گیس کی قیمتوں میں اضافہ
سردی شروع ہوتے ہی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی ’’خوشخبری‘‘ آ گئی ہے .
گیس کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری 2013ء سے ہو گا، فوٹو : فائل
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کمپنیوں کی درخواست پر گیس کی قیمتوں میں 31روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک اضافے کی منظوری دیتے ہوئے سمری حتمی منظوری کے لیے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کو بھجوا دی ہے۔ اس وقت عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے پہلے ہی سسک رہے ہیں۔
غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد روز افزوں ہے۔ پٹرول اور اس کی مصنوعات کی مہنگی قیمتوں نے ایک طوفان برپا کر رکھا ہے اب سردی شروع ہوتے ہی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی ''خوشخبری'' آ گئی ہے۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل نے ''عوامی فلاح اور غریب مکائو پروگرام'' کے اس عظیم منصوبے کی منظوری دے دی تو اس کا اطلاق یکم جنوری 2013ء سے ہو گا۔ موسم سرما میں ایک جانب گیس کی طلب میں بے پایاں اضافہ ہو جاتا ہے تو دوسری جانب گیس کی لوڈشیڈنگ بھی خم ٹھونک کر میدان میں اتر آتی ہے۔
موسم گرما میں عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ تو موسم سرما میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر احتجاج' پتھرائو اور جلائو گھیرائو کرتے نظر آتے ہیں۔ اب نیا سال شروع ہوتے ہی عوامی حکومت اپنی عوام کو پہلا تحفہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں دے گی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ملک میں گیس کے موجودہ زیر استعمال ذخائر میں تیزی سے کمی آ رہی ہے اور اگر اس صورتحال کا تسلسل یونہی جاری رہا تو آیندہ چند سالوں میں پاکستان کو گیس کی قلت کا شدید سامنا کرنا پڑے گا۔
خواب خرگوش میں سوئے ہوئے اور چین کی بانسری بجاتے ہوئے ارباب اقتدار سے ملتمس ہیں کہ وہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے اس کے ذخائر کی تلاش اور ایران سے گیس پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل کی جانب متوجہ ہوں تو مستقبل میں پاکستان گیس کے بحران سے بچ سکتا ہے۔ ورنہ ہر سال قیمتوں میں یونہی اضافہ ہوتا رہا تو ترقی کی جانب جانے والا ہر راستہ مسدود ہو جائے گا۔
غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد روز افزوں ہے۔ پٹرول اور اس کی مصنوعات کی مہنگی قیمتوں نے ایک طوفان برپا کر رکھا ہے اب سردی شروع ہوتے ہی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی ''خوشخبری'' آ گئی ہے۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل نے ''عوامی فلاح اور غریب مکائو پروگرام'' کے اس عظیم منصوبے کی منظوری دے دی تو اس کا اطلاق یکم جنوری 2013ء سے ہو گا۔ موسم سرما میں ایک جانب گیس کی طلب میں بے پایاں اضافہ ہو جاتا ہے تو دوسری جانب گیس کی لوڈشیڈنگ بھی خم ٹھونک کر میدان میں اتر آتی ہے۔
موسم گرما میں عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ تو موسم سرما میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر احتجاج' پتھرائو اور جلائو گھیرائو کرتے نظر آتے ہیں۔ اب نیا سال شروع ہوتے ہی عوامی حکومت اپنی عوام کو پہلا تحفہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں دے گی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ملک میں گیس کے موجودہ زیر استعمال ذخائر میں تیزی سے کمی آ رہی ہے اور اگر اس صورتحال کا تسلسل یونہی جاری رہا تو آیندہ چند سالوں میں پاکستان کو گیس کی قلت کا شدید سامنا کرنا پڑے گا۔
خواب خرگوش میں سوئے ہوئے اور چین کی بانسری بجاتے ہوئے ارباب اقتدار سے ملتمس ہیں کہ وہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے اس کے ذخائر کی تلاش اور ایران سے گیس پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل کی جانب متوجہ ہوں تو مستقبل میں پاکستان گیس کے بحران سے بچ سکتا ہے۔ ورنہ ہر سال قیمتوں میں یونہی اضافہ ہوتا رہا تو ترقی کی جانب جانے والا ہر راستہ مسدود ہو جائے گا۔