اوول ٹیسٹ کوچ نے بھی افتخارکی شمولیت کا عندیہ دیدیا
آل رائونڈرکی کمی دورکرنے کیلیے آپشن موجود ہے، سیریزبرابرہو سکتی ہے، آرتھر
آل رائونڈرکی کمی دورکرنے کیلیے آپشن موجود ہے، سیریزبرابرہو سکتی ہے، آرتھر۔ فوٹو: فائل
پاکستانی کوچ مکی آرتھر نے بھی اوول ٹیسٹ میں افتخار احمد کی شمولیت کا عندیہ دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں اب تک میدان کے اندر اور باہر کھلاڑیوں کا رویہ شاندار رہا، ایجبسٹن میں بھی میزبان ٹیم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جونی بیئراسٹو یا معین علی کی وکٹ جلد حاصل کرکے جیت بھی سکتے تھے، آخری معرکے میں سرخرو ہوکر سیریز برابر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ پُرامید ہیں کہ پاکستان اوول میں جمعرات سے شروع ہونے والے سیریز کے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں فتح کے ساتھ سیریز برابر کرسکتا ہے، پریس کانفرنس میں انھوں نے عندیہ دیا کہ آل رائونڈر کی کمی دور کرنے کیلیے افتخار احمد کو میدان میں اتارنے کا آپشن موجود ہے،انھوں نے کہا کہ مڈل آرڈر بیٹسمین اچھی آف اسپن بھی کر لیتے ہیں، انگلینڈ کے پاس کئی لیفٹ ہینڈڈ بیٹسمین موجود ہیں، ایسے میں اگر موقع ملا تو افتخار بطور پانچویں بولرکامیاب ثابت ہو سکتے ہیں، کوچ نے کہا کہ گذشتہ دوماہ میں میدان سے اندر اور باہر کھلاڑیوں کا رویہ شاندار رہا،گرین کیپس نے بہت سے دوست بنائے ہیں، ایجبسٹن ٹیسٹ میں ٹیم نے میزبان سائیڈ کا ڈٹ کرمقابلہ کیا، ایسا نہیں کہ ہم نے بغیر لڑے ہی ہتھیار ڈال دیے ہوں، ساڑھے 3دن مجموعی طور پر غلبہ حاصل کرتے رہے،بیٹسمین بھی چند عمدہ شراکتیں قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جو مستقبل کیلیے بھی اچھا شگون ہے۔
ہم انگلینڈ کو مکمل طور پر دبائو میں لانے سے ایک وکٹ کے فاصلے پر تھے،جونی بیئراسٹو یا معین علی کو جلد آئوٹ کرلیتے تو میچ کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا، ہم جیت بھی سکتے تھے،ہار کسی کو بھی گوارا نہیں ہوتی لیکن گرین کیپس کی جانب سے اچھی کوشش ضرور نظر آئی۔ مکی آرتھر نے کہاکہ پاکستان آخری معرکے میں سرخرو ہوسکتا ہے، طویل ٹور میں اگر ہم سیریز 2-2 سے برابر کرلیں تو یہ بہترین بات ہوگی، پوری امید ہے کہ مہمان کرکٹرز کم بیک کرتے ہوئے مثالی کھیل پیش کرکے اپنا مقصد حاصل کرلیں گے۔
تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ پُرامید ہیں کہ پاکستان اوول میں جمعرات سے شروع ہونے والے سیریز کے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں فتح کے ساتھ سیریز برابر کرسکتا ہے، پریس کانفرنس میں انھوں نے عندیہ دیا کہ آل رائونڈر کی کمی دور کرنے کیلیے افتخار احمد کو میدان میں اتارنے کا آپشن موجود ہے،انھوں نے کہا کہ مڈل آرڈر بیٹسمین اچھی آف اسپن بھی کر لیتے ہیں، انگلینڈ کے پاس کئی لیفٹ ہینڈڈ بیٹسمین موجود ہیں، ایسے میں اگر موقع ملا تو افتخار بطور پانچویں بولرکامیاب ثابت ہو سکتے ہیں، کوچ نے کہا کہ گذشتہ دوماہ میں میدان سے اندر اور باہر کھلاڑیوں کا رویہ شاندار رہا،گرین کیپس نے بہت سے دوست بنائے ہیں، ایجبسٹن ٹیسٹ میں ٹیم نے میزبان سائیڈ کا ڈٹ کرمقابلہ کیا، ایسا نہیں کہ ہم نے بغیر لڑے ہی ہتھیار ڈال دیے ہوں، ساڑھے 3دن مجموعی طور پر غلبہ حاصل کرتے رہے،بیٹسمین بھی چند عمدہ شراکتیں قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جو مستقبل کیلیے بھی اچھا شگون ہے۔
ہم انگلینڈ کو مکمل طور پر دبائو میں لانے سے ایک وکٹ کے فاصلے پر تھے،جونی بیئراسٹو یا معین علی کو جلد آئوٹ کرلیتے تو میچ کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا، ہم جیت بھی سکتے تھے،ہار کسی کو بھی گوارا نہیں ہوتی لیکن گرین کیپس کی جانب سے اچھی کوشش ضرور نظر آئی۔ مکی آرتھر نے کہاکہ پاکستان آخری معرکے میں سرخرو ہوسکتا ہے، طویل ٹور میں اگر ہم سیریز 2-2 سے برابر کرلیں تو یہ بہترین بات ہوگی، پوری امید ہے کہ مہمان کرکٹرز کم بیک کرتے ہوئے مثالی کھیل پیش کرکے اپنا مقصد حاصل کرلیں گے۔