آزادی جمہوریت اور موروثیت
ہم تو یہی دعا کریں گے اور دل سے کریں گے کہ ہلیری کلنٹن امریکا کی صدر بن جائے،
barq@email.com
ہم تو یہی دعا کریں گے اور دل سے کریں گے کہ ہلیری کلنٹن امریکا کی صدر بن جائے، یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ امریکا والے اسے کس نام سے پکاریں گے اور اس کے شوہر کو کیا نام دیں گے کیونکہ خاتون اول تو خود ہلیری ہو جائے گی خیر یہ امریکا والے جانیں اور ان کے خاتون و مرد اول جانیں ہمارے لیے تو یہی کافی ہے کہ سیاست میں کچھ ''رونق شونق'' ہو جائے گی۔
خبریں زیادہ دل چسپی سے پڑھی جائیں گی اور وہ خاص قسم کے ''انہماک والی خواتین'' کے فوٹو گرافر بھی کچھ کر دکھائیں گے لیکن سب سے زیادہ چین ہمارے کلیجے میں یہ پڑ جائے گا کہ یہ امریکی لوگ خود کو تو اتنی بڑی ترقی یافتہ قوم کہتے ہیں لیکن اب تک انھوں نے کبھی کسی خاتون کو سربراہ نہیں چنا، اس مرتبہ بھی شائد ... کیونکہ ان کمبختوں کو ''رونق شونق'' سے زیادہ اپنے مفادات کی فکر رہتی ہے اس لیے خطرہ ہے کہ کہیں قرعہ فال اس بدصورت، بدہیت اور بدعزم ٹرمپ پر نہ پڑ جائے لیکن ہم تو یہی دعا کریں گے کہ رونق شونق کی کوئی صورت نکل آئے کیونکہ ایک مدت سے ہم سوکھے ساکھے بیٹھے ہوئے ہیں اس قتالہ عالم آبنوسی حسینہ کنڈولیزا رائس کے بعد گویا آنکھیں ''ترستیاں'' ہیں کہ کوئی قابل دید چہرہ دیکھنے کو ملے۔
وہ بعض ممالک میں کچھ خواتین سربراہ ہیں لیکن ان کو دیکھنے سے اچھا ہے آدمی ایان علی اور میرا کی کوئی خبر دیکھ لے، وہ من میں ایک چھوٹا سا لڈو کچھ عرصہ پہلے پھوٹا تھا کیا نام تھا اس جان بہار کا ... ہاں وہ ''ینگ لک سیناوترا'' جب نام ہی ینگ لک تھا تو ... لفظ کسی بھی زبان کا ہو ہم اسے انگریزی کا سمجھیں گے ہماری سمجھ پر کسی کا اجارہ تو نہیں، لیکن ظالم بنکاک والوں سے خدا سمجھے اور خدا کرے سارے تھائی لینڈ کے ہاتھی ان کا مساج کریں کہ انھوں نے اس بے چاری کو پوری طرح جلوہ گر ہونے ہی نہیں دیا
حیف در چشم زدں صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدم و بہار آخر شد
ویسے یہ امریکا والے غریب تو نہیں لیکن عجیب بلکہ عجوبہ لوگ ہیں عقل کے بھی پورے ہیں اور گانٹھ کے بھی پکے ہیں جو چیز ان کو پسند ہوتی ہے اسے اپنے ہاں رکھ لیتے ہیں اور ایسا رکھ لیتے ہیں کہ کسی اور کو اس کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتے، جیسے جمہوریت،انسانی حقوق، عدل و انصاف، آزادی رائے وغیرہ... کافی عرصہ پہلے ہمارے علاقے میں ایک حلوائی کے پاس کسی خاص نسل کی مرغیاں تھیں لوگ چاہتے تھے کہ وہ انھیں بھی انڈے دیں تا کہ وہ بھی یہ نسل پال لیں، وہ انڈے فروخت تو کر دیتا تھا لیکن ان سے کسی اور کے ہاں بالکل چوزے نہیں نکلتے تھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ فروخت کرنے سے پہلے ہر انڈے کو ''گرم توے'' پر تھوڑی دیر رکھ لیتا جس سے اس کی تولیدی صلاحیت ختم ہو جاتی تھی... امریکا بھی اگر کوئی چیز اپنے ''دوست'' ممالک کو دیتا ہے تو اسی طرح اس میں کوئی نہ کوئی مینگنی ڈال دیتا ہے کیونکہ اس کے بارے میں شاعروں نے بہت کچھ کہا ہوا ہے کہ ؎ تو دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا یا
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
اور دوسری استادی یہ دیکھ لیں کہ جو چیز ان امریکیوں کو ناپسند ہوتی ہے اور ان کے خیال میں نقصان دہ ہوتی ہے وہ اپنے ''دوستوں'' کو تحفے میں دیتے رہتے ہیں بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ناپسندیدہ چیز ''دوستوں'' کے ہاں خوب پھلے پھولے، جیسے کرکٹ کو لے لیں، دنیا بھر میں اس کے سب سے بڑے فنانسر امریکی ہی ہوتے ہیں چنانچہ ان کے دوستوں کے ہاں کرکٹ کو مذہب کے درجے تک پہنچایا گیا لیکن اپنے ہاں بدستور اسے گھسنے نہیں دے رہا ہے۔
اسی طرح جمہوریت کو لے لیں، جو ان کا پسندیدہ اور اصلی ہے اسے تو اپنے ہاں رکھے ہوئے ہیں لیکن دوستوں کو جب دیتے ہیں تو ''توے پر داغ'' دے کر ہی دیتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پھر خاص طور پر ''دوستوں'' کے ہاں جمہوریت کے عجیب الخلفت چوزے پیدا ہو رہے ہیں خود ہمارے اپنے خدا داد مملکت پاکستان میں جمہوریت کے جتنے عجیب الخلفت چوزے جنم لے چکے ہیں اتنی ساری دنیا میں نہیں ہو گی یہ خواتین سربراہوں کا قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے ڈالروں کو سرکاری نل کی طرح بہا رہا ہے لیکن اپنے ہاں ''خاتون سربراہ'' کو آج تک بنایا ذرا حساب لگا کر دیکھیے جارج واشنگٹن سے لے کر اوباما تک مرد ہی مرد سربراہ چلے آ رہے ہیں اب کے شاید شرما شرمی میں ایک عورت کو نامزدگی کا شرف تو عطا کر دیا لیکن امریکی ذہنیت پر ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ خواتین کے حقوق کے معاملے میں یہ حسب سابق ڈنڈی ماریں گے اور صرف دوستوں تک خواتین کے حقوق کی علمبرداری کرتا رہے گا۔
ویسے جہاں جہاں اب تک خواتین کو سربراہی ملی ہے اس کے پیچھے ''ترقی یا آزادی'' کا کوئی جذبہ نہیں تھا کیوں کہ ترقی اور آزادی امریکا صرف اپنے ہاں رکھے ہوئے دوستوں کے لیے بالکل بھی پسند نہیں کرتے، ہمارے ہاں بھی جب محترمہ شہیدہ ممدوحہ مرحومہ بے نظیر وزیراعظم بن گئیں تو پاکستانی میڈیا نے اپنی نادیدہ اور غیر موجود مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے کہا ... دنیا کی پہلی مسلمان وزیراعظم ... خوش قسمتی یا کسی اور قسمتی کی وجہ سے موصوفہ اچھی خاصی قابل دید بھی تھیں اس لیے پاکستانی ساری دنیا میں اترائے ہوئے پھرتے تھے
قتل ہوں گے ترے ہاتھوں سے خوشی اس کی ہے
آج اترائے ہوئے پھرتے ہیں مرنے والے
فخر و انبساط کے جوش میں وہ ساری دنیا پر اپنی ترقی پسندی، روشن خیالی، جمہوریت اور نہ جانے کیا کیا کا اظہار کرتے رہے، یہ سب کچھ اسی امریکی ذہنیت کا کمال تھا ورنہ حقیقت میں یہ پاکستانیوں کی ترقی پسندی،آزادی جمہوریت یا ماڈرنائزیشن پر نہیں بلکہ جہالت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اصل میں یہ کوئی آزادی فکر یا ترقی نہیں بلکہ موروثیت کا شاخسانہ تھا، نہ صرف پاکستان بلکہ جہاں کہیں بھی خواتین سربراہ رہی ہیں یا ہیں وہ سب کی سب سیاست میں موروثیت کے باعث آئی ہیں ظاہر ہے کہ اتنی شدید موروثیت پسندی والے اگر جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ایسا ہی ہو گا جیسے کوا کو بگلا کہلوانے لگے۔
سری لنکا میں مسز بندرا نائیکے اس لیے وزیراعظم نہیں بنی تھیں کہ سری لنکا میں جمہوریت اور آزادی کے ڈنکے بلکہ اس وجہ سے کہ وہ اپنے مرحوم شوہر بندرا نائیکے کے کریڈٹ کارڈ پر تھی پھر اس کی بیٹی صدر بنی تو وہ بھی نہ اس کی اپنی کوئی خوبی تھی نہ جمہوریت پسندی نہ ترقی پسندی بلکہ موروثی سیاست کا کمال تھا، بھارت کی اندرا گاندھی بھی، اس کا بیٹا بھی اور اب شاید پوتا بھی اسی موروثی سیاست کا پھل ہوں گے۔
بنگلہ دیش میں تو باقاعدہ موروثی سیاست کا دوہرا سلسلہ چل رہا ہے جس ینگ لک شیناوترا کا ابھی ابھی ہم نے ذکر کیا ہے وہ بھی موروثی سیاست کا ایک مظاہرہ تھا، مطلب کہنے کا یہ ہے کہ جسے ہم جمہوریت اور پھر جمہوریت میں خواتین کا مقام سمجھ رہے ہیں وہ دراصل سیاست میں انتہائی زہریلا موروثی سیاست کا کمال تھا اور ہمارے اپنے ہاں کا تو کہنا ہی کیا ۔۔۔ سربراہی تو بہت درو کی چیز ہے ابھی بلدیاتی انتخابات میں بھی جمہوریت کا نام و نشان نہیں صرف مورثیت چل رہی ہے گویا جسے سمجھے تھے ''عورت'' وہ انناس نکلی۔
خبریں زیادہ دل چسپی سے پڑھی جائیں گی اور وہ خاص قسم کے ''انہماک والی خواتین'' کے فوٹو گرافر بھی کچھ کر دکھائیں گے لیکن سب سے زیادہ چین ہمارے کلیجے میں یہ پڑ جائے گا کہ یہ امریکی لوگ خود کو تو اتنی بڑی ترقی یافتہ قوم کہتے ہیں لیکن اب تک انھوں نے کبھی کسی خاتون کو سربراہ نہیں چنا، اس مرتبہ بھی شائد ... کیونکہ ان کمبختوں کو ''رونق شونق'' سے زیادہ اپنے مفادات کی فکر رہتی ہے اس لیے خطرہ ہے کہ کہیں قرعہ فال اس بدصورت، بدہیت اور بدعزم ٹرمپ پر نہ پڑ جائے لیکن ہم تو یہی دعا کریں گے کہ رونق شونق کی کوئی صورت نکل آئے کیونکہ ایک مدت سے ہم سوکھے ساکھے بیٹھے ہوئے ہیں اس قتالہ عالم آبنوسی حسینہ کنڈولیزا رائس کے بعد گویا آنکھیں ''ترستیاں'' ہیں کہ کوئی قابل دید چہرہ دیکھنے کو ملے۔
وہ بعض ممالک میں کچھ خواتین سربراہ ہیں لیکن ان کو دیکھنے سے اچھا ہے آدمی ایان علی اور میرا کی کوئی خبر دیکھ لے، وہ من میں ایک چھوٹا سا لڈو کچھ عرصہ پہلے پھوٹا تھا کیا نام تھا اس جان بہار کا ... ہاں وہ ''ینگ لک سیناوترا'' جب نام ہی ینگ لک تھا تو ... لفظ کسی بھی زبان کا ہو ہم اسے انگریزی کا سمجھیں گے ہماری سمجھ پر کسی کا اجارہ تو نہیں، لیکن ظالم بنکاک والوں سے خدا سمجھے اور خدا کرے سارے تھائی لینڈ کے ہاتھی ان کا مساج کریں کہ انھوں نے اس بے چاری کو پوری طرح جلوہ گر ہونے ہی نہیں دیا
حیف در چشم زدں صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدم و بہار آخر شد
ویسے یہ امریکا والے غریب تو نہیں لیکن عجیب بلکہ عجوبہ لوگ ہیں عقل کے بھی پورے ہیں اور گانٹھ کے بھی پکے ہیں جو چیز ان کو پسند ہوتی ہے اسے اپنے ہاں رکھ لیتے ہیں اور ایسا رکھ لیتے ہیں کہ کسی اور کو اس کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتے، جیسے جمہوریت،انسانی حقوق، عدل و انصاف، آزادی رائے وغیرہ... کافی عرصہ پہلے ہمارے علاقے میں ایک حلوائی کے پاس کسی خاص نسل کی مرغیاں تھیں لوگ چاہتے تھے کہ وہ انھیں بھی انڈے دیں تا کہ وہ بھی یہ نسل پال لیں، وہ انڈے فروخت تو کر دیتا تھا لیکن ان سے کسی اور کے ہاں بالکل چوزے نہیں نکلتے تھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ فروخت کرنے سے پہلے ہر انڈے کو ''گرم توے'' پر تھوڑی دیر رکھ لیتا جس سے اس کی تولیدی صلاحیت ختم ہو جاتی تھی... امریکا بھی اگر کوئی چیز اپنے ''دوست'' ممالک کو دیتا ہے تو اسی طرح اس میں کوئی نہ کوئی مینگنی ڈال دیتا ہے کیونکہ اس کے بارے میں شاعروں نے بہت کچھ کہا ہوا ہے کہ ؎ تو دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا یا
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
اور دوسری استادی یہ دیکھ لیں کہ جو چیز ان امریکیوں کو ناپسند ہوتی ہے اور ان کے خیال میں نقصان دہ ہوتی ہے وہ اپنے ''دوستوں'' کو تحفے میں دیتے رہتے ہیں بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ناپسندیدہ چیز ''دوستوں'' کے ہاں خوب پھلے پھولے، جیسے کرکٹ کو لے لیں، دنیا بھر میں اس کے سب سے بڑے فنانسر امریکی ہی ہوتے ہیں چنانچہ ان کے دوستوں کے ہاں کرکٹ کو مذہب کے درجے تک پہنچایا گیا لیکن اپنے ہاں بدستور اسے گھسنے نہیں دے رہا ہے۔
اسی طرح جمہوریت کو لے لیں، جو ان کا پسندیدہ اور اصلی ہے اسے تو اپنے ہاں رکھے ہوئے ہیں لیکن دوستوں کو جب دیتے ہیں تو ''توے پر داغ'' دے کر ہی دیتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پھر خاص طور پر ''دوستوں'' کے ہاں جمہوریت کے عجیب الخلفت چوزے پیدا ہو رہے ہیں خود ہمارے اپنے خدا داد مملکت پاکستان میں جمہوریت کے جتنے عجیب الخلفت چوزے جنم لے چکے ہیں اتنی ساری دنیا میں نہیں ہو گی یہ خواتین سربراہوں کا قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے ڈالروں کو سرکاری نل کی طرح بہا رہا ہے لیکن اپنے ہاں ''خاتون سربراہ'' کو آج تک بنایا ذرا حساب لگا کر دیکھیے جارج واشنگٹن سے لے کر اوباما تک مرد ہی مرد سربراہ چلے آ رہے ہیں اب کے شاید شرما شرمی میں ایک عورت کو نامزدگی کا شرف تو عطا کر دیا لیکن امریکی ذہنیت پر ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ خواتین کے حقوق کے معاملے میں یہ حسب سابق ڈنڈی ماریں گے اور صرف دوستوں تک خواتین کے حقوق کی علمبرداری کرتا رہے گا۔
ویسے جہاں جہاں اب تک خواتین کو سربراہی ملی ہے اس کے پیچھے ''ترقی یا آزادی'' کا کوئی جذبہ نہیں تھا کیوں کہ ترقی اور آزادی امریکا صرف اپنے ہاں رکھے ہوئے دوستوں کے لیے بالکل بھی پسند نہیں کرتے، ہمارے ہاں بھی جب محترمہ شہیدہ ممدوحہ مرحومہ بے نظیر وزیراعظم بن گئیں تو پاکستانی میڈیا نے اپنی نادیدہ اور غیر موجود مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے کہا ... دنیا کی پہلی مسلمان وزیراعظم ... خوش قسمتی یا کسی اور قسمتی کی وجہ سے موصوفہ اچھی خاصی قابل دید بھی تھیں اس لیے پاکستانی ساری دنیا میں اترائے ہوئے پھرتے تھے
قتل ہوں گے ترے ہاتھوں سے خوشی اس کی ہے
آج اترائے ہوئے پھرتے ہیں مرنے والے
فخر و انبساط کے جوش میں وہ ساری دنیا پر اپنی ترقی پسندی، روشن خیالی، جمہوریت اور نہ جانے کیا کیا کا اظہار کرتے رہے، یہ سب کچھ اسی امریکی ذہنیت کا کمال تھا ورنہ حقیقت میں یہ پاکستانیوں کی ترقی پسندی،آزادی جمہوریت یا ماڈرنائزیشن پر نہیں بلکہ جہالت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اصل میں یہ کوئی آزادی فکر یا ترقی نہیں بلکہ موروثیت کا شاخسانہ تھا، نہ صرف پاکستان بلکہ جہاں کہیں بھی خواتین سربراہ رہی ہیں یا ہیں وہ سب کی سب سیاست میں موروثیت کے باعث آئی ہیں ظاہر ہے کہ اتنی شدید موروثیت پسندی والے اگر جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ایسا ہی ہو گا جیسے کوا کو بگلا کہلوانے لگے۔
سری لنکا میں مسز بندرا نائیکے اس لیے وزیراعظم نہیں بنی تھیں کہ سری لنکا میں جمہوریت اور آزادی کے ڈنکے بلکہ اس وجہ سے کہ وہ اپنے مرحوم شوہر بندرا نائیکے کے کریڈٹ کارڈ پر تھی پھر اس کی بیٹی صدر بنی تو وہ بھی نہ اس کی اپنی کوئی خوبی تھی نہ جمہوریت پسندی نہ ترقی پسندی بلکہ موروثی سیاست کا کمال تھا، بھارت کی اندرا گاندھی بھی، اس کا بیٹا بھی اور اب شاید پوتا بھی اسی موروثی سیاست کا پھل ہوں گے۔
بنگلہ دیش میں تو باقاعدہ موروثی سیاست کا دوہرا سلسلہ چل رہا ہے جس ینگ لک شیناوترا کا ابھی ابھی ہم نے ذکر کیا ہے وہ بھی موروثی سیاست کا ایک مظاہرہ تھا، مطلب کہنے کا یہ ہے کہ جسے ہم جمہوریت اور پھر جمہوریت میں خواتین کا مقام سمجھ رہے ہیں وہ دراصل سیاست میں انتہائی زہریلا موروثی سیاست کا کمال تھا اور ہمارے اپنے ہاں کا تو کہنا ہی کیا ۔۔۔ سربراہی تو بہت درو کی چیز ہے ابھی بلدیاتی انتخابات میں بھی جمہوریت کا نام و نشان نہیں صرف مورثیت چل رہی ہے گویا جسے سمجھے تھے ''عورت'' وہ انناس نکلی۔