موسمیاتی طغیانی سے نمٹنے کی ضرورت

سیلابی پانی سے سیکڑوں دیہات زیر آب آ گئے جب کہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہونے سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے، شاہ نورانی کے سیکڑوں زائرین زمینی راستہ منقطع ہوجانے کے باعث پھنس گئے ہیں۔ فوٹو: فائل

مون سون کی موسمی بارشوں اور سیلابوں کے باعث ایک بار پھر حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر مجرمانہ غفلت اور انتظامی بریک ڈاؤن کا منظر نامہ سجا ہے، بارشوں سے معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے۔

ایسا برسوں سے ہوتا آیا ہے، بارشیں آتی ہیں اور ساتھ ہی اس کی ساری رحمتیں زحمت بن کر نوکر شاہی کی بے حسی اور صوبائی حکومتوں کی ناکامیوں کا تماشا بن جاتی ہیں۔کراچی سمیت ملک کے بیشتر شہروں کو کم و بیش اسی صورتحال کا سامنا ہے، پنجاب میں نسبتاً شہری علاقوں کی صورتحال بہتر ہے مگر کراچی ، اندرون سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات ، بارشوں اور سیلابوں سے بچاؤ کی کسی ریاستی و حکومتی میکنزم پر ٹھوس طریقے سے عملدرآمد نہیں ہوتا، حد تو یہ ہے کہ سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی مقامی انتظامیہ بلیم گیم میں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے یہی گلے شکوے کرتی ہیں کہ انھیں کام نہیں کرنے دیا جاتا، مگر سوال یہ ہے کہ بارشوں اور سیلابوں سے بچاؤ میں وفاق یا اسٹیبلشمنٹ نے کب مداخلت کی ،کسے روکا؟

ایک زمانہ تھا کراچی میونسپل کارپوریشن عمل اور جوابدہی کا نمونہ تھی ، لیکن آج بلدیاتی ادارے زبوں حال ہیں، واٹر بورڈ فراہمی و نکاسی آب میں ناکام ہے، شہر قائد میں بارش ہوتے ہی بجلی غائب مگر بلنگ ہوشربا، لینڈ لائن فون بند، ٹریفک جام، سڑکیں تالاب ، مین ہول بند، ہر سال یا کچھ وقفہ سے بارشیں آتی ہیں مگر آج تک وفاقی و صوبائی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ، سیلاب کی روک تھام یا بارشوں کو رحمت سے زحمت اور ملک گیر اذیت بن جانے سے روکنے کے لیے کسی قسم کے ہنگامی ماسٹرپلان نہیں بنائے جاسکے، سیلابی پانی کے ذخائرہ نہیں بنے، چنانچہ اس مرتبہ بھی مون سون بارشوں کے سامنے حکومتی اقدامات سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے، موسلادھار بارش سے کئی شہروں کے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، سیلابی پانی سے سیکڑوں دیہات زیر آب آ گئے جب کہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہونے سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا ۔


وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ خود بارش کے گندے پانی میں اتر گئے مگر سندھ اور کراچی کی بیوروکریسی تماشا دیکھتی رہی، تاہم کسی کے خلاف فوری کارروائی بھی نہیں ہوئی،کوئی سندھ حکومت سے نہیں پوچھتا کہ کراچی کا بجٹ کہاں خرچ ہوا، بارش کے ساتھ ہی شہروں اور دیہات میں صفائی کی صورتحال ابتر ہوجاتی ہے، وبائی امراض پھوٹنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، مکھیوں مچھروں کی بہتات ہوتی ہے، شہر قائد کے بعض مقامات پر کچرا کنڈیاں بھی بارش میں بہہ گئیں، بلدیاتی افسران وعملہ کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنی چاہئیں، بلدیاتی ادارے بارش سے قبل ہنگامی پلاننگ اور نکاسی آب کے لیے خاکروبوں سے کام کیوں نہیں لے سکے، کنڈی مین کہاں ہیں، محکمہ موسمیات نے آیندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت ملک کے اکثر حصوں میں مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی گزشتہ روز ہلکی بارش اور بوندا باندی ہوئی تاہم متعدد علاقوں میں گزشتہ 2 روزسے مسلسل ہونے والی بارش کے جمع ہونیوالے پانی کو تا حال نہیں نکالا گیا، سڑکیں بھی تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں جس سے شہریوںکو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حیدرآبادمیں اتوار کو ہونے والی بارش کے نتیجے میں شاہراہیں اور نشیبی علاقے ایک بارپھر زیرآب آگئے جب کہ پہلے سے زیرآب علاقوں میں برساتی پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو گیا، بارش کے بعد عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، بھارتی سرحدی حدود میں مسلسل بارشوں کے علاوہ پاکستان کے بالائی علاقوں میں طوفانی بارشوں کے باعث دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب آگیا۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے، شاہ نورانی کے سیکڑوں زائرین زمینی راستہ منقطع ہوجانے کے باعث پھنس گئے ہیں، لسبیلہ میں بارش نے تباہی مچادی، ژوب کوئٹہ قومی شاہراہ کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ارباب اختیار بارشوں اور سیلابوں سے بچاؤ کے لیے مژگاں کھولیں۔وفاقی و صوبائی ادارے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنائیں۔بلیم گیم سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔
Load Next Story