زبان کی تباہ کاریاں قرآن و حدیث کی روشنی میں
رسول اﷲ ﷺ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا کہ اس زبان کے غلط استعمال کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔
رسول اﷲ ﷺ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا کہ اس زبان کے غلط استعمال کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔ : فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
اگر سیرت اچھی نہ ہو تو اچھی صورت کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اگر ہم زبان سے اچھے کلمات ادا کریں تو اس کا کس قدر فائدہ اور بدزبانی کریں تو یہ ہمارے لیے کتنی ہلاکت خیزی کا باعث بن سکتی ہے۔ زبان کا درست استعمال اﷲ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہماری زبان سے نکلنے والے اچھے یا برے الفاظ ہمارے نامۂ اعمال میں درج ہوتے ہیں۔ سورہ ق کی آیت 18میں یہ حقیقت ہمارے سامنے رکھی ہے '' انسان اپنی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکالتا مگر قریب ہی ایک چوکس لکھنے والا موجود ہوتا ہے۔ وہ فوراً زبان سے نکالے گئے الفاظ کو لکھ لیتا ہے خواہ وہ الفاظ اچھے ہوں یا برے'' اگر انسان میں یہ بات یقین کی حد تک پیدا ہوجائے تو کیا اس کی زبان سے کسی کی حق تلفی ہوسکتی ہے۔
سورہ مومنین کی آیت 3 میں انسان کی بنیادی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی گئی کہ وہ جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ لغو بہت سارے کام ہوسکتے ہیں لیکن ان میں ایک لایعنی کام زبان کا غلط استعمال ہے۔ یعنی انسان کی بنیادی صفات میں سے ایک لایعنی باتوں سے بچنا بھی ہے خواہ زبان کے ذریعے ہو یا ہاتھ کے ذریعے۔
ترمذی کی روایت کے مطابق رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو خاموش رہا اس نے نجات پالی۔ اس کا مطلب ساری زندگی خاموش رہنا نہیں ہے بل کہ جو لایعنی باتیں ہیں، ان سے روکا گیا ہے۔ بے وقوف انسان جب تک خاموش رہتا ہے، اس کی بے وقوفی پر پردہ پڑا رہتا ہے۔ اس کے بالکل برعکس ایک عقل مند انسان خاموش ہوتا ہے تو وہ غور و فکر کررہا ہوتا ہے۔ جب وہ بولتا ہے تو ذکر کررہا ہوتا ہے اور جب دیکھتا ہے تو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ ایک عقل مند اور بے وقوف انسان میں ٖفرق ہے۔
زبان کے درست استعمال سے اعمال کی اصلاح بھی ہوتی ہے اور یہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بھی بنے گا۔ اس کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے سورہ احزاب میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے اہل ایمان! اﷲ کا تقویٰ اختیار کرو اور سیدھی بات کرو یعنی زبان کا غلط نہیں بل کہ درست استعمال ہونا چاہیے۔ وہ تمہارے اعمال کی اصلاح فرما دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔
زبان کے درست استعمال سے اﷲ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل ہوتی ہے۔ اﷲ اور آخرت پر ایمان کا ایک مظہر یہ ہے کہ انسان خیر کی بات کرے۔ بخاری اور مسلم کی ایک متفق علیہ روایت کے مطابق رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو اﷲ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ زبان سے اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
زبان کے صحیح استعمال پر رسول اکرمؐ نے جنت کی بشارت فرمائی ہے۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت کے مطابق رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ اگر ہم تھوڑا سا غور و فکر کریں اور زبان کے استعمال سے پہلے سوچ لیں کہ ہم زبان سے کیا کہنے جارہے ہیں تو ہم کسی کی دل آزاری سے بچ سکتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ پہلے تولو پھر بولو۔ بولنے سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کسی کے دل پر تیر تو نہیں چلارہے ہیں یا اس کے ذریعے کسی کی حق تلفی تو نہیں ہورہی۔ سورہ سجدہ میں بشارت آئی کہ '' اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو لوگوں کو اﷲ کی طرف بلائے'' یہ زبان کا بہترین استعمال ہے کہ لوگوں کو قرآن کی طرف بلایا جائے اور اس کے احکامات لوگوں تک پہنچائے جائیں۔
ہم دنیا میں زبان کے غلط استعمال سے کسی کا دل دکھا دیتے ہیں اور توبہ و تلافی کی نوبت بھی نہیں آتی کہ موت آجاتی ہے۔ رسول اکرمؐ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام ؓ سے سوال فرمایا کہ میری امت کا مفلس کون ہے؟ صحابہ کرامؓ نے جواب دیا کہ ہم تو مفلس اس کو سمجھتے ہیں کہ جس کے پاس درہم و دینار نہ ہو۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں بل کہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہوگا جو روز قیامت اپنی نمازوں، روزوں اور دیگر عبادات کے ساتھ آئے گا مگر اس نے دنیا میں کسی کا دل بھی دکھایا ہوگا۔ کسی کی حق تلفی بھی کی ہوگی۔
زبان کے ذریعے کسی کے دل پر تیر چلائے ہوں گے اور اس کی بے عزتی کی ہوگی۔ قیامت کے د ن یہ سب لوگ قیامت کے دن کھڑے ہوجائیں گے اور اﷲ تعالیٰ سے انصاف طلب کریں گے۔ اس وقت اس کے پاس درہم و دینار تو نہیں ہوں گے۔ اس شخص کے نیک اعمال اس کے کھاتے سے لیے جائیں گے اور اس کے خلاف شکایت کنندگان کو دے دیے جائیں گے۔ حال یہ ہوگا کہ اس شخص کے نیک اعمال ختم ہوجائیں گے لیکن شکایت کنندگان کے مطالبات ختم نہیں ہوں گے۔ ان کے برے اعمال لے کر اس بدبخت کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور اس کو جہنم واصل کردیا جائے گا۔ لہٰذا زبان کے غلط استعمال سے خدانخواستہ کسی کا دل دکھا ہو تو دنیا میں موقع ہے کہ اس سے معافی تلافی کرلی جائے۔ اس کے لیے اپنی انا کو فنا کرنا پڑے گا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو آخرت کی زندگی میں عظیم خسارے کا سامنا ہوگا۔
رسول اﷲ ﷺ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا کہ اس زبان کے غلط استعمال کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔ اس زبان کے ذریعے ہم ایک بہت ہی گھناؤنا کام کرتے ہیں اور وہ غیبت اور بہتان ہے۔ سورہ حجرات میں جو بڑی برائیاں اﷲ تعالیٰ نے گنوائی ہیں ان میں سے ایک غیبت ہے۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے کہ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے کسی مردہ بھائی کا گوشت کھائے، اس سے تو تمہیں بڑی کراہت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ مثال کیوں دی گئی؟ غیبت یہ ہے کہ کسی انسان میں کوئی برائی ہو اور اسے اس کی غیر موجودی میں بتایا جائے۔ اگر جس برائی کا تذکرہ کیا جارہا ہے وہ اس میں موجود نہیں تو یہ بہتان ہے اور اس کا گناہ غیبت سے بڑھ کر ہے۔
غیبت کی مذکورہ تعریف سے اس مثال کو سمجھیے جو اﷲ تعالیٰ نے دی ہے۔ یہ بڑی بلیغ مثال ہے۔ مردہ جس کا گوشت کھایا جارہا ہو ، اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ اسی طرح کسی کی غیرموجودی میں اگر کسی کی کوئی برائی بیان کی جائے تو وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ اگر اپنے کسی بھائی میں کوئی برائی ہو تو اس سے ملاقات کرکے اسے بتائیے۔ ممکن ہے کہ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔ اس کے امکانات ہوسکتے ہیں۔ ہمیں کسی کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہوجاتی ہے اور ہم اسے آگے بیان کرنا شروع کردیتے ہیں۔ حالاں کہ جس خرابی کا ذکر جو آپ کررہے ہوں، ممکن ہے کہ وہ اس میں ہو ہی نہ۔ اگر اس کی موجودی میں یہ بات کی جاتی تو وہ اپنا دفاع کرسکتا تھا۔ وہ اس بارے میں اپنی وضاحت پیش کرسکتا تھا۔ ہمارا دین یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی میں کوئی خرابی نظر آئے تو اس کا ڈھنڈورا دوسروں کے سامنے نہ پیٹا جائے بل کہ اس سے علیحدگی میں ملاقات کرکے اس کی خرابی کی اصلاح کی جائے۔ تنقید برائے تنقید نہیں بل کہ برائے اصلاح ہونی چاہیے۔
جہنم میں جانے کی ایک وجہ ﷲ تعالیٰ نے سورہ مدثر میں بیان فرمائی ہے کہ وہ فضول گوئی کرنا ہے۔ جہنمی کہتے ہیں کہ ہم فضول باتیں کرنے والوں کے ساتھ فضول گوئی کرتے تھے۔ کسی کا دل دکھایا۔ کسی کی برائیاں بیان کیں۔ کسی کی غیبت کی اور کسی پر بہتان باندھا۔ ایک عام برائی جھوٹ بولنا ہے۔ جھوٹ بول کر بڑے بڑے غبن کیے جاتے ہیں۔ جھوٹ منافقین کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
رسول اﷲ ﷺ نے ایک حدیث میں منافقین کی تین نشانیاں بیان فرمائیں۔ دوسری حدیث میں چوتھی نشانی بھی بیان فرمادی۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے اور جب کسی سے جھگڑا ہوتو گالم گلوچ پر اتر آئے۔ منافق کلمہ گو مسلمان ہی ہوتے ہیں اور ہر دور میں ہوتے ہیں۔ نفاق اتنا گھناؤنا جرم ہے کہ اﷲ کا سب سے زیادہ غضب اسی پر بھڑکتا ہے۔ سورہ نساء میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوں گے۔
آفات لسانی میں دل آزاری بھی شامل ہے۔ ایک صحابی ؓ رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی کہ اﷲ نے نزدیک سب سے اچھا عمل کس کا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کی خدمت کرنا اور اس کی حاجت پوری کرنا۔ صحابی ؓ نے پوچھا کہ اﷲ کے نزدیک سب سے برا عمل کون سا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اپنے مسلمان بھائی کو تکلیف دینا اور اس کی دل آزاری کرنا اﷲ کے نزدیک اتنا بڑا گناہ ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنے ہاتھوں سے کعبۃُاﷲ کو ڈھا دے۔
اگر سیرت اچھی نہ ہو تو اچھی صورت کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اگر ہم زبان سے اچھے کلمات ادا کریں تو اس کا کس قدر فائدہ اور بدزبانی کریں تو یہ ہمارے لیے کتنی ہلاکت خیزی کا باعث بن سکتی ہے۔ زبان کا درست استعمال اﷲ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہماری زبان سے نکلنے والے اچھے یا برے الفاظ ہمارے نامۂ اعمال میں درج ہوتے ہیں۔ سورہ ق کی آیت 18میں یہ حقیقت ہمارے سامنے رکھی ہے '' انسان اپنی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکالتا مگر قریب ہی ایک چوکس لکھنے والا موجود ہوتا ہے۔ وہ فوراً زبان سے نکالے گئے الفاظ کو لکھ لیتا ہے خواہ وہ الفاظ اچھے ہوں یا برے'' اگر انسان میں یہ بات یقین کی حد تک پیدا ہوجائے تو کیا اس کی زبان سے کسی کی حق تلفی ہوسکتی ہے۔
سورہ مومنین کی آیت 3 میں انسان کی بنیادی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی گئی کہ وہ جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ لغو بہت سارے کام ہوسکتے ہیں لیکن ان میں ایک لایعنی کام زبان کا غلط استعمال ہے۔ یعنی انسان کی بنیادی صفات میں سے ایک لایعنی باتوں سے بچنا بھی ہے خواہ زبان کے ذریعے ہو یا ہاتھ کے ذریعے۔
ترمذی کی روایت کے مطابق رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو خاموش رہا اس نے نجات پالی۔ اس کا مطلب ساری زندگی خاموش رہنا نہیں ہے بل کہ جو لایعنی باتیں ہیں، ان سے روکا گیا ہے۔ بے وقوف انسان جب تک خاموش رہتا ہے، اس کی بے وقوفی پر پردہ پڑا رہتا ہے۔ اس کے بالکل برعکس ایک عقل مند انسان خاموش ہوتا ہے تو وہ غور و فکر کررہا ہوتا ہے۔ جب وہ بولتا ہے تو ذکر کررہا ہوتا ہے اور جب دیکھتا ہے تو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ ایک عقل مند اور بے وقوف انسان میں ٖفرق ہے۔
زبان کے درست استعمال سے اعمال کی اصلاح بھی ہوتی ہے اور یہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بھی بنے گا۔ اس کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے سورہ احزاب میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے اہل ایمان! اﷲ کا تقویٰ اختیار کرو اور سیدھی بات کرو یعنی زبان کا غلط نہیں بل کہ درست استعمال ہونا چاہیے۔ وہ تمہارے اعمال کی اصلاح فرما دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔
زبان کے درست استعمال سے اﷲ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل ہوتی ہے۔ اﷲ اور آخرت پر ایمان کا ایک مظہر یہ ہے کہ انسان خیر کی بات کرے۔ بخاری اور مسلم کی ایک متفق علیہ روایت کے مطابق رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو اﷲ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ زبان سے اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
زبان کے صحیح استعمال پر رسول اکرمؐ نے جنت کی بشارت فرمائی ہے۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت کے مطابق رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ اگر ہم تھوڑا سا غور و فکر کریں اور زبان کے استعمال سے پہلے سوچ لیں کہ ہم زبان سے کیا کہنے جارہے ہیں تو ہم کسی کی دل آزاری سے بچ سکتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ پہلے تولو پھر بولو۔ بولنے سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کسی کے دل پر تیر تو نہیں چلارہے ہیں یا اس کے ذریعے کسی کی حق تلفی تو نہیں ہورہی۔ سورہ سجدہ میں بشارت آئی کہ '' اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو لوگوں کو اﷲ کی طرف بلائے'' یہ زبان کا بہترین استعمال ہے کہ لوگوں کو قرآن کی طرف بلایا جائے اور اس کے احکامات لوگوں تک پہنچائے جائیں۔
ہم دنیا میں زبان کے غلط استعمال سے کسی کا دل دکھا دیتے ہیں اور توبہ و تلافی کی نوبت بھی نہیں آتی کہ موت آجاتی ہے۔ رسول اکرمؐ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام ؓ سے سوال فرمایا کہ میری امت کا مفلس کون ہے؟ صحابہ کرامؓ نے جواب دیا کہ ہم تو مفلس اس کو سمجھتے ہیں کہ جس کے پاس درہم و دینار نہ ہو۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں بل کہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہوگا جو روز قیامت اپنی نمازوں، روزوں اور دیگر عبادات کے ساتھ آئے گا مگر اس نے دنیا میں کسی کا دل بھی دکھایا ہوگا۔ کسی کی حق تلفی بھی کی ہوگی۔
زبان کے ذریعے کسی کے دل پر تیر چلائے ہوں گے اور اس کی بے عزتی کی ہوگی۔ قیامت کے د ن یہ سب لوگ قیامت کے دن کھڑے ہوجائیں گے اور اﷲ تعالیٰ سے انصاف طلب کریں گے۔ اس وقت اس کے پاس درہم و دینار تو نہیں ہوں گے۔ اس شخص کے نیک اعمال اس کے کھاتے سے لیے جائیں گے اور اس کے خلاف شکایت کنندگان کو دے دیے جائیں گے۔ حال یہ ہوگا کہ اس شخص کے نیک اعمال ختم ہوجائیں گے لیکن شکایت کنندگان کے مطالبات ختم نہیں ہوں گے۔ ان کے برے اعمال لے کر اس بدبخت کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور اس کو جہنم واصل کردیا جائے گا۔ لہٰذا زبان کے غلط استعمال سے خدانخواستہ کسی کا دل دکھا ہو تو دنیا میں موقع ہے کہ اس سے معافی تلافی کرلی جائے۔ اس کے لیے اپنی انا کو فنا کرنا پڑے گا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو آخرت کی زندگی میں عظیم خسارے کا سامنا ہوگا۔
رسول اﷲ ﷺ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا کہ اس زبان کے غلط استعمال کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔ اس زبان کے ذریعے ہم ایک بہت ہی گھناؤنا کام کرتے ہیں اور وہ غیبت اور بہتان ہے۔ سورہ حجرات میں جو بڑی برائیاں اﷲ تعالیٰ نے گنوائی ہیں ان میں سے ایک غیبت ہے۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے کہ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے کسی مردہ بھائی کا گوشت کھائے، اس سے تو تمہیں بڑی کراہت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ مثال کیوں دی گئی؟ غیبت یہ ہے کہ کسی انسان میں کوئی برائی ہو اور اسے اس کی غیر موجودی میں بتایا جائے۔ اگر جس برائی کا تذکرہ کیا جارہا ہے وہ اس میں موجود نہیں تو یہ بہتان ہے اور اس کا گناہ غیبت سے بڑھ کر ہے۔
غیبت کی مذکورہ تعریف سے اس مثال کو سمجھیے جو اﷲ تعالیٰ نے دی ہے۔ یہ بڑی بلیغ مثال ہے۔ مردہ جس کا گوشت کھایا جارہا ہو ، اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ اسی طرح کسی کی غیرموجودی میں اگر کسی کی کوئی برائی بیان کی جائے تو وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ اگر اپنے کسی بھائی میں کوئی برائی ہو تو اس سے ملاقات کرکے اسے بتائیے۔ ممکن ہے کہ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔ اس کے امکانات ہوسکتے ہیں۔ ہمیں کسی کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہوجاتی ہے اور ہم اسے آگے بیان کرنا شروع کردیتے ہیں۔ حالاں کہ جس خرابی کا ذکر جو آپ کررہے ہوں، ممکن ہے کہ وہ اس میں ہو ہی نہ۔ اگر اس کی موجودی میں یہ بات کی جاتی تو وہ اپنا دفاع کرسکتا تھا۔ وہ اس بارے میں اپنی وضاحت پیش کرسکتا تھا۔ ہمارا دین یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی میں کوئی خرابی نظر آئے تو اس کا ڈھنڈورا دوسروں کے سامنے نہ پیٹا جائے بل کہ اس سے علیحدگی میں ملاقات کرکے اس کی خرابی کی اصلاح کی جائے۔ تنقید برائے تنقید نہیں بل کہ برائے اصلاح ہونی چاہیے۔
جہنم میں جانے کی ایک وجہ ﷲ تعالیٰ نے سورہ مدثر میں بیان فرمائی ہے کہ وہ فضول گوئی کرنا ہے۔ جہنمی کہتے ہیں کہ ہم فضول باتیں کرنے والوں کے ساتھ فضول گوئی کرتے تھے۔ کسی کا دل دکھایا۔ کسی کی برائیاں بیان کیں۔ کسی کی غیبت کی اور کسی پر بہتان باندھا۔ ایک عام برائی جھوٹ بولنا ہے۔ جھوٹ بول کر بڑے بڑے غبن کیے جاتے ہیں۔ جھوٹ منافقین کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
رسول اﷲ ﷺ نے ایک حدیث میں منافقین کی تین نشانیاں بیان فرمائیں۔ دوسری حدیث میں چوتھی نشانی بھی بیان فرمادی۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے اور جب کسی سے جھگڑا ہوتو گالم گلوچ پر اتر آئے۔ منافق کلمہ گو مسلمان ہی ہوتے ہیں اور ہر دور میں ہوتے ہیں۔ نفاق اتنا گھناؤنا جرم ہے کہ اﷲ کا سب سے زیادہ غضب اسی پر بھڑکتا ہے۔ سورہ نساء میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوں گے۔
آفات لسانی میں دل آزاری بھی شامل ہے۔ ایک صحابی ؓ رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی کہ اﷲ نے نزدیک سب سے اچھا عمل کس کا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کی خدمت کرنا اور اس کی حاجت پوری کرنا۔ صحابی ؓ نے پوچھا کہ اﷲ کے نزدیک سب سے برا عمل کون سا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اپنے مسلمان بھائی کو تکلیف دینا اور اس کی دل آزاری کرنا اﷲ کے نزدیک اتنا بڑا گناہ ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنے ہاتھوں سے کعبۃُاﷲ کو ڈھا دے۔