صوفیاء کرام کے کلام سے عشق ہےہنس راج راہنس
بچپن میں ریڈیو پاکستان سنا کرتاتھا۔ ریڈیو پر موسیقی کے عظیم گائیک اپنے سچے سروں سے سماں باندھ دیتے تھے۔
دوسرے ممالک کی بجائے پاکستان آکر بہت خوش ہوتا ہوں، ہنس راج راہنس۔ فوٹو : فائل
SARGODHA/DG KHAN:
بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے معروف گلوکارہنس راج راہنس نے کہا ہے کہ پاکستان بزرگان دین اورموسیقی کے سمراٹوں کی دھرتی ہے۔
یہاں پربسنے والے لوگ بہت خوش قسمت ہیں جوبرزگان دین کی درگاہوں پرحاضریاں اورموسیقی کے سمراٹوں کو براہ راست پرفارم کرتا دیکھتے ہیں۔ پہلی مرتبہ 1994ء میں پاکستان آیا تھا اوریہاں سے ملنے والے پیارمیں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہواہے۔ بچپن میں ریڈیو پاکستان سنا کرتاتھا جب کہ ٹی وی بھی دیکھا کرتاتھا۔ ریڈیو پر موسیقی کے عظیم گائیک اپنے سچے سروں سے سماں باندھ دیتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ میں دنیا کے دوسرے ممالک کی بجائے پاکستان آکر بہت خوش ہوتاہوں اورباباگرونانک کے درکی حاضری بھی دیتا ہوں۔ ان خیالات کااظہارہنس راج ہنس نے گزشتہ روز ''ایکسپریس''سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہاکہ حضرت بابافریدگنج شکر، حضرت سلطان باہو، بابابلھے شاہ اوربہت سے صوفیاء کرام اسی دھرتی پر رہے اوراس خطے کو امن کا گہوارا بنایا۔ باباگرونانک نے بھی اسی دھرتی پررہے اوران کا گردوارہ بھی پاکستان میں ہے۔ حکومت کی جانب سے سکھ یاتریوں کے لیے خاص انتظامات کیے جاتے ہیں۔
جس کی وجہ سے سکھ برادری بہت خوش ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ہنس راج ہنس نے کہا کہ مجھے صوفیاء کرام کے کلام سے عشق ہے۔ انھوں نے اپنے کلام کے ذریعے محبت، امن، شانتی، بھائی چارے کا پیغام دیا۔
ان صوفیاء کے کلام میں کسی رنگ نسل اورذات کا حوالہ نہیں ہے اورنہ ہی انسانوںکو فرقوں میں تقسیم کیاگیاہے۔ وہ صرف انسانیت کاپیغام دیتے ہیں جوسب سے افضل ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ میوزک کے ساتھ سیاسی مصروفیت بھی رہتی ہے اس کے علاوہ میرے بیٹے بھی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوچکے ہیں اوربطوراداکارکامیابی سے پنجابی فلموں میں اداکاری کے جوہردکھارہے ہیں۔
بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے معروف گلوکارہنس راج راہنس نے کہا ہے کہ پاکستان بزرگان دین اورموسیقی کے سمراٹوں کی دھرتی ہے۔
یہاں پربسنے والے لوگ بہت خوش قسمت ہیں جوبرزگان دین کی درگاہوں پرحاضریاں اورموسیقی کے سمراٹوں کو براہ راست پرفارم کرتا دیکھتے ہیں۔ پہلی مرتبہ 1994ء میں پاکستان آیا تھا اوریہاں سے ملنے والے پیارمیں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہواہے۔ بچپن میں ریڈیو پاکستان سنا کرتاتھا جب کہ ٹی وی بھی دیکھا کرتاتھا۔ ریڈیو پر موسیقی کے عظیم گائیک اپنے سچے سروں سے سماں باندھ دیتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ میں دنیا کے دوسرے ممالک کی بجائے پاکستان آکر بہت خوش ہوتاہوں اورباباگرونانک کے درکی حاضری بھی دیتا ہوں۔ ان خیالات کااظہارہنس راج ہنس نے گزشتہ روز ''ایکسپریس''سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہاکہ حضرت بابافریدگنج شکر، حضرت سلطان باہو، بابابلھے شاہ اوربہت سے صوفیاء کرام اسی دھرتی پر رہے اوراس خطے کو امن کا گہوارا بنایا۔ باباگرونانک نے بھی اسی دھرتی پررہے اوران کا گردوارہ بھی پاکستان میں ہے۔ حکومت کی جانب سے سکھ یاتریوں کے لیے خاص انتظامات کیے جاتے ہیں۔
جس کی وجہ سے سکھ برادری بہت خوش ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ہنس راج ہنس نے کہا کہ مجھے صوفیاء کرام کے کلام سے عشق ہے۔ انھوں نے اپنے کلام کے ذریعے محبت، امن، شانتی، بھائی چارے کا پیغام دیا۔
ان صوفیاء کے کلام میں کسی رنگ نسل اورذات کا حوالہ نہیں ہے اورنہ ہی انسانوںکو فرقوں میں تقسیم کیاگیاہے۔ وہ صرف انسانیت کاپیغام دیتے ہیں جوسب سے افضل ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ میوزک کے ساتھ سیاسی مصروفیت بھی رہتی ہے اس کے علاوہ میرے بیٹے بھی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوچکے ہیں اوربطوراداکارکامیابی سے پنجابی فلموں میں اداکاری کے جوہردکھارہے ہیں۔