حکومت کالا باغ ڈیم کیخلاف نہیں اتفاق رائے چاہتی ہےکائرہ

ایسے کام چاہتے ہیں جن پر تمام صوبے متفق ہوں، عدالتوں کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے

ایسے کام چاہتے ہیں جن پر تمام صوبے متفق ہوں، عدالتوں کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت کالا باغ ڈیم کے خلاف نہیں ہے لیکن وہ اس مسئلے پر تمام فریقوں کے مابین اتفاق رائے چاہتی ہے۔

ہم کالا باغ ڈیم پر مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے فیصلہ چاہتے ہیں۔ ہم ایسے منصوبے جن پر تمام صوبے متفق ہوں پر کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اتوار کو اپنی رہائش گاہ ڈیرہ کائرہ میں صحافیوں سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے مضبوط سیاسی ویژن سے ملک میں جمہوری نظام کو ڈی ریل ہونے سے بچایا ہے، جمہوری صدر نے ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔




ایوان صدر میں اگر سیاسی صدر نہ ہوتا تو یوسف رضا گیلانی کے فیصلے کے بعد پاکستان میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جاتی۔ آصف زرداری نے اس مورچے کو سنبھالا جہاں سے جمہوریت پر ڈاکا ڈلتا ہے۔ صدر زردار ی نے یوسف رضا گیلانی کے کیس میں عدالتی احکام پر عمل کیا۔ میمو اسکینڈل کے مسئلے کو عقل مندی سے حل نہ کیا جاتا تو اس سے جمہوریت کو خطرہ ہوسکتا تھا۔

ایک سوال پر قمرزمان کائرہ نے کہا کہ آصف علی زرداری کے پاس صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے علاوہ کوئی اور عہدہ نہیں ہے ۔ پرویز مشرف نے دو عہدے اپنے پاس رکھے اور انہوںنے اس ضمن میں قوانین میں ترامیم بھی کیں تاہم کسی نے بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ ہم عدالتوںکا احترام کرتے ہیں تاہم انہیں سیاسی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

Recommended Stories

Load Next Story