چینی سرمایہ کا روں کا تھرکول کے منصوبوں میں اظہار دلچسپی

ایک ہزار ملین ڈالر فنڈ کے قیام کی تجویز،قائم علی شاہ کی وفدکوسرمایہ کاری کی دعوت دی

ایک ہزار ملین ڈالر فنڈ کے قیام کی تجویز،قائم علی شاہ کی وفدکوسرمایہ کاری کی دعوت دی . فوٹو فائل

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے پاکستان کے اہم پڑوسی ملک چین کی چائنا انویسٹمنٹ کارپوریشن کو تھرکے کوئلے، مائننگ اور پاور جنریشن کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سے چینی سرمایہ کاری کارپوریشن کے صدرژیاو زی چنگ کی قیادت میںایک اعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی۔ چینی سرمایہ کاری کارپوریشن کے صدر ژیاو زی چنگ اور وفد کے دیگر اراکین نے منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات میں تھرکول مائننگ اور پاور پروجیکٹس کی ترقی میں چینی سرمایہ کاری سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔چینی وفد میں چیف اسٹرٹیجی افسر زوہو یوئان، سی آئی سی انٹرنیشنل(ہانگ کانگ) کے صدر فین کن شینگ، ایم ڈی کاؤلو و دیگر شامل تھے۔



اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت وچیئرمین سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی سید علی نواز شاہ، صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ اور دیگر نے شرکت کی۔چینی سرمایہ کاری کارپوریشن کا وفد صدر مملکت کی دعوت پر ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے حکومت سندھ اور وفاقی حکومت نے سرمایہ دار دوست پالیسیاں بنائی ہیں اور کول کی ترقی کیلیے مالی مراعات دی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ حکومت سندھ اور وفاق کی جانب سے سڑکوں کی تعمیر، فراہمی نکاسی آب، ایئرپورٹ اور ٹرانسمیشن لائن سمیت بنیادی ڈھانچے پر تیزی سے کام جاری ہے ۔


ایم ڈی تھرکول اینڈ انرجی بورڈ اعجاز علی خان نے وفد کو بریفنگ میں بتایا کہ تھر میں 175ارب ٹن لگنائیٹ 9100کلو میٹر کے رقبے پر پھیلاہوا ہے،جبکہ اس وقت اوپن پٹ مائننگ اور پاور جنریشن آغازکے مرحلے میں ہیں۔انھوں نے چائنا سرمایہ کاری کارپوریشن ،حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کے باہمی تعاون سے انرجی سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی جس سے سندھ میں توانائی کے منصوبوں کی فنانسنگ کی جائے۔انھوں نے سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی کے تحت جاری تھربلاک ٹو کول مائننگ اور پاور پروجیکٹس اور چائنا کی گلوبل مائیننگ کے تحت جاری تھر بلاک ون کول مائننگ اور پاور پروجیکٹس کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلیے چینی سرمایہ کاری کارپوریشن پر زور دیا۔



اینگرو کارپوریشن کے سربراہ علی الدین انصاری نے وفد کو65لاکھ ٹن کول مائیننگ اور1200میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انھوں نے بتایا کہ کان کنی کیلیے ایک معروف عالمی ادارے سے فزیبلٹی اسٹڈی کروائی گئی ہے جوکہ چین کی سائنوکول، جرمنی کی جی آر ای، برطانیہ کی ایس آرتا اور چین کی نارتھ ایسٹ کول بیورو کے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔

انھوں نے چینی سرمایہ کاری کارپوریشن پر زور دیا کہ وہ تھر کے کوئلے میں سرمایہ کاری کرے جس کیلیے انھوں نے ایک ہزار ملین ڈالر فنڈکے قیام کی تجویز دی۔چینی کمپنی گلوبل مائننگ کے چیئرمین نے تھرکول بلاک ون کے 10ملین ٹن کول مائننگ اور 9 سو میگاواٹ پاور جنریشن کے منصوبے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ سائینوسندھ ریسورس نے چینی کمپنی گلوبل مائننگ سے کنشورشیم کے تحت 30سال کیلیے رعایت حاصل کی ہے، جس سے 150کلو میٹر رقبے پر لگنائٹ کول 3 ارب ٹن ذخائر پر کام کیا جا رہا ہے۔
Load Next Story