دہشت گردی کے عفریت کا سر کچل ڈالیے

دنیا بھر سے پاکستان پر لگنے والے الزامات کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت قومی امنگوں کو ساتھ لے کر چلے

ہارا دشمن گہری مذہبی ، نظریاتی ، سیاسی ، مسلکی، فرقہ وارانہ اور فکری جڑیں رکھتا ہے، بس اس عفریت کا سر کچلنے کی دیر ہے۔ فوٹو : فائل

سانحہ کوئٹہ بلاشبہ پاکستان کی سالمیت پر بے چہرہ دشمنوں کا انتہائی قبیح بزدلانہ حملہ ہے جس نے دہشتگردوں کی انسانیت سوز سوچ اور ظلم پرستی کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے لیے بھی چند اہم اور چشم کشا سوالات اٹھائے ہیں جن کا بے لگام دہشت گردی کی فوری تفہیم کے سیاق وسباق میں حل ہونا شرط اول ہے جب کہ انتہا پسندوں کے عزائم ،ان کے نیٹ ورکس کے دائمی انہدام کے لیے ریاستی وسائل کو بروئے کار لانے ، ایک ناقابل تقسیم و غیر متزلزل قومی جوش و ولولے اور مزاحمتی ارادے کی ضرورت ہے۔ کوئٹہ سانحہ نے ہر پاکستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے اور ارباب اختیار کو للکارا ہے کہ وہ دشمنوں سے لفظی جنگ پر اکتفا نہ کریں، مذمتی بیانات سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے ریاست کے تمام سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے پوری طاقت کے ساتھ کارروائی کریں، دہشت گرد آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کا جدید مربوط طریقہ سے مؤثر جواب دیا جانا چاہیے۔ وہ پیر کو گورنرسیکریٹریٹ کوئٹہ میں ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اﷲ زہری، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ، وزیر اطلاعات پرویز رشید، ڈی جی ملٹری آپریشنز اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس نے بھی شرکت کی۔

چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اﷲ چٹھہ نے وزیراعظم کو سول اسپتال دھماکے بارے میں بریفنگ دی۔ نواز شریف نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران بلوچستان میں بحالی امن کے سلسلے میں بہتری دیکھی گئی ہے اور یہ افسوسناک واقعہ قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے دشمن اقتصادی راہداری کے خلاف ہیں۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو اس سلسلے میں ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ اس بہیمانہ واقعے کے ذمے داروں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردوں کے خلاف اسپیشل کومبنگ آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حساس ادارے کہیں بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے اور ملک بھر میں کہیں بھی دہشت گردوں کو پکڑنے کے مجاز ہوں گے، دہشت گرد کے پی کے میں شکست کے بعد بلوچستان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پیر کو کور ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری، چیف سیکریٹری اور کمانڈر سدرن کمانڈ نے شرکت کی۔ دہشت گردی کے اس اسٹرائیک بیک نے تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی کواس بنیادی نکتے پر جمع کیا ہے کہ دہشت گرد کیوں اپنے اہداف تک پہنچنے میں ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں اور ہمارے دفاعی و پیشگی حملوں کی صلاحیتوں کو دشمن بار بار کیوں آزماتے ہیں ۔

اس بار بھی جماعت الاحرار نے حملہ کی ذمے داری قبول کی، اب سراغ لگانا ایک قومی ذمے داری ہے اور نیشنل ایکشن پلان کی عملیت کو جانچنے کے لیے مزید کسی دہشتگرد گروپ کو اپنی بالادستی کا یوں مظاہرہ کرنے سے پہلے نشان عبرت بنادینا چاہیے۔ قوم کب تک دہشت گردوں کے کامیاب حملوں کے بعد حکمرانوں کو لکیر پیٹتے دیکھتی رہے گی، دنیا پر ثابت کیجیے کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے اسے دہشت گردی کا سرچشمہ کہنے والے اپنی بند آنکھیں کھولیں ، لہٰذا سانحے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری تک چین سے بیٹھنے کا وقت نہیں۔چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے کوئٹہ دھماکے اور بلوچستان ہائیکورٹ بار کے صدر بلال انور کاسی کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کی ہے۔ قومی اسمبلی میں پیر کو معمول کی کارروائی روک کر سانحہ کوئٹہ پر بحث میں مقررین نے فکر انگیز نکات اٹھائے ، حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل اور جے یوآئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا محمد خان شیرانی نے قومی اسمبلی میں کوئٹہ واقعہ پر سنجیدہ باتیں کیں، ان پر غیر جذباتی انداز میں غورو فکر کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ ہمارا دشمن گھر کے اندرہے، دوسروں سے کیا گلہ کریں ، سانحہ کوئٹہ پربحث کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 2015 میں پینٹاگان کی جو رپورٹ افشا ہوئی اس میں واضح ہے کہ امریکا اپنے تحفظ کے لیے دنیا پر جنگ مسلط کریگا، نائن الیون کے بعد فوری طور پرکہا گیا کہ یہ تہذیبوں کے درمیان تصادم ہے، بعد میں اسے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا نام دیا گیا، انھوں نے کہا کہ اس وقت چوتھی عالمی جنگ جاری ہے جس میں ہدف مسلمان ہیں۔

ادھر پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار اور دیگر وکلا تنظیموں نے سانحہ کوئٹہ کی مذمت کرتے ہوئے 7 روزہ سوگ اور 3 روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے، تحریک انصاف، (ق) لیگ اور جماعت اسلامی نے کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ میں مذمتی قراردادیں جمع کر ادیں، قرارداد میں بلوچستان کے امن پسند شہریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عہد کیا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رہیگا، تاجر تنظیموں نے سانحہ کوئٹہ کے خلاف پیر کو کوئٹہ شہر میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال جب کہ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے آج تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ، جامعہ کراچی بھی بند رہی ۔


وزیراعلی بلوچستان سردار ثنااللہ زہری نے فوری رد عمل میں کہا کہ دہشت گردی میں را ملوث ہے ،اس کے ثبوت پیش کروں گا، بیرون ملک سے فنڈنگ ہورہی ہے، وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی سانحہ کوئٹہ میں ''را'' کے ملوث ہونے کا یقین ظاہر کیا ہے، تاہم سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان نے کہا کہ را کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کرنے چاہئیں۔ ہم افغان جنگ میں آلہ کار بنے، نائن الیون کے بعد آلہ کار بنے، حکومت کی کوئٹہ میں کوئی پلاننگ نہیں، ایم کیوایم کے رہنما بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا کہ ابھی لوگ جائے حادثہ پر زخمی پڑے ہوئے تھے کہ ہم نے را کا نام لے لیا، ملزم مقامی لوگ ہیں، را ان کو فنڈ کررہی ہوگی۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے کوئٹہ دھماکوں اور صدر بلوچستان بار کے قتل کی مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں کمیشن نے حکومت کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وکلاء پر اس طرح کا منظم حملہ قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے۔ صحافی تنظیموں نے سانحہ کوئٹہ پر ملک گیر یکجہتی اور اپنے شہید ساتھیوں کے لواحقین سے مکمل ہمدردی کا اظہار کیا ، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے سول اسپتال کوئٹہ میں اندوہناک بم دھماکے سے آج ٹی وی کے کیمرہ مین شہزاد خان کی شہادت، ڈان ٹی وی کے کیمرہ مین محمود اور دنیا ٹی وی کے رپورٹر فرید اللہ کے شدید زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال میں دہشت گردی کو ایک انسانیت دشمن اقدام قرار دیا ہے۔

امریکا نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں امریکا پاکستانی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیلے نے کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمران سو رہے ہیں اور دشمن نے بلوچستان کو فوکس کر رکھا ہے، ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام ''عالمی دہشتگردی اور پاکستان''کے عنوان سے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ پاکستان پر حملہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دہشتگردی کے اس واقعے نے ارباب اختیار پر ہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے بنیادی اخلاقی نقطے یہ سامنے رکھا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمہ کی کوشش میں کیا تاریخ قومی اداروں کے شانہ بشانہ ہے؟ ریاستی رٹ کو تسلیم نہ کرنے والوں میں اچھے اور برے طالبان کی کوئی تمیز روا نہ رکھی جائے،اور دنیا بھر سے پاکستان پر لگنے والے الزامات کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت قومی امنگوں کو ساتھ لے کر چلے اور تمام سیاسی جماعتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ قومی ایشوز پر اتفاق رائے ، افہام وتفہیم اور خیر سگالی و سیع النظر سے کام لیں۔

جب نائن الیون ہوا توسابق صدرجارج بش کا یہی بار بار کہنا تھا کہ make no mistake اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، وہ یہ کہتے تھے کہ ہم دہشتگردوں کے خلاف لڑتے ہوئے دہشتگردی کی تخلیق کا باعث نہیں بنتے، بلکہ ہم دہشت گردی کو نظر انداز کر کے اسے اپنے ملک میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس اعتراف حقیقت سے ہمارے حکام بھی سبق سیکھیں، جو ریاست سے تصادم پر کمر بستہ قوتیں ہیں ان سانپوں کو دودھ پلانے کا کوئی فائدہ نہیں، دہشتگرد کسی کا دوست نہیں ہوتا۔ سیاسی و عسکری سطح پر دہشتگردوں کو یہ تاثر پھیلانے کی مہلت نہیں ملنی چاہیے کہ اسٹیبلشمنٹ میں ان کا کوئی حامی و مددگار بھی ہے۔ یہ اس اندر کے دشمن کی بات ہورہی ہے جس پر آج ہمارے عسکری ڈاکٹرائن کی عمارت کھڑی ہے، ہم تزویراتی اندھیرے سے بھی باہر نکل رہے ہیں، پاکستان کو افغانستان کی مخدوش صورتحال نے جو زخم دیے ہیں ، ان کے ازالے کے لیے بلوچستان ، سندھ ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سواد اعظم کو ایک سیسہ پلائی دیوار بنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی قوم کی طاقت مساوات کے جمہوری اساس پر استوار ہو تو کسی کو یہ کہنے کی مجال بھی نہیں ہوگی کہ ملکی قیادتوں کے مابین رقابتوں نے مساوات اور قانون کی حکمرانی کو مذاق بنا رکھا ہے۔ اب ہر شخص کو معلوم ہے کہ دہشتگرد صرف ریاست، پارلیمنٹ عدلیہ انتظامیہ اور انفرااسٹرکچر کی تباہی کے درپے نہیں بلکہ ان پر ہر باشعور پاکستانی سے انتقام لینے کا جنون سوار ہے، کوئٹہ میں بربریت اور انسان دشمنی اسی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ اس ظلم اور خونریزی نے وکلا برادری کے قلب پر حملہ کیا ہے، قانون کی حکمرانی کی روح گھائل ہوگئی ہے، ایک پوری باشعور برادری کی نسل کشی کی بہیمانہ واردات ہوئی ہے، خدارا بتائیے ، کتنے وکلا بلوچستان میں باقی رہ گئے ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ دانشور اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے عالمی نقاد نوم چومسکی کا مشہور مقولہ ہے کہ ہر شخص دہشتگردی کو روکنے کے لیے پریشان ہے، مگر اس کا ایک آسان حل بھی ہے اور وہ یہ کہ آپ اس میں شامل نہ ہوں۔ ہارا دشمن گہری مذہبی ، نظریاتی ، سیاسی ، مسلکی، فرقہ وارانہ اور فکری جڑیں رکھتا ہے، بس اس عفریت کا سر کچلنے کی دیر ہے۔
Load Next Story