سائبر کرائم قانون پر مبنی ترمیم شدہ بل کی منظوری

قومی اسمبلی میں سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے ترمیم شدہ بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے ترمیم شدہ بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے ترمیم شدہ بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے جس کی متعدد شقوں کو بنیادی انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے منافی قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ارکان نے شدید احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے رواں سال اپریل میں بل کا پہلا مسودہ منظور کیا تھا تاہم سینیٹ کے اس پر تحفظات اور مشاورت کے بعد اس میں 55 ترامیم کر کے مسودہ دوبارہ قومی اسمبلی کو بھجوایا گیا تھا۔

انٹرنیٹ پر ہونے والے بے تحاشا جرائم، دھوکا دہی اور لوٹ مار کے علاوہ سوشل میڈیا پر بے لگام طوفان بدتمیزی، آزادی اظہار کی آڑ میں ذاتیاتی کردار کشی اور منافرت پھیلانے کے واقعات کے تناظر میں ضروری تھا کہ سائبر کرائمز پر قانون کا بل جلد سے جلد منظور کر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے جرائم پیشہ اور منفی ذہنیت کے حامل بے مہار عناصر کو نکیل ڈالی جائے تاہم اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز، سیاسی جماعتوں اور دیگر عوامل سے مشاورت ضروری تھی تا کہ ہر جانب سے تحفظات کو دور کرتے ہوئے کوئی ابہام نہ چھوڑا جاتا۔ بل ضروری ہے تاہم اپوزیشن کے اعتراضات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ بہرحال وزیرمملکت برائے آئی ٹی کا کہنا بالکل صائب ہے کہ اس بل سے خودکشیاں کم ہوں گی۔


کیونکہ انٹرنیٹ کے غلط استعمال نے کئی زندگی کے چراغ گل کیے ہیں۔ سائبر کرائم بل پر خدشات اپنی جگہ لیکن یہ بات قابل اطمینان ہے کہ تمام سائبر جرائم میں گرفتاری یا کارروائی سے پہلے عدالت سے اجازت لینا ضروری ہو گا، جب کہ اس حوالے سے قائم کی جانے والی خصوصی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔

بل مخالفین یہ خدشات کہ سوشل سرگرمیوں پر پابندی، آزادی اظہار رائے پر قدغن ہو گی اس تناظر میں درست نہیں کہ بل میں آزادی اظہار پر نہیں بلکہ ذاتیات پر حملے اور کردار کشی پر پابندی لگائی گئی ہے۔ سائبر کرائم بل کو خوش آیند قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اب بھی کئی پہلو ایسے ہیں جس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے، خاص پر انٹرنیٹ پر جعلی آئی ڈیز کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے، ان جعلی آئی ڈیز کے ذریعے بھی نہ صرف جرائم جنم لے رہے ہیں بلکہ اخلاق باختہ اور فحاشی پر مبنی نظریات و مواد کا پرچار بھی کیا جا رہا ہے۔ سائبر کرائم بل میں ان نکات پر بھی توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔
Load Next Story