ایک ہفتے میں دوسرا ڈرون حملہ
پاکستان ڈرون حملوں پر امریکا سے احتجاج کرتا رہتا ہے لیکن یہ ڈرون حملے مسلسل جاری ہیں.
ہفتے کو ہونے والے ڈرون حملے میں جس القاعدہ رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے. فوٹو: فائل
پاکستان کی قبائلی ایجنسی جنوبی وزیرستان میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہفتے کو دوسرا ڈرون حملہ ہوا ہے جس میں ہلاک و زخمی ہونے والے چار افراد میں ایک کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھا۔ یمن سے تعلق رکھنے والے اس مبینہ القاعدہ رکن کا نام عبدالرحمٰن یمنی بتایا گیا ہے تاہم اس کی سرکاری ذرایع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
بتایا گیا ہے کہ امریکی جاسوس طیارے نے جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا سے 12 کلومیٹر دور شین ورسک کے گائوں غواخوا میں واقع ایک مکان اور گاڑی پر 3 میزائل داغے جس کے نتیجے میں 4 افراد مارے گئے اور 3 زخمی ہوئے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جس علاقے میں یہ ڈرون حملہ ہوا ہے یہ ملا نذیر کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ملا نذیر جمعرات کو وانا میں خودکش حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔
غیر ملکی خبر رساں ذرایع کے مطابق ہفتے کو ہونے والے ڈرون حملے میں جس القاعدہ رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے' اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ 9 سال سے وانا میں مقیم تھا تاہم اس نے 3 ماہ قبل ہی شین ورسک میں رہائش اختیار کی تھی۔ ابھی تک طالبان نے عبدالرحمن یمنی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے نہ ہی القاعدہ کے کسی ذریعے نے اس حوالے سے کوئی ذکر کیا ہے۔ امریکا کے سرکاری حکام نے بھی اس بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا۔ یوں فی الحال اس حوالے سے سو فیصد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہفتے کو جو ڈرون حملہ ہوا اس میں القاعدہ کا رہنما عبدالرحمن یمنی ہی ہلاک ہوا۔
بہر حال یہ واضح ہے کہ اس ڈرون حملے میں کوئی نہ کوئی اہم آدمی مارا گیا ہے۔ 2 روز قبل بھی اسی علاقے میں ہونے والے ڈرون حملے میں 3 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے تھے۔ اس ڈرون حملے میں کسی ہائی ویلیو ٹارگٹ کے مارے جانے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ویسے بھی جن علاقوں میں ڈرون حملے ہو رہے ہیں وہاں سے مصدقہ اطلاعات موصول ہونا خاصا مشکل کام ہے۔ کئی دن گزرنے کے بعد حقیقت بہر حال پتہ چل جاتی ہے۔ اس طرح عبدالرحمن یمنی کی موت کی تصدیق بھی ایک آدھ روز میں ہو جائے گی۔
پاکستان ڈرون حملوں پر امریکا سے احتجاج کرتا رہتا ہے لیکن یہ ڈرون حملے مسلسل جاری ہیں۔ امریکا میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات میں اوباما اور ان کے حریف رومنی دونوں نے ڈرون حملوں کے حق میں بیانات دیے تھے۔ اب اوباما دوبارہ صدر بن گئے ہیں لہٰذا ڈرون حملوں کے حوالے سے ان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ادھر یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ ڈرون حملوں میں کئی اہم القاعدہ اور طالبان لیڈر مارے جا چکے ہیں۔ پاکستان کا ڈرون حملوں کے بارے میں موقف یہ ہے کہ یہ پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ قبائلی بھی مارے جا رہے ہیں۔ جس کے ردعمل میں پاکستان میں حالات خراب ہوتے ہیں۔
پاکستان کا موقف اصولی ہے لیکن اس بارے میں پاکستان کو کوئی واضح لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اتحادی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اگر القاعدہ اور طالبان کے لوگ موجود ہیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ پاکستان کی فوج اس حوالے سے آپریشن کر بھی رہی ہے۔ امریکا کو پاکستان کی مشکلات اور مسائل کا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے رشتے مضبوط ہوں اور باہمی انٹیلی جنس کا تبادلہ موجود ہو تو پاکستان خود بھی القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ اس قسم کی کارروائی کے نتائج زیادہ بہتر ہوں گے اور پاکستان کی مشکلات بھی کم ہوں گی۔
رواں سال فاٹا میں یہ 40 واں ڈرون حملہ ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ امریکا کو اس معاملے کا فوری حل تلاش کرنا ہو گا۔ جنوبی وزیرستان کے بڑے حصے میں امن قائم ہے اور وہاں پاک فوج موجود ہے لیکن ملا نذیر پر حملے کے بعد صورت حال نے نیا رخ اختیار کیا ہے۔ احمد زئی وزیر قبائل نے اپنے علاقے میں موجود محسود قبائل پر امن خراب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں 5 دسمبر تک اپنے علاقوں سے نکل جانے کا الٹی میٹم دے دیا ہے، اس بات کا فیصلہ ہفتہ کو وانا میں وزیر قبائل کے جرگے میں کیا گیا جس میں گذشتہ دنوں خود کش حملے میں زخمی ہونے والے طالبان کمانڈر ملا نذیر نے بھی شرکت کی۔
اخباری اطلاعات کے مطابق جرگہ میں 2007ء میں قائم ہونے والی احمد زئی وزیر امن کمیٹی کے ارکان کے ساتھ 9 قبیلوں کے سرکردہ عمائدین نے بھی شرکت کی، جرگے نے احمد زئی قبائل کی حدود تحصیل برمل، تحصیل شکئی، تحصیل توئی خلد اور تحصیل وانا میں مقیم محسود قبائل کو 5 دسمبر سے قبل علاقہ چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا۔ جرگہ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ محسود قبائل کو پناہ دینے والے شخص کو 10 لاکھ روپے جرمانہ، مکان مسمار اور علاقہ بدر کیا جائے گا، جرگے نے حکومت سے بھی کہا ہے کہ وہ سرکاری زمین یا عمارات میں مقیم محسود قبائل کو ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل علاقے سے نکل جانے کا کہے، وزیر قبائل اور مقامی انتظامیہ نے ملا نذیر پر ہونیوالے حملے میں محسود قبائل کے ارکان کے ملوث ہونیکا امکان ظاہر کیا ہے۔
واضح رہے 2010ء کے بعد سے 20 ہزار سے زائد آئی ڈی پیز اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ اب بیدخلی کے حکم سے اتنی بڑی تعداد میں بے گھر لوگ کہاں جائیں گے، اس کے بارے میں فوری طور پر علم نہیں ہو سکا۔ ملا نذیر کا شمالی وزیرستان میں سرگرم حافظ گل بہادر گروپ اور شوریٰ اتحاد المجاہدین سے قریبی تعلق ہے اور انھیں پاکستان کے حامی طالبان میں شمار کیا جاتا ہے۔ 2008 ء میں وانا میں ان کی سربراہی میں وزیر قبیلے نے سیکیورٹی فورسز کی معاونت سے وہاں موجود ازبک جنگجوئوں کے خلاف آپریشن کیا تھا جس کے بعد حکومت اور طالبان کا امن معاہدہ عمل میں آیا تھا۔ سرکاری حکام نے جرگہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قوم احمد زئی کو اس صورتحال میں کوئی مشکلات درپیش ہوں گی تو حکومت ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
یوں دیکھا جائے تو وانا کے ارد گرد کے علاقوں میں ماحول خاصا خراب ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محسود قبائل محب وطن ہیں اور امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قبائلی علاقوں میں شرپسند موجود ہیں۔ وہ سادہ لوح اور معصوم قبائلیوں کی آڑ میں شرارت کرتے ہیں اور خود غائب ہو جاتے ہیں اور اس کا خمیازہ عام قبائلیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ملا نذیر پر حملہ بھی اسی قسم کی شرارت ہے۔ قبائلیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے شرپسندوں پر کڑی نگرانی رکھیں اور ان کی سرگرمیوں کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ پاکستان کو ایک جانب اندرونی مسائل کا سامنا ہے اور دوسری جانب افغانستان میں موجود شرپسندوں کا۔ اگر قبائلی ایجنسیوں سے شرپسندوں کا صفایا ہو جاتا ہے تو ڈرون حملے خود بخود ہی ختم ہو سکتے ہیں۔
احمد زئی وزیر قبائل کے جرگے میں محسود قبائلیوں کو وہاں سے نکل جانے کا جو حکم دیا گیا ہے اس حوالے سے یہ ضرور مد نظر رکھا جائے کہ جو لوگ بے گناہ ہیں' انھیں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایک یا دو بندوں کی سزا ہزاروں افراد کو نہیں ملنی چاہیے۔ اگر انٹیلی جنس کا نظام درست ہو تو احمد زئی وزیر علاقوں میں موجود شرپسندوں کو گرفتار کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ بہر حال قبائلی جرگہ کا فیصلہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے تاہم اس حقیقت کو ضرور مد نظر رکھا جائے کہ ایسے اقدام اٹھائے جائیں جس سے بے گناہ افراد کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور قبائلی علاقے کے حالات بہتر ہوں۔
بتایا گیا ہے کہ امریکی جاسوس طیارے نے جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا سے 12 کلومیٹر دور شین ورسک کے گائوں غواخوا میں واقع ایک مکان اور گاڑی پر 3 میزائل داغے جس کے نتیجے میں 4 افراد مارے گئے اور 3 زخمی ہوئے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جس علاقے میں یہ ڈرون حملہ ہوا ہے یہ ملا نذیر کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ملا نذیر جمعرات کو وانا میں خودکش حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔
غیر ملکی خبر رساں ذرایع کے مطابق ہفتے کو ہونے والے ڈرون حملے میں جس القاعدہ رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے' اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ 9 سال سے وانا میں مقیم تھا تاہم اس نے 3 ماہ قبل ہی شین ورسک میں رہائش اختیار کی تھی۔ ابھی تک طالبان نے عبدالرحمن یمنی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے نہ ہی القاعدہ کے کسی ذریعے نے اس حوالے سے کوئی ذکر کیا ہے۔ امریکا کے سرکاری حکام نے بھی اس بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا۔ یوں فی الحال اس حوالے سے سو فیصد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہفتے کو جو ڈرون حملہ ہوا اس میں القاعدہ کا رہنما عبدالرحمن یمنی ہی ہلاک ہوا۔
بہر حال یہ واضح ہے کہ اس ڈرون حملے میں کوئی نہ کوئی اہم آدمی مارا گیا ہے۔ 2 روز قبل بھی اسی علاقے میں ہونے والے ڈرون حملے میں 3 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے تھے۔ اس ڈرون حملے میں کسی ہائی ویلیو ٹارگٹ کے مارے جانے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ویسے بھی جن علاقوں میں ڈرون حملے ہو رہے ہیں وہاں سے مصدقہ اطلاعات موصول ہونا خاصا مشکل کام ہے۔ کئی دن گزرنے کے بعد حقیقت بہر حال پتہ چل جاتی ہے۔ اس طرح عبدالرحمن یمنی کی موت کی تصدیق بھی ایک آدھ روز میں ہو جائے گی۔
پاکستان ڈرون حملوں پر امریکا سے احتجاج کرتا رہتا ہے لیکن یہ ڈرون حملے مسلسل جاری ہیں۔ امریکا میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات میں اوباما اور ان کے حریف رومنی دونوں نے ڈرون حملوں کے حق میں بیانات دیے تھے۔ اب اوباما دوبارہ صدر بن گئے ہیں لہٰذا ڈرون حملوں کے حوالے سے ان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ادھر یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ ڈرون حملوں میں کئی اہم القاعدہ اور طالبان لیڈر مارے جا چکے ہیں۔ پاکستان کا ڈرون حملوں کے بارے میں موقف یہ ہے کہ یہ پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ قبائلی بھی مارے جا رہے ہیں۔ جس کے ردعمل میں پاکستان میں حالات خراب ہوتے ہیں۔
پاکستان کا موقف اصولی ہے لیکن اس بارے میں پاکستان کو کوئی واضح لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اتحادی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اگر القاعدہ اور طالبان کے لوگ موجود ہیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ پاکستان کی فوج اس حوالے سے آپریشن کر بھی رہی ہے۔ امریکا کو پاکستان کی مشکلات اور مسائل کا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے رشتے مضبوط ہوں اور باہمی انٹیلی جنس کا تبادلہ موجود ہو تو پاکستان خود بھی القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ اس قسم کی کارروائی کے نتائج زیادہ بہتر ہوں گے اور پاکستان کی مشکلات بھی کم ہوں گی۔
رواں سال فاٹا میں یہ 40 واں ڈرون حملہ ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ امریکا کو اس معاملے کا فوری حل تلاش کرنا ہو گا۔ جنوبی وزیرستان کے بڑے حصے میں امن قائم ہے اور وہاں پاک فوج موجود ہے لیکن ملا نذیر پر حملے کے بعد صورت حال نے نیا رخ اختیار کیا ہے۔ احمد زئی وزیر قبائل نے اپنے علاقے میں موجود محسود قبائل پر امن خراب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں 5 دسمبر تک اپنے علاقوں سے نکل جانے کا الٹی میٹم دے دیا ہے، اس بات کا فیصلہ ہفتہ کو وانا میں وزیر قبائل کے جرگے میں کیا گیا جس میں گذشتہ دنوں خود کش حملے میں زخمی ہونے والے طالبان کمانڈر ملا نذیر نے بھی شرکت کی۔
اخباری اطلاعات کے مطابق جرگہ میں 2007ء میں قائم ہونے والی احمد زئی وزیر امن کمیٹی کے ارکان کے ساتھ 9 قبیلوں کے سرکردہ عمائدین نے بھی شرکت کی، جرگے نے احمد زئی قبائل کی حدود تحصیل برمل، تحصیل شکئی، تحصیل توئی خلد اور تحصیل وانا میں مقیم محسود قبائل کو 5 دسمبر سے قبل علاقہ چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا۔ جرگہ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ محسود قبائل کو پناہ دینے والے شخص کو 10 لاکھ روپے جرمانہ، مکان مسمار اور علاقہ بدر کیا جائے گا، جرگے نے حکومت سے بھی کہا ہے کہ وہ سرکاری زمین یا عمارات میں مقیم محسود قبائل کو ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل علاقے سے نکل جانے کا کہے، وزیر قبائل اور مقامی انتظامیہ نے ملا نذیر پر ہونیوالے حملے میں محسود قبائل کے ارکان کے ملوث ہونیکا امکان ظاہر کیا ہے۔
واضح رہے 2010ء کے بعد سے 20 ہزار سے زائد آئی ڈی پیز اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ اب بیدخلی کے حکم سے اتنی بڑی تعداد میں بے گھر لوگ کہاں جائیں گے، اس کے بارے میں فوری طور پر علم نہیں ہو سکا۔ ملا نذیر کا شمالی وزیرستان میں سرگرم حافظ گل بہادر گروپ اور شوریٰ اتحاد المجاہدین سے قریبی تعلق ہے اور انھیں پاکستان کے حامی طالبان میں شمار کیا جاتا ہے۔ 2008 ء میں وانا میں ان کی سربراہی میں وزیر قبیلے نے سیکیورٹی فورسز کی معاونت سے وہاں موجود ازبک جنگجوئوں کے خلاف آپریشن کیا تھا جس کے بعد حکومت اور طالبان کا امن معاہدہ عمل میں آیا تھا۔ سرکاری حکام نے جرگہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قوم احمد زئی کو اس صورتحال میں کوئی مشکلات درپیش ہوں گی تو حکومت ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
یوں دیکھا جائے تو وانا کے ارد گرد کے علاقوں میں ماحول خاصا خراب ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محسود قبائل محب وطن ہیں اور امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قبائلی علاقوں میں شرپسند موجود ہیں۔ وہ سادہ لوح اور معصوم قبائلیوں کی آڑ میں شرارت کرتے ہیں اور خود غائب ہو جاتے ہیں اور اس کا خمیازہ عام قبائلیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ملا نذیر پر حملہ بھی اسی قسم کی شرارت ہے۔ قبائلیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے شرپسندوں پر کڑی نگرانی رکھیں اور ان کی سرگرمیوں کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ پاکستان کو ایک جانب اندرونی مسائل کا سامنا ہے اور دوسری جانب افغانستان میں موجود شرپسندوں کا۔ اگر قبائلی ایجنسیوں سے شرپسندوں کا صفایا ہو جاتا ہے تو ڈرون حملے خود بخود ہی ختم ہو سکتے ہیں۔
احمد زئی وزیر قبائل کے جرگے میں محسود قبائلیوں کو وہاں سے نکل جانے کا جو حکم دیا گیا ہے اس حوالے سے یہ ضرور مد نظر رکھا جائے کہ جو لوگ بے گناہ ہیں' انھیں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایک یا دو بندوں کی سزا ہزاروں افراد کو نہیں ملنی چاہیے۔ اگر انٹیلی جنس کا نظام درست ہو تو احمد زئی وزیر علاقوں میں موجود شرپسندوں کو گرفتار کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ بہر حال قبائلی جرگہ کا فیصلہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے تاہم اس حقیقت کو ضرور مد نظر رکھا جائے کہ ایسے اقدام اٹھائے جائیں جس سے بے گناہ افراد کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور قبائلی علاقے کے حالات بہتر ہوں۔