چوتھی اننگز میں 654 رنزبنانے کا اعزاز انگلینڈ کو حاصل
1939 کو ڈربن میں جنوبی افریقہ کیخلاف 5 وکٹوں کے نقصان پر یہ کارنامہ انجام دیا
1939 کو ڈربن میں جنوبی افریقہ کے خلاف انگلش ٹیم نے 5 وکٹوں کے نقصان پر یہ مجموعی اسکور کیا تھا. فوٹو: فائل
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ 654 رنز کا ریکارڈ انگلینڈ کے پاس ہے۔
1939 کو ڈربن میں جنوبی افریقہ کے خلاف انگلش ٹیم نے 5 وکٹوں کے نقصان پر یہ مجموعہ اسکور کیا تھا، اس وقت انگلینڈ نے اس اننگز میں 218.2 اوورز کھیلے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر اوور 8 گیندوں کا ہوتا تھا۔ جنوبی افریقہ دوسری ٹیم بن گئی ہے جس نے ایک اننگز میں 111.5 اوورز کا سامنا کیا اور اس کا رن ریٹ 5 سے زیادہ رہا، اس معاملے میں ریکارڈ آسٹریلیا کے پاس ہے جس نے اسی گرائونڈ پر زمبابوے کے خلاف 2003 میں ایک اننگز میں 146.3 اوورز کا سامنا کیا اور اس کا رن ریٹ 5.01 رہا تھا۔
یہ ٹیسٹ تاریخ کا چوتھا موقع ہے جب کسی ٹیم نے 100 سے زائد اوورز کا سامنا کرتے ہوئے فی اوور 5 رنز اسکور کیے۔ ابراہم ڈی ویلیئرز کے پرتھ میں کھیلی گئی تین اننگز میں رنز کی تعداد 422 ہوگئی جبکہ ان کی ایوریج 84.40 ہے، غیرملکی بیٹسمینوں میں صرف ڈیوڈ گاور نے اس گرائونڈ پر زیادہ رنز اسکور کیے ہیں۔ پرتھ کے واکا گرائونڈ میں 300 سے زائد رنز اسکور کرنے والے تمام بیٹسمینوں میں ابراہم ڈی ویلیئرز کی ایوریج سب سے زیادہ ہے۔
یہ تیسرا موقع ہے جب آسٹریلیا کے خلاف کسی ایک اننگز میں جنوبی افریقہ کے دو بیٹسمینوں نے 150 سے زائد رنز اسکور کیے ہیں، اس سے قبل یہ کارنامہ انجام دینے والوں میں بھی ایک ابراہم ڈی ویلیئرز (163) اور دوسرے ایشول پرنس (150) تھے جنھوں نے کیپ ٹائون میں یہ رنز اسکور کیے تھے۔ آسٹریلیا کے خلاف پرتھ ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنے والے ڈین ایلجر نے دونوں اننگز میں صفر پر آئوٹ ہوکر پیئر بنایا، اس سے قبل جنوبی افریقہ کی جانب سے آخری مرتبہ ڈیبیو پرپیئر ایلن ڈونلڈ نے 1992 میں بنایا تھا۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ کے خلاف پرتھ میں جاری میچ میں آسٹریلیا کو ٹیسٹ تاریخ میں دوسری مرتبہ فتح کیلیے 600 سے زائد رنز کا ہدف ملا ہے، اس سے قبل ڈان بریڈ مین کے انگلینڈ کے خلاف 1928 میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو فتح کیلیے 742 رنز کا ہدف ملا تھا مگر پوری ٹیم 66 رنز پر آئوٹ ہوگئی تھی۔ چوتھی اننگز میں سب سے بڑا ہدف حاصل کرنے کا موجودہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے پاس ہے جوکہ اس نے 2003 میں آسٹریلیا کے سینٹ جونز ٹیسٹ میں 418 رنز بناکر حاصل کیا تھا۔
1939 کو ڈربن میں جنوبی افریقہ کے خلاف انگلش ٹیم نے 5 وکٹوں کے نقصان پر یہ مجموعہ اسکور کیا تھا، اس وقت انگلینڈ نے اس اننگز میں 218.2 اوورز کھیلے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر اوور 8 گیندوں کا ہوتا تھا۔ جنوبی افریقہ دوسری ٹیم بن گئی ہے جس نے ایک اننگز میں 111.5 اوورز کا سامنا کیا اور اس کا رن ریٹ 5 سے زیادہ رہا، اس معاملے میں ریکارڈ آسٹریلیا کے پاس ہے جس نے اسی گرائونڈ پر زمبابوے کے خلاف 2003 میں ایک اننگز میں 146.3 اوورز کا سامنا کیا اور اس کا رن ریٹ 5.01 رہا تھا۔
یہ ٹیسٹ تاریخ کا چوتھا موقع ہے جب کسی ٹیم نے 100 سے زائد اوورز کا سامنا کرتے ہوئے فی اوور 5 رنز اسکور کیے۔ ابراہم ڈی ویلیئرز کے پرتھ میں کھیلی گئی تین اننگز میں رنز کی تعداد 422 ہوگئی جبکہ ان کی ایوریج 84.40 ہے، غیرملکی بیٹسمینوں میں صرف ڈیوڈ گاور نے اس گرائونڈ پر زیادہ رنز اسکور کیے ہیں۔ پرتھ کے واکا گرائونڈ میں 300 سے زائد رنز اسکور کرنے والے تمام بیٹسمینوں میں ابراہم ڈی ویلیئرز کی ایوریج سب سے زیادہ ہے۔
یہ تیسرا موقع ہے جب آسٹریلیا کے خلاف کسی ایک اننگز میں جنوبی افریقہ کے دو بیٹسمینوں نے 150 سے زائد رنز اسکور کیے ہیں، اس سے قبل یہ کارنامہ انجام دینے والوں میں بھی ایک ابراہم ڈی ویلیئرز (163) اور دوسرے ایشول پرنس (150) تھے جنھوں نے کیپ ٹائون میں یہ رنز اسکور کیے تھے۔ آسٹریلیا کے خلاف پرتھ ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنے والے ڈین ایلجر نے دونوں اننگز میں صفر پر آئوٹ ہوکر پیئر بنایا، اس سے قبل جنوبی افریقہ کی جانب سے آخری مرتبہ ڈیبیو پرپیئر ایلن ڈونلڈ نے 1992 میں بنایا تھا۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ کے خلاف پرتھ میں جاری میچ میں آسٹریلیا کو ٹیسٹ تاریخ میں دوسری مرتبہ فتح کیلیے 600 سے زائد رنز کا ہدف ملا ہے، اس سے قبل ڈان بریڈ مین کے انگلینڈ کے خلاف 1928 میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو فتح کیلیے 742 رنز کا ہدف ملا تھا مگر پوری ٹیم 66 رنز پر آئوٹ ہوگئی تھی۔ چوتھی اننگز میں سب سے بڑا ہدف حاصل کرنے کا موجودہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے پاس ہے جوکہ اس نے 2003 میں آسٹریلیا کے سینٹ جونز ٹیسٹ میں 418 رنز بناکر حاصل کیا تھا۔