اوول میں بہترریکارڈ پاکستان کا حوصلہ بڑھانے لگا

اسپن کیلیے معاون کنڈیشنز میں دونوں ٹیموں کا2سلو بولرز کھلانے پر غور

اسپن کیلیے معاون کنڈیشنز میں دونوں ٹیموں کا2سلو بولرز کھلانے پر غور. فوٹو: فائل

اوول میں بہترریکارڈ پاکستانی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے لگا، اسپن معاون کنڈیشنز میں 2 سلو بولرز کھلائے جاسکتے ہیں، یاسر شاہ کو بھی سیریز کا اختتام بہتر کارکردگی پر کرنے کا موقع میسر آگیا، دوسری جانب انگلینڈ نے بھی ایک ساتھ دو اسپنرز میدان میں اتارنے پر غور شروع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق لندن کا اوول گراؤنڈ پاکستان کیلیے اب تک قدرے خوش قسمتی کا باعث ثابت ہوا ہے، ٹیم نے یہاں اب تک مجموعی طور پر 9 ٹیسٹ کھیلے، ان میں سے 4 میں فتح اور 3 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ2 میچزڈرا ہوئے۔ اب اسی وینیو پر دونوں ٹیمیں جمعرات سے چوتھے اور آخری ٹیسٹ کیلیے ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما ہورہی ہیں، پاکستان کو 1-2 کے خسارے کا سامنا اور سیریز بچانے کیلیے ہر صورت یہ میچ جیتنا ضروری ہے۔ وکٹ کو اسپنرز کیلیے موزوں قرار دیا جارہا ہے، یہاں پر پاکستان کی جانب سے ایک ساتھ دو اسپنرز میدان میں اتارے جانے پر غور کیا جاسکتا ہے، یاسر شاہ کے پاس بھی ٹیسٹ سیریز کا اختتام بہتر کارکردگی پر کرنے کا اہم موقع ہے۔


اس سے قبل وہ لندن میں ہی لارڈز میں بہتر پرفارمنس سے ٹیم کی کامیابی میں اہم کردارادا کرچکے ہیں،اولڈ ٹریفورڈ اور ایجبسٹن میں ان کی کارکردگی مایوس کن رہی، ان کی مدد کیلیے افتخار احمدکومیدان میں اتارا جا سکتا ہے جو بیٹنگ کے ساتھ اسپن بولنگ کی اضافی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انگلینڈ کی جانب سے بھی معین علی اور عادل رشیدکی صورت میں دواسپنرز کھلائے جانے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا، آخری مرتبہ ٹیم نے کسی ہوم ٹیسٹ میں دوسلوبولرز آسٹریلیا کے خلاف 2013 میں اوول میں ہی کھلائے تھے۔

پاکستان سے تیسرے ٹیسٹ میں الیون کا حصہ نہ بننے پر اپنی ٹیم یارکشائر کی جانب سے ورکشائر کے خلاف کائونٹی چیمپئن شپ میچ میں عادل رشید نے 61 رنز کے عوض 7 وکٹیں لی تھیں۔ انگلش کوچ ٹریور بیلس سے جب پوچھا گیا کہ اتنی اچھی کارکردگی کے بعد کیا وہ عادل کو اگلا ٹیسٹ کھلانے کی خواہش محسوس کررہے ہیں تو انھوںنے کہا کہ بہت زیادہ ،البتہ اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ کنڈیشنز کا حتمی جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
Load Next Story