صدر مرسی اور عدلیہ کے درمیان ٹکراؤ

ہر مسلم حکمران نے نظام اور اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنی حکومت کو استحکام بخشنے کی بھاگ دوڑ کی۔

آئینی مسودہ جاری ہونے کے بعد حکومت مخالف جماعتوں نے بھی مظاہرے شروع کر دیئے۔ فوٹو : اے ایف پی

مصر میں صدر مرسی اور عدلیہ کے درمیان پیدا ہونے والا تنازعہ حل ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

صدر مرسی نے 22 نومبر کو ایک صدارتی فرمان جاری کیا تھا جس کے تحت ان کی حکومت کے فیصلوں کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ اس آئینی مسودے کے تحت صدر کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ جب چاہیں کسی جرنیل' جج یا کسی عہدے دار کو برطرف کر سکتے ہیں۔ اس آئینی مسودہ کے جاری ہونے کے بعد جہاں عدلیہ کی جانب سے مزاحمتی ردعمل سامنے آیا وہاں حکومت مخالف جماعتوں نے بھی اسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مظاہرے شروع کر دیے۔ ان مظاہروں کے دوران متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ حکومت نے ان مظاہروں کو روکنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کیا مگر حکومت مخالف جماعتوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔


عدلیہ نے بھی حکومتی فیصلے کے خلاف ہڑتال کر دی۔ منگل کو سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان نے صدر ڈاکٹر محمد مرسی سے ملاقات کی مگر صدر نے وسیع تر اختیارات کو اپنی ذات میں مرتکز کرنے کے صدارتی حکم نامے کو واپس لینے سے واضح انکار کر دیا جس کے بعد حکومت اور عدلیہ کے درمیان جاری جنگ میں شدت آنا شروع ہو گئی۔ اتوار کو 19 ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے نیا آئینی مسودہ تشکیل دینے والے پینل کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینا تھا مگر صدر مرسی کے ہزاروں حامیوں نے عدالت کا گھیرائو کر لیا اور ججوں کو عمارت میں داخل نہیں ہونے دیا۔ جس پر احتجاج کرتے ہوئے ججوں نے اسے یوم سیاہ قرار دیا اور غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کر دی۔ اس طرح مصر میں حکومت کے حامیوں اور مخالفوں میں نئی رسی کشی شروع ہو گئی ہے۔ مسلم ممالک کا یہ المیہ رہا ہے کہ ہر آنے والا حکمران خواہ وہ آمر ہو یا جمہور کا منتخب نمایندہ ، تمام تر اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کر کے مطلق العنانیت کا لبادہ اوڑھنا چاہتا ہے۔

یہی امر مسلم ممالک کی ترقی کی راہ میں مانع رہا ہے کہ ہر مسلم حکمران نے نظام اور اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنی حکومت کو استحکام بخشنے کی بھاگ دوڑ کی۔ نتیجتاً مسلم دنیا میں انتشار' افراتفری اور سیاسی بے چینی کے چھائے ہوئے مہیب سائے چھٹنے کا نام نہیں لے رہے۔ شام کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔ شامی صدر بشار الاسد نے ملک کو تباہی کے آخری دہانے پر پہنچا دیا ہے مگر وہ اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں۔ پاکستان میں بھی صدر مشرف کے دور میں عدلیہ پر دبائو بڑھایا گیا حتیٰ کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ سے استعفیٰ لینے کی کوشش کی گئی۔ مصر میں جاری بحران حل نہ ہوا اور صدر مرسی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو احتمال ہے کہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان جنم لینے والی یہ محاذ آرائی مصر کو نئے سیاسی بحران سے دوچار کر دے گی اور حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شروع ہونے والا احتجاج ملکی امن و امان کے لیے خطرے کا باعث بن جائے گا۔
Load Next Story