خفیہ ایجنسیوں میں موثر رابطے کی ضرورت
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس ہوا۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس ہوا۔ فوٹو؛ فائل
KARACHI:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ہوا جس میں نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ پر پیش رفت کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جو تمام متعلقہ محکموں' وفاقی حکومت اور صوبوں کی ایجنسیوں کے سینئر نمایندگان پر مشتمل ہو گی۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مکمل امن و آشتی کی بحالی حکومت اور تمام ریاستی اداروں کی اولین ترجیح رہے گی' ملک کے ہر کونے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے ملک بھر سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا تھا اور مجرموں کو بروقت سزا دینے کے لیے 2015 میں اکیسویں آئینی ترمیم کے لیے فوجی عدالتیں بنانے کی منظوری دی گئی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے ملک بھر سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہر قطعی اقدام کیا۔ شمال مغربی علاقے میں آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد یہ گمان کیا جانے لگا کہ چونکہ اب دہشت گردوں کا کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم نیست و نابود کرنے کے علاوہ ان کی محفوظ اور طاقتور پناہ گاہیں ختم کر دی گئی ہیں لہٰذا دہشت گرد اب اتنے طاقتور نہیں رہے کہ وہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر اپنی مذموم کارروائیاں کر کے افراتفری پھیلا سکیں اور اگر وہ دوبارہ متحرک بھی ہوئے تو ان کی معدودے چند کارروائیاں زیادہ نقصان کا باعث نہیں بنیں گی۔
قلیل المدت امن سے جنم لینے والی یہ خوش گمانی زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکی اور دہشت گردوں نے ایک بار پھر سے بھرپور کارروائیاں شروع کر دیں لیکن اس بار ان کا بڑا نشانہ بلوچستان بنتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ مبصرین بارہا اس خطرے کی جانب نشاندہی کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں جنم لینے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور افغانستان دونوں کا مشترکہ ہاتھ ہے اور ان کا یہ جوائنٹ وینچر پاکستان کی سلامتی اور اس کی بقا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جس کے سدباب کے لیے روایتی کردار سے ہٹ کر پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔
وطن کے پاسبانوں اور سرفروشوں کو بلوچستان کا مستقبل روشن اور محفوظ بنانے کے لیے یہاں بھی سینہ سپر ہونا پڑے گا۔ مبصرین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ تمام تر کارروائیوں کے باوجود آخر ملک میں امن قائم کیوں نہیں ہو رہا اور دہشت گرد اپنے انجام کو کیوں نہیں پہنچ رہے' آخر وہ کون سی داخلی اور خارجی سطح پر قوتیں ہیں جو ان دہشت گردوں کو کمک پہنچا رہی ہیں۔ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیاں بھی زیربحث لائی گئیں اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ دشمن ایجنسیوں کے عزائم ناکام بنانے کے لیے موجودہ کوششوں کو تیز کیا جائے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گولی کے ساتھ ساتھ نظریاتی محاذ پر بھی حکومت کو اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ ملک میں کچھ ایسی مذہبی اور سیاسی قوتیں بھی متحرک ہیں جو نظریاتی محاذ پر دہشت گردوں کی کارروائیوں کو مہمیز کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جہاں تک نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا تعلق ہے تو کچھ سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ نقطہ اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ اس ایکشن پلان پر اب تک کیا عملدرآمد ہوا اور اس کی کارکردگی کیا رہی۔ ملک میں امن و امان قائم کرنا صرف وفاقی حکومت یا عسکری قیادت ہی کی ذمے داری نہیں بلکہ صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے ماتحت سول اور سیکیورٹی اداروں کو متحرک کرنا ہو گا' نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اسے تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دہشت گردی کی کارروائیوں کے تناظر میں وطن دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی مہارت سے اپنا کھیل کھیل رہی ہیں' ان کا راستہ روکنے کے لیے ملک بھر میں قائم تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مشترکہ اور منظم پلیٹ فارم پر متحرک کرنا ہو گا۔ تمام حکومتی اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو بھی ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے باہمی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانا ہو گا۔ اگر سیاسی جماعتوں نے خطرے کو بھانپنے کے باوجود اب بھی سیاسی اختلافات کو ہوا دے کر قوم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی تو اس کا خمیازہ نہ صرف پوری قوم کو بلکہ انھیں خود بھی بھگتنا پڑے گا۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ہوا جس میں نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ پر پیش رفت کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جو تمام متعلقہ محکموں' وفاقی حکومت اور صوبوں کی ایجنسیوں کے سینئر نمایندگان پر مشتمل ہو گی۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مکمل امن و آشتی کی بحالی حکومت اور تمام ریاستی اداروں کی اولین ترجیح رہے گی' ملک کے ہر کونے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے ملک بھر سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا تھا اور مجرموں کو بروقت سزا دینے کے لیے 2015 میں اکیسویں آئینی ترمیم کے لیے فوجی عدالتیں بنانے کی منظوری دی گئی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے ملک بھر سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہر قطعی اقدام کیا۔ شمال مغربی علاقے میں آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد یہ گمان کیا جانے لگا کہ چونکہ اب دہشت گردوں کا کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم نیست و نابود کرنے کے علاوہ ان کی محفوظ اور طاقتور پناہ گاہیں ختم کر دی گئی ہیں لہٰذا دہشت گرد اب اتنے طاقتور نہیں رہے کہ وہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر اپنی مذموم کارروائیاں کر کے افراتفری پھیلا سکیں اور اگر وہ دوبارہ متحرک بھی ہوئے تو ان کی معدودے چند کارروائیاں زیادہ نقصان کا باعث نہیں بنیں گی۔
قلیل المدت امن سے جنم لینے والی یہ خوش گمانی زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکی اور دہشت گردوں نے ایک بار پھر سے بھرپور کارروائیاں شروع کر دیں لیکن اس بار ان کا بڑا نشانہ بلوچستان بنتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ مبصرین بارہا اس خطرے کی جانب نشاندہی کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں جنم لینے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور افغانستان دونوں کا مشترکہ ہاتھ ہے اور ان کا یہ جوائنٹ وینچر پاکستان کی سلامتی اور اس کی بقا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جس کے سدباب کے لیے روایتی کردار سے ہٹ کر پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔
وطن کے پاسبانوں اور سرفروشوں کو بلوچستان کا مستقبل روشن اور محفوظ بنانے کے لیے یہاں بھی سینہ سپر ہونا پڑے گا۔ مبصرین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ تمام تر کارروائیوں کے باوجود آخر ملک میں امن قائم کیوں نہیں ہو رہا اور دہشت گرد اپنے انجام کو کیوں نہیں پہنچ رہے' آخر وہ کون سی داخلی اور خارجی سطح پر قوتیں ہیں جو ان دہشت گردوں کو کمک پہنچا رہی ہیں۔ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیاں بھی زیربحث لائی گئیں اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ دشمن ایجنسیوں کے عزائم ناکام بنانے کے لیے موجودہ کوششوں کو تیز کیا جائے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گولی کے ساتھ ساتھ نظریاتی محاذ پر بھی حکومت کو اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ ملک میں کچھ ایسی مذہبی اور سیاسی قوتیں بھی متحرک ہیں جو نظریاتی محاذ پر دہشت گردوں کی کارروائیوں کو مہمیز کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جہاں تک نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا تعلق ہے تو کچھ سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ نقطہ اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ اس ایکشن پلان پر اب تک کیا عملدرآمد ہوا اور اس کی کارکردگی کیا رہی۔ ملک میں امن و امان قائم کرنا صرف وفاقی حکومت یا عسکری قیادت ہی کی ذمے داری نہیں بلکہ صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے ماتحت سول اور سیکیورٹی اداروں کو متحرک کرنا ہو گا' نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اسے تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دہشت گردی کی کارروائیوں کے تناظر میں وطن دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی مہارت سے اپنا کھیل کھیل رہی ہیں' ان کا راستہ روکنے کے لیے ملک بھر میں قائم تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مشترکہ اور منظم پلیٹ فارم پر متحرک کرنا ہو گا۔ تمام حکومتی اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو بھی ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے باہمی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانا ہو گا۔ اگر سیاسی جماعتوں نے خطرے کو بھانپنے کے باوجود اب بھی سیاسی اختلافات کو ہوا دے کر قوم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی تو اس کا خمیازہ نہ صرف پوری قوم کو بلکہ انھیں خود بھی بھگتنا پڑے گا۔