سی پیک قرضوں پرسودکے لیے ٹیکس استثنیٰ تجویز
ایف بی آر نے سمری وزیراعظم کو بھجوادی،2ہفتے قبل اجلاس میںمعاملہ اٹھایاگیاتھا
ایف بی آر نے سمری وزیراعظم کو بھجوادی،2ہفتے قبل اجلاس میںمعاملہ اٹھایاگیاتھا : فوٹو: فائل
پاکستان نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کے لیے چینی بینکوں کی جانب سے دیئے جانے والے قرضوں پر سود کو ٹیکس سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس ضمن میں ایف بی آر نے سمری تیار کرکے منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھجوادی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ 2 ہفتے قبل اس حوالے سے لاہور میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا تھا جس میں چینی بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے قرضوں پر سود کی مد میں کی جانے والی ادائیگیوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے پاک چین معاہدے کے تحت پہلے سے5 چینی بینکوں کو دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کی سہولت حاصل ہے اور اب اس معاہدے میں ترمیم کرکے چین کے ایک اور بینک کو شامل کیا جا رہا ہے، چین کا انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک راہداری منصوبوں کے لیے قرضے جاری کررہا ہے لہٰذا ان قرضوں پر سود کی مد میں جو ادائیگی کی جائے گی اس پر ٹیکس سے چھوٹ ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل دہرے ٹیکسوں سے بچاؤکے معاہدہ کے تحت چین کے جو 5 بینک شامل ہیں ان میں پیپلز بینک آف چائنا، ایگزیم بینک آف چائنا، بینک آف چائنا، ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ بینک آف چائنہااور چائنا ڈیولپمنٹ بینک شامل ہیں اور اب انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا (آئی سی بی سی) کو بھی اس معاہدے میں شامل کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے میں ترمیم کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کرنے والے انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا کو سود کی مد میں کی جانے والی ادائیگیوں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے مذکورہ معاہدے میں ترامیم کے لیے تیار کردہ سمری چیئرمین کی منظوری سے حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھجوادی گئی ہے اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر دستخط ہوں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ 2 ہفتے قبل اس حوالے سے لاہور میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا تھا جس میں چینی بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے قرضوں پر سود کی مد میں کی جانے والی ادائیگیوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے پاک چین معاہدے کے تحت پہلے سے5 چینی بینکوں کو دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کی سہولت حاصل ہے اور اب اس معاہدے میں ترمیم کرکے چین کے ایک اور بینک کو شامل کیا جا رہا ہے، چین کا انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک راہداری منصوبوں کے لیے قرضے جاری کررہا ہے لہٰذا ان قرضوں پر سود کی مد میں جو ادائیگی کی جائے گی اس پر ٹیکس سے چھوٹ ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل دہرے ٹیکسوں سے بچاؤکے معاہدہ کے تحت چین کے جو 5 بینک شامل ہیں ان میں پیپلز بینک آف چائنا، ایگزیم بینک آف چائنا، بینک آف چائنا، ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ بینک آف چائنہااور چائنا ڈیولپمنٹ بینک شامل ہیں اور اب انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا (آئی سی بی سی) کو بھی اس معاہدے میں شامل کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے میں ترمیم کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کرنے والے انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا کو سود کی مد میں کی جانے والی ادائیگیوں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے مذکورہ معاہدے میں ترامیم کے لیے تیار کردہ سمری چیئرمین کی منظوری سے حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھجوادی گئی ہے اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر دستخط ہوں گے۔