سے عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ پال نے دو اہم باتیں کی ہیں۔ ایک بات یہ کی ہے کہ دہشت گردی میں اسلام کو ملوث کرنا بڑی غلطی ہے کیونکہ مسلمانوں ہی میں نہیں ہر مذہب میں مذہبی انتہا پسند موجود ہیں اور یہی مذہبی انتہا پسندی دہشت گردی میں بدل جاتی ہے۔ دوسری بات جو پوپ پال نے کہی ہے وہ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ پوپ پال نے کہا ہے کہ ''اب نوجوانوں کو دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے'' پوپ پال کی نوجوانوں سے یہ اپیل اس لیے اہم اور بامعنی ہے کہ دہشت گردی چند علاقوں میں نہیں ہو رہی ہے بلکہ گلی گلی تک پھیل گئی ہے اورگلی گلی تک سیکیورٹی فورسزکی رسائی آسان نہیں۔

مذہبی انتہا پسندی ہرچند کہ جہل کی پیداوار ہے لیکن جس منصوبہ بندی جس نظم وضبط کے ساتھ یہ کام کیا جا رہا ہے وہ جہلا کا کام نہیں ہوسکتا بلکہ اس کام میں بے انتہا ذہین اور باعلم لوگ شامل نظر آتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ مشرق و مغرب میں اہل علم اہل فکر بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن اس مسئلے کے فکری اور نفسیاتی پہلوؤں کو سامنے رکھ کرکوئی ایسی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی ہے، جو اس بلائے بے درماں کو روکنے میں کامیاب ہوسکے ۔


اس کے خلاف صرف اورصرف طاقت پر انحصارکیا جا رہا ہے اور طاقت خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو گوریلا جنگ کے سامنے بے دست و پا ہوکر رہ جاتی ہے، جس کا نتیجہ مغربی ملکوں نے ویت نام میں دیکھ لیا ہے۔ عراق میں بھی یہ تلخ تجربہ کیا جاچکا ہے اور افغانستان میں دس سالوں سے یہ ناکام تجربہ کیا جا رہا ہے۔ آج افغانستان آگ اورخون کے دریا میں اسی لیے نہایا نظر آتا ہے کہ یہاں مسائل کا حل صرف طاقت کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وہ بھی فوجی طاقت کے ذریعے جب کہ دہشت گردی کی گوریلا جنگ بستیوں، محلوں، گلیوں میں لڑی جارہی ہے اس پر تماشا یہ ہے کہ اس جنگ میں بھی سیاسی مفادات شامل ہیں جن کا مشاہدہ یمن، عراق اور شام میں کیا جاسکتا ہے اگر بڑی طاقتیں اس نظریاتی جنگ میں بھی سیاسی مفادات کو اولیت دیتی رہیں تو شکست ان کا مقدر ہوگی۔ یہ جنگ چونکہ عوامی بستیوں، گلی محلوں میں لڑی جا رہی ہے لہٰذا اس جنگ میں محض سیکیورٹی فورسز پر تکیہ کرنا حماقت کے علاوہ کچھ نہیں جب تک عوام کو اس جنگ میں شامل نہیں کیا جاتا نہ یہ جنگ لڑی جاسکتی ہے نہ یہ جنگ جیتی جاسکتی ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اب یہ مسئلہ نہ علاقائی رہا ہے نہ ایک یا چند ملکوں کا رہا ہے۔ یہ مسئلہ اب عالمی مسئلہ بن گیا ہے مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں سمیت ایشیا اورافریقہ کے پسماندہ ملک بھی دہشت گردی کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ پوپ پال کی اپیل کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ہمارے چیف آف اسٹاف جنرل راحیل شریف نے چترال میں ہونے والے شندورپولو فیسٹیول کے منتظمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں پر ملکی سرزمین تنگ ہوچکی ہے۔

شندور فیسٹیول دہشت گردوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ہمارا وطن تعلیم، ترقی، امن اورسلامتی کی پہچان بنے گا۔ ضرب عضب اسی جذبے کا تسلسل ہے۔'' جنرل راحیل کے خیالات حقیقت پسندانہ ہیں، شمالی وزیرستان دہشت گردی سے نجات حاصل کرچکا ہے دہشت گرد شمالی وزیرستان سے افغانستان منتقل ہوچکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں، کراچی چونکہ سیکڑوں میلوں پر پھیلا ہوا ایک بہت بڑا شہر ہے اسی لیے اس شہر میں پناہ لینا اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا آسان اہداف ہیں۔

اس حوالے سے سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ بلائنڈ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کا شکار معصوم اور بے گناہ شہری بن رہے ہیں کسی بھی گروہ یا جماعت کو اپنے نظریات کے پرچارکا حق ہے لیکن اس پرچار کو قانون اخلاق کے دائرے میں رہنا چاہیے اور پرامن ہونا چاہیے اور بدقسمتی یہ ہے کہ اسلام کی سربلندی کے نام پر جس دہشت گردی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس کا شکار غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہو رہے ہیں جن کا نہ مذہبی فرقہ بندیوں سے کوئی تعلق ہے نہ سیاست سے۔
Load Next Story