عاشورہ محرم خیریت سے گزرگیا
تاریخی اور ناقابلِ یقین حفاظتی اقدامات کی وجہ سے دہشت گرد اپنے غلیظ اور انسان کش منصوبوں میں کامیاب نہ ہوسکے۔
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
اس سال یکم محرم سے جوحفاظتی اقدامات شروع ہوئے تھے اور 10 محرم تک جس انتہا کو پہنچ گئے ،ان کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،سارا ملک خصوصاً کراچی مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا تھا، دفعہ 144 کا نفاذ، موٹرسائیکل پر پابندی، موبائل سروس مکمل طور پر بند،جلوسوں کے راستے میں آنے والی گلیاں سیل، سیکڑوں ٹینٹ لگا کر راستوں کو بلاک کردینا، جلوس کے راستے میں آنے والی رہائشی عمارتوں کی کھڑکیاں دروازے بند، مکینوں کی اپنے گھروں،بلڈنگوں کی چھتوں پر جانے پر پابندی،جگہ جگہ واک تھروگیٹ،کتّوں کی مدد سے جلوس کے راستوں کی تلاشی،جلوس کے گرد سیکیورٹی فورسزکی تین تین حفاظتی قطاریں،پولیس،رینجرز اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی بھرمار، فوج کو اسٹینڈ بائی رکھنا اور جلوسوں کی فضائی نگرانی۔
ایسا محسوس ہورہا تھا کہ بس قیامت آنے والی ہے۔ پورا شہر ہی نہیں پورا ملک موبائل ٹیلی فونک رابطوں سے اس طرح محروم ہوگیا تھا کہ کسی ایمرجنسی میں سوائے لینڈ فون کے ایک دوسرے سے رابطہ ممکن نہ تھا،شہر ہی نہیں سارے ملک کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی اور ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو اپنے اپنے اسپتالوں میں حاضر رہنے کا حکم تھا۔ اعلیٰ حکام کے غریب خانوں کی طرف جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا تھا۔ اس قسم کے انتظامات اوراحتیاطی تدابیر تو 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران بھی نہیں دیکھی گئیں۔ سوال یہ تھا کہ کیا کوئی بڑا ملک پاکستان پر حملہ کرنے والا تھا یا ہمارا سیارہ کسی اور سیارے سے ٹکرانے والا تھا؟
جی نہیں بات صرف اتنی تھی کہ شر پسند یا دہشت گرد انسانوں کی بستیوں میں گھس آئے اور خوف یہ تھا کہ یہ وحشی کسی وقت بھی کسی جگہ بھی عزاداروں کے ماتمی جلوسوں پر خودکش حملے کرکے پلانٹیڈ بم نصب کرکے بارودی گاڑیاں استعمال کرکے بے گناہ انسانوں کے خون سے اس بہیمانہ طریقے سے ہولی کھیل سکتے ہیں کہ اس ہولناک ہولی میں انسانی اعضاء کا تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ نہ کوئی شخص گھر کے اندر محفوظ نہ گھر کے باہر، کیا یہ وحشی ہندو ہیں، سکھ ہیں، عیسائی ہیں، یہودی ہیں؟ نہیں یہ ملک میں اسلامی نظام قائم کرنے والے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تاریخی اور ناقابلِ یقین حفاظتی اقدامات کی وجہ سے دہشت گرد اپنے غلیظ اور انسان کش منصوبوں میں کامیاب نہ ہوسکے اور اس کامیابی پر ہمارے حکمران خاص طور پر ہمارے وزیر داخلہ رحمن ملک پھولے نہیں سما رہے ہیں، لیکن ابھی محرم کے چالیس دن باقی ہیں اور اسلامی نظام کے نفاذ کا مقدس ٹاسک بھی دہشت گردوں کی اس عجیب وغریب نظریاتی پوٹلی میں رکھا ہوا ہے۔ جس کے لیے یہ لوگ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس کی مثال جنگلوں کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ ان سارے احتیاطی اقدامات کے باوجود ڈیرہ اسماعیل خان، خیبرپختونخوا اور کراچی کے بعض علاقوں میں دور حاضر کے یہ دہشت گرد بے گناہوں کا خون بہانے میں کامیاب رہے۔ اور یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ احتیاط کی ان فولادی دیواروں کے ہٹ جانے کے بعد قتل وغارت کا یہ بے لگام ''بے سمت لیکن بامقصد'' سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائے گا۔
حکمران طبقہ عموماً عقل و دانش سے بے بہرہ ہوتا ہے، اس لیے ہر ملک میں اہل علم اور اہل دانش حکمرانوں کو حکمرانی کے اصول اور گائیڈ لائن فراہم کرتے ہیں، حکمت عملیاں وضع کرکے دیتے ہیں اور ان پر عملدرآمد کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندیاں کرکے بھی دیتے ہیں، لیکن اس ترقی یافتہ جمہوری دور میں عموماً حکمران طبقہ اور حکمران جماعتوں کی اعلیٰ قیادت خود ہی پروڈیوسر، خود ہی ڈائریکٹر، خود ہی ہیرو، خود ہی ولن، خود ہی موسیقار، خود ہی گلوکار ہوتی ہے لہٰذا کسی دانشورانہ رہنمائی، کسی حکمت عملی، کسی منصوبہ بندی کی سرے سے ضرورت ہی نہیں رہتی اور اس عقلِ کل کے نتائج وہی ہوتے ہیں جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔
اور اس پر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ہماری محترم حزب اختلاف کا اولین فرض حزب اقتدار پر ہر طرف سے تنقیدی حملے کرنا ہے۔ حالات خواہ کیسے ہی سنگین ہوں، مسائل خواہ کتنے ہی گمبھیر ہوں، عوام خواہ کتنے ہی غیر محفوظ ہوں، ملک کا مستقبل خواہ داؤ پر ہی کیوں نہ لگا ہوا ہو، حزب اختلاف کا فرض اور اولین ترجیح یہی ہے کہ حکومتوں کے ہر اچھے اور برے کاموں اور اقدامات کی بے جواز مخالفت کریں اور عوام کو مِس گائیڈ کریں۔
اب ذرا صحت کے مسئلے پر ایک نظر۔کراچی میں مچھروں کی بہتات ہے، مچھر ملیریا جیسی خطرناک بیماری پھیلاتا ہے، جب سے مچھروں میں ڈنگی نامی مچھر کا اضافہ ہوا ہے انسانی جانیں اور زیادہ غیر محفوظ ہوکر رہ گئی ہیں، مچھروں سے بچاؤ کے حکمرانی طریقے یہ ہے کہ رات کو کوائل جلائے جائیں، کمرے میں دھواں بھردیا جائے، اسپرے کیا جائے، ہاتھ پاؤں پر لوشن مل لیا جائے، یا مچھر دانیاں استعمال کی جائیں۔ ان احتیاطی تدابیر سے مچھروں کی یلغار کو کم تو کیا جاسکتا ہے روکا نہیں جاسکتا۔ مچھر گندے پانی، گندی نالیوں، گندے علاقوں میں پیدا ہوتے ہیں، گھر کی الماریوں، بیڈ کے نیچے اور پردوں کے پیچھے چھپے رہتے ہیں اور عموماً اندھیرا ہوتے ہی ان پناہ گاہوں سے باہر نکل آتے ہیں اور سوئے ہوئے انسانوں کے جسموں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
جب سے ڈنگی کا دور شروع ہوا ہے انسانی جانیں زیادہ غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔ عقل و دانش، مچھر دانیوں، مچھر کے کوائل، اسپرے اور مچھر دانیوں کو احمقانہ حفاظتی اقدامات سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ عقل و دانش کا تقاضا یہ ہے کہ ان جوہڑوں، گندے پانی کی نالیوں اور ان گندے علاقوں کو ختم کیا جائے یا صاف کیا جائے جو مچھر پیدا کرتے ہیں، لیکن حیرت کی بات یہ ہے بلکہ انکشاف ہے کہ ڈنگی صاف پانی، صاف جگہوں میں پیدا ہوتا ہے، اگر ان ظالموں سے بچنا ہے تو پھر ان تمام جگہوں کو صاف کرنا ہوگا جہاں مچھر پیدا ہوتے ہیں اور پناہ لیتے ہیں۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ اور حزب اختلاف دونوں ہی نمائشی اور مصنوعی طریقوں سے آفات کا مقابلہ کرتے ہیں، ملک بھر میں خصوصاً کراچی میں دفعہ 144، موبائل اور پی ٹی سی ایل سروس پر پابندی، کنٹینر لگا کر راستے بند کرنا، گلیوں کو سیل کرنا، واک تھرو گیٹ لگانا، چپے چپے پر پولیس اور رینجرز لگانا، فضائی نگرانی، ہتھیاروں میں اور بکتر بند گاڑیوں میں اضافے سے بُھس بھرے دماغوں میں تسلّی تو آجاتی ہے، لیکن جن بلاؤں سے بچنے کی یہ تدبیریں کی جارہی ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں، اگر ان سے مستقل حفاظت درکار ہے تو ان کے پیدا ہونے، ان کے پناہ لینے کے مقامات کی صفائی کرنا ہوگی۔
ایسا محسوس ہورہا تھا کہ بس قیامت آنے والی ہے۔ پورا شہر ہی نہیں پورا ملک موبائل ٹیلی فونک رابطوں سے اس طرح محروم ہوگیا تھا کہ کسی ایمرجنسی میں سوائے لینڈ فون کے ایک دوسرے سے رابطہ ممکن نہ تھا،شہر ہی نہیں سارے ملک کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی اور ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو اپنے اپنے اسپتالوں میں حاضر رہنے کا حکم تھا۔ اعلیٰ حکام کے غریب خانوں کی طرف جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا تھا۔ اس قسم کے انتظامات اوراحتیاطی تدابیر تو 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران بھی نہیں دیکھی گئیں۔ سوال یہ تھا کہ کیا کوئی بڑا ملک پاکستان پر حملہ کرنے والا تھا یا ہمارا سیارہ کسی اور سیارے سے ٹکرانے والا تھا؟
جی نہیں بات صرف اتنی تھی کہ شر پسند یا دہشت گرد انسانوں کی بستیوں میں گھس آئے اور خوف یہ تھا کہ یہ وحشی کسی وقت بھی کسی جگہ بھی عزاداروں کے ماتمی جلوسوں پر خودکش حملے کرکے پلانٹیڈ بم نصب کرکے بارودی گاڑیاں استعمال کرکے بے گناہ انسانوں کے خون سے اس بہیمانہ طریقے سے ہولی کھیل سکتے ہیں کہ اس ہولناک ہولی میں انسانی اعضاء کا تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ نہ کوئی شخص گھر کے اندر محفوظ نہ گھر کے باہر، کیا یہ وحشی ہندو ہیں، سکھ ہیں، عیسائی ہیں، یہودی ہیں؟ نہیں یہ ملک میں اسلامی نظام قائم کرنے والے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تاریخی اور ناقابلِ یقین حفاظتی اقدامات کی وجہ سے دہشت گرد اپنے غلیظ اور انسان کش منصوبوں میں کامیاب نہ ہوسکے اور اس کامیابی پر ہمارے حکمران خاص طور پر ہمارے وزیر داخلہ رحمن ملک پھولے نہیں سما رہے ہیں، لیکن ابھی محرم کے چالیس دن باقی ہیں اور اسلامی نظام کے نفاذ کا مقدس ٹاسک بھی دہشت گردوں کی اس عجیب وغریب نظریاتی پوٹلی میں رکھا ہوا ہے۔ جس کے لیے یہ لوگ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس کی مثال جنگلوں کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ ان سارے احتیاطی اقدامات کے باوجود ڈیرہ اسماعیل خان، خیبرپختونخوا اور کراچی کے بعض علاقوں میں دور حاضر کے یہ دہشت گرد بے گناہوں کا خون بہانے میں کامیاب رہے۔ اور یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ احتیاط کی ان فولادی دیواروں کے ہٹ جانے کے بعد قتل وغارت کا یہ بے لگام ''بے سمت لیکن بامقصد'' سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائے گا۔
حکمران طبقہ عموماً عقل و دانش سے بے بہرہ ہوتا ہے، اس لیے ہر ملک میں اہل علم اور اہل دانش حکمرانوں کو حکمرانی کے اصول اور گائیڈ لائن فراہم کرتے ہیں، حکمت عملیاں وضع کرکے دیتے ہیں اور ان پر عملدرآمد کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندیاں کرکے بھی دیتے ہیں، لیکن اس ترقی یافتہ جمہوری دور میں عموماً حکمران طبقہ اور حکمران جماعتوں کی اعلیٰ قیادت خود ہی پروڈیوسر، خود ہی ڈائریکٹر، خود ہی ہیرو، خود ہی ولن، خود ہی موسیقار، خود ہی گلوکار ہوتی ہے لہٰذا کسی دانشورانہ رہنمائی، کسی حکمت عملی، کسی منصوبہ بندی کی سرے سے ضرورت ہی نہیں رہتی اور اس عقلِ کل کے نتائج وہی ہوتے ہیں جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔
اور اس پر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ہماری محترم حزب اختلاف کا اولین فرض حزب اقتدار پر ہر طرف سے تنقیدی حملے کرنا ہے۔ حالات خواہ کیسے ہی سنگین ہوں، مسائل خواہ کتنے ہی گمبھیر ہوں، عوام خواہ کتنے ہی غیر محفوظ ہوں، ملک کا مستقبل خواہ داؤ پر ہی کیوں نہ لگا ہوا ہو، حزب اختلاف کا فرض اور اولین ترجیح یہی ہے کہ حکومتوں کے ہر اچھے اور برے کاموں اور اقدامات کی بے جواز مخالفت کریں اور عوام کو مِس گائیڈ کریں۔
اب ذرا صحت کے مسئلے پر ایک نظر۔کراچی میں مچھروں کی بہتات ہے، مچھر ملیریا جیسی خطرناک بیماری پھیلاتا ہے، جب سے مچھروں میں ڈنگی نامی مچھر کا اضافہ ہوا ہے انسانی جانیں اور زیادہ غیر محفوظ ہوکر رہ گئی ہیں، مچھروں سے بچاؤ کے حکمرانی طریقے یہ ہے کہ رات کو کوائل جلائے جائیں، کمرے میں دھواں بھردیا جائے، اسپرے کیا جائے، ہاتھ پاؤں پر لوشن مل لیا جائے، یا مچھر دانیاں استعمال کی جائیں۔ ان احتیاطی تدابیر سے مچھروں کی یلغار کو کم تو کیا جاسکتا ہے روکا نہیں جاسکتا۔ مچھر گندے پانی، گندی نالیوں، گندے علاقوں میں پیدا ہوتے ہیں، گھر کی الماریوں، بیڈ کے نیچے اور پردوں کے پیچھے چھپے رہتے ہیں اور عموماً اندھیرا ہوتے ہی ان پناہ گاہوں سے باہر نکل آتے ہیں اور سوئے ہوئے انسانوں کے جسموں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
جب سے ڈنگی کا دور شروع ہوا ہے انسانی جانیں زیادہ غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔ عقل و دانش، مچھر دانیوں، مچھر کے کوائل، اسپرے اور مچھر دانیوں کو احمقانہ حفاظتی اقدامات سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ عقل و دانش کا تقاضا یہ ہے کہ ان جوہڑوں، گندے پانی کی نالیوں اور ان گندے علاقوں کو ختم کیا جائے یا صاف کیا جائے جو مچھر پیدا کرتے ہیں، لیکن حیرت کی بات یہ ہے بلکہ انکشاف ہے کہ ڈنگی صاف پانی، صاف جگہوں میں پیدا ہوتا ہے، اگر ان ظالموں سے بچنا ہے تو پھر ان تمام جگہوں کو صاف کرنا ہوگا جہاں مچھر پیدا ہوتے ہیں اور پناہ لیتے ہیں۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ اور حزب اختلاف دونوں ہی نمائشی اور مصنوعی طریقوں سے آفات کا مقابلہ کرتے ہیں، ملک بھر میں خصوصاً کراچی میں دفعہ 144، موبائل اور پی ٹی سی ایل سروس پر پابندی، کنٹینر لگا کر راستے بند کرنا، گلیوں کو سیل کرنا، واک تھرو گیٹ لگانا، چپے چپے پر پولیس اور رینجرز لگانا، فضائی نگرانی، ہتھیاروں میں اور بکتر بند گاڑیوں میں اضافے سے بُھس بھرے دماغوں میں تسلّی تو آجاتی ہے، لیکن جن بلاؤں سے بچنے کی یہ تدبیریں کی جارہی ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں، اگر ان سے مستقل حفاظت درکار ہے تو ان کے پیدا ہونے، ان کے پناہ لینے کے مقامات کی صفائی کرنا ہوگی۔